Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #54 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.9K Views

مریض کے روزوں کے مسائل / کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت یے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مریض کے روزوں کے مسائل / کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت یے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

مریض کے روزوں کے مسائل / کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت یے

حضور مفتی نظام الدین قادری مصباحی صاحب قبلہ بعدہ عرض ہے کہ ایک ایسا شخص کہ جس کا معدہ خراب ھے جیسے ہی غزا معدے سے ختم ھوتی ھے سر میں درد ھو جاتاھے اسکے لیے روزہ کے متعلق کیا فتوی ھے؟ المستفتی ،منظور احمد گورسی ساکنہ سرینگر کشیمر الجواب: مریض کے روزوں کے مسائل اگر غذا سے معدہ خالی ہونے کے سبب ہلکامعمولی سر درد ہو تو یہ روزہ نہ رکھنے کے بارے میں شرعا عذر نہیں ہے ۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ ایسا شخص تھوڑی مشقت برداشت کرے اور روزے رکھے ۔ علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اما المشقة التی تنفک عنہا العبادات غالبا، فعلی مراتب: الاولی: مشقة عظیمة فادحة، کمشقة الخوف علی النفوس والاطراف ومنافع الاعضاء، فہی موجبة للتخفیف۔ الثانیة: مشقة خفیفة، کادنی وجع فی اصبع او ادنی صداع فی الراس او سوء مزاج خفیف، فہذا لا اثر لہ، ولا التفات الیہ؛ لان تحصیل مصالح العبادات اولی من ہذہ المفسدة التی لا اثر لہ” (الاشباہ والنظائر: القاعدة الخامسة، الفائدة الاولی) ہاں! اگر ہلکا اورمعمولی سر درد نہ ہو بلکہ معدہ خالی ہونے کی حالت میں زیادہ سر درد کاایسا تجربہ ہو کہ جب بھی اور جس موسم میں بھی روزہ رکھا تو زیادہ سر درد ہوا ہے ۔ تو ایسے شخص کے لیے یہ اجازت ہوگی کہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی مقدار کسی محتاج فقیر کو فدیہ دیدے ۔ یا کسی محتاج فقیر کو ہر روزہ کے بدلے میں اتنے ہی دنوں کی تعداد میں صبح وشام دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلادے،مثلا انتیس دن کا رمضان ہوا تو انتیس دن اور تیس دن کا ہوا تو تیس دن ۔ لیکن اگر بعد میں یہ تکلیف ختم ہوگئی تو یہ فدیہ صدقہ نافلہ ہوجائے گا اور جتنے روزے نہیں رکھے اتنے روزوں کی قضا لازم ہوگی ۔ ۔درمختار میں ہے : ” وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر، ویفدی” (ج٣ ص۴١٠) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: (قَوْلُهُ وَلِلشَّيْخِ الْفَانِي) أَيْ الَّذِي فَنِيَتْ قُوَّتُهُ أَوْ أَشْرَفَ عَلَى الْفِنَاءِ، وَلِذَا عَرَّفُوهُ بِأَنَّهُ الَّذِي كُلَّ يَوْمٍ فِي نَقْصٍ إلَى أَنْ يَمُوتَ نَهْرٌ، وَمِثْلُهُ مَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ الْكَرْمَانِيِّ: الْمَرِيضُ إذَا تَحَقَّقَ الْيَأْسُ مِنْ الصِّحَّةِ فَعَلَيْهِ الْفِدْيَةُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِنْ الْمَرَضِ اهـ(ردالمحتارج٣ ص۴١٠) اسی میں ہے :(العاجز عن الصوم) ای: عجزا مستمرا کما یاتی ۔ اما لو لم یقدر علیہ لشدة الحر کان لہ ان یفطر ویقضیہ فی الشتاء، فتح” (رد المحتار ج٣ ص۴١٠) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی۔ ٣/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ//١٦/اپریل ٢٠٢١ء نوٹ: مزید جانکاری کے لیے درج ذیل سوال وجواب بھی پڑھیں

مریض کے روزوں کے مسائل

(مسئلہ نمبر18) استاذ گرامی وقار حضرت مفتی نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ ہندہ جسے دو دفعہ ہارٹ اٹیک آچکا ہے اور سوگر کی مریضہ بھی ہے جس کی وجہ سے وہ تین سال سے رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھ پا رہی ہے ۔ اور عاقل بالغ ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع بھی کیا ہے ایسی حالت میں اس کے لئے حکم شرع کیا ہے۔ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔ محمد دانش انور علیمی۔بانکا بہار الجواب: اگر خود اس عورت کا ذاتی تجربہ ہے کہ جب بھی اس نے روزہ رکھا ہے تو روزہ سے اس کو ضرر ہوا ہے( یعنی مثلا بیماری میں شدت آئی ہے)یا کسی ایسے مسلمان ماہر طبیب نے روزہ رکھنا اس کے لیے ضرر رساں بتایا ہوجس طبیب کا ظاہر حال خلاف شرع نہ ہو ۔ اور بیماری بھی ایسی ہو جس سے شفا یابی کی امید نہ ہوتو ایسے مرض والی کے لیے یہ رخصت ہے کہ وہ ہر روزہ رمضان کے بدلے ایک صدقہ فطر کی مقدارکسی محتاج مستحق زکاة کو فدیہ کے طور پر ادا کردیا کرے ۔ لیکن اس صدقہ فطر سے روزہ کا فدیہ ادا ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ سال کے کسی موسم میں بیماری کے سبب روزہ نہ رکھ سکے ۔ اور عاجزی کی یہ حالت اس کی موت تک باقی رہے ۔ ورنہ اگرمثلا رمضان گرمی کے موسم میں پڑنے کے وقت بیماری کے سبب روزہ رکھنا مضر ہو لیکن ٹھنڈک کے موسم میں جب دن چھوٹا ہوتا ہے روزہ رکھ سکتی ہو تو لازم ہے کہ روزوں کی قضا کرے اور صدقہ دینا روزوں کے فدیہ کے لیے کافی نہیں ۔ یوں ہی اگر بیماری بالفرض ختم ہوگئی اور روزہ کی طاقت آگئی تب بھی صدقہ کافی نہیں ہوگا۔ اور اگر صدقہ ادا کیا جاچکا ہے تو طاقت آجانے پر وہ صدقہ، نفلی صدقہ میں تبدیل ہوجائے گا۔ اور روزوں کی قضا لازم ہوگی ۔ درمختار میں ہے : ” وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر، ویفدی” (ج٣ ص۴١٠) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: (قَوْلُهُ وَلِلشَّيْخِ الْفَانِي) أَيْ الَّذِي فَنِيَتْ قُوَّتُهُ أَوْ أَشْرَفَ عَلَى الْفِنَاءِ، وَلِذَا عَرَّفُوهُ بِأَنَّهُ الَّذِي كُلَّ يَوْمٍ فِي نَقْصٍ إلَى أَنْ يَمُوتَ نَهْرٌ، وَمِثْلُهُ مَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ الْكَرْمَانِيِّ: الْمَرِيضُ إذَا تَحَقَّقَ الْيَأْسُ مِنْ الصِّحَّةِ فَعَلَيْهِ الْفِدْيَةُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِنْ الْمَرَضِ اهـ(ردالمحتارج٣ ص۴١٠) اسی میں ہے :(العاجز عن الصوم) ای: عجزا مستمرا کما یاتی۔ اما لو لم یقدر علیہ لشدة الحر کان لہ ان یفطر ویقضیہ فی الشتاء، فتح” (رد المحتار ج٣ ص۴١٠) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ہاں یہ بات کہ فلاں امر ضرر دے گا کسی کافر یاکُھلے فاسق یا ناقص طبیب کے بتائے سے ثابت نہیں ہوسکتی ۔ یا تو خود اپنا تجربہ ہوکہ نقصان ہوتاہے یاکوئی صاف علامت ایسی موجود ہو جس سے واقعی ظن غالب نقصان کا ہو ۔ یاطبیب حاذق مسلم مستور بتائے جس کا کوئی فسق ظاہر نہ ہو ” (فتاوی رضویہ ج٢ ص ٧ نسخہ دعوت اسلامی ایپ) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو یا خادم و خادمہ کو ناقابل برداشت ضعف کا غالب گمان ہو تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں ۔ ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے محض وہم ناکافی ہے ۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں : (۱) اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یا (۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا (۳) کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اُس کی خبر دی ہو اور اگر نہ کوئی علامت ہو نہ تجربہ نہ اس قسم کے طبیب نے اُسے بتایا ،بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب کے کہنے سے افطار کر لیا تو کفارہ لازم آئے گا”(بہار شریعت حصہ ۵ ) اسی میں ہے : “شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔ اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں بوجہ گرمی کے روزہ نہیں رکھ سکتا، مگر جاڑوں میں رکھ سکے گا تو اب افطار کرلے اور اُن کے بدلے کے جاڑوں میں رکھنا فرض ہے۔ اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقۂ نفل ہوکر رہ گیا ان روزوں کی قضا رکھے۔(بہارشریعت حصہ ۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی غرة شہر رمضان المبارک ١۴۴٢ھ// ١۴/اپریل ٢٠٢١ء

روزہ دار بواسیر کے علاج کے لیے اِنیما کرائے تو روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟

دل کے مریضوں کا زبان کے نیچے ٹکیا رکھنا مفسد صوم ہے یا نہیں؟

Kutubahu & Verified by:

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ <h2>مریض کے روزوں کے مسائل / کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت یے</h2> حضور مفتی نظام الدین قادری مصباحی صاحب قبلہ بعدہ عرض ہے کہ ایک ایسا شخص کہ جس کا معدہ خراب ھے جیسے ہی غزا معدے سے ختم ھوتی ھے سر میں درد ھو جاتاھے اسکے لیے روزہ کے متعلق کیا فتوی ھے؟ المستفتی ،منظور احمد گورسی ساکنہ سرینگر کشیمر الجواب: مریض کے روزوں کے مسائل اگر غذا سے معدہ خالی ہونے کے سبب ہلکامعمولی سر درد ہو تو یہ روزہ نہ رکھنے کے بارے میں شرعا عذر نہیں ہے ۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ ایسا شخص تھوڑی مشقت برداشت کرے اور روزے رکھے ۔ علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "اما المشقة التی تنفک عنہا العبادات غالبا، فعلی مراتب: الاولی: مشقة عظیمة فادحة، کمشقة الخوف علی النفوس والاطراف ومنافع الاعضاء، فہی موجبة للتخفیف۔ الثانیة: مشقة خفیفة، کادنی وجع فی اصبع او ادنی صداع فی الراس او سوء مزاج خفیف، فہذا لا اثر لہ، ولا التفات الیہ؛ لان تحصیل مصالح العبادات اولی من ہذہ المفسدة التی لا اثر لہ" (الاشباہ والنظائر: القاعدة الخامسة، الفائدة الاولی) ہاں! اگر ہلکا اورمعمولی سر درد نہ ہو بلکہ معدہ خالی ہونے کی حالت میں زیادہ سر درد کاایسا تجربہ ہو کہ جب بھی اور جس موسم میں بھی روزہ رکھا تو زیادہ سر درد ہوا ہے ۔ تو ایسے شخص کے لیے یہ اجازت ہوگی کہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلے میں ایک صدقہ فطر کی مقدار کسی محتاج فقیر کو فدیہ دیدے ۔ یا کسی محتاج فقیر کو ہر روزہ کے بدلے میں اتنے ہی دنوں کی تعداد میں صبح وشام دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلادے،مثلا انتیس دن کا رمضان ہوا تو انتیس دن اور تیس دن کا ہوا تو تیس دن ۔ لیکن اگر بعد میں یہ تکلیف ختم ہوگئی تو یہ فدیہ صدقہ نافلہ ہوجائے گا اور جتنے روزے نہیں رکھے اتنے روزوں کی قضا لازم ہوگی ۔ ۔درمختار میں ہے : " وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر، ویفدی" (ج٣ ص۴١٠) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: (قَوْلُهُ وَلِلشَّيْخِ الْفَانِي) أَيْ الَّذِي فَنِيَتْ قُوَّتُهُ أَوْ أَشْرَفَ عَلَى الْفِنَاءِ، وَلِذَا عَرَّفُوهُ بِأَنَّهُ الَّذِي كُلَّ يَوْمٍ فِي نَقْصٍ إلَى أَنْ يَمُوتَ نَهْرٌ، وَمِثْلُهُ مَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ الْكَرْمَانِيِّ: الْمَرِيضُ إذَا تَحَقَّقَ الْيَأْسُ مِنْ الصِّحَّةِ فَعَلَيْهِ الْفِدْيَةُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِنْ الْمَرَضِ اهـ(ردالمحتارج٣ ص۴١٠) اسی میں ہے :(العاجز عن الصوم) ای: عجزا مستمرا کما یاتی ۔ اما لو لم یقدر علیہ لشدة الحر کان لہ ان یفطر ویقضیہ فی الشتاء، فتح" (رد المحتار ج٣ ص۴١٠) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی۔ <em><strong>٣/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ//١٦/اپریل ٢٠٢١ء</strong></em> نوٹ: مزید جانکاری کے لیے درج ذیل سوال وجواب بھی پڑھیں <h3>مریض کے روزوں کے مسائل</h3> (مسئلہ نمبر18) استاذ گرامی وقار حضرت مفتی نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ ہندہ جسے دو دفعہ ہارٹ اٹیک آچکا ہے اور سوگر کی مریضہ بھی ہے جس کی وجہ سے وہ تین سال سے رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھ پا رہی ہے ۔ اور عاقل بالغ ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع بھی کیا ہے ایسی حالت میں اس کے لئے حکم شرع کیا ہے۔ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔ محمد دانش انور علیمی۔بانکا بہار الجواب: اگر خود اس عورت کا ذاتی تجربہ ہے کہ جب بھی اس نے روزہ رکھا ہے تو روزہ سے اس کو ضرر ہوا ہے( یعنی مثلا بیماری میں شدت آئی ہے)یا کسی ایسے مسلمان ماہر طبیب نے روزہ رکھنا اس کے لیے ضرر رساں بتایا ہوجس طبیب کا ظاہر حال خلاف شرع نہ ہو ۔ اور بیماری بھی ایسی ہو جس سے شفا یابی کی امید نہ ہوتو ایسے مرض والی کے لیے یہ رخصت ہے کہ وہ ہر روزہ رمضان کے بدلے ایک صدقہ فطر کی مقدارکسی محتاج مستحق زکاة کو فدیہ کے طور پر ادا کردیا کرے ۔ لیکن اس صدقہ فطر سے روزہ کا فدیہ ادا ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ سال کے کسی موسم میں بیماری کے سبب روزہ نہ رکھ سکے ۔ اور عاجزی کی یہ حالت اس کی موت تک باقی رہے ۔ ورنہ اگرمثلا رمضان گرمی کے موسم میں پڑنے کے وقت بیماری کے سبب روزہ رکھنا مضر ہو لیکن ٹھنڈک کے موسم میں جب دن چھوٹا ہوتا ہے روزہ رکھ سکتی ہو تو لازم ہے کہ روزوں کی قضا کرے اور صدقہ دینا روزوں کے فدیہ کے لیے کافی نہیں ۔ یوں ہی اگر بیماری بالفرض ختم ہوگئی اور روزہ کی طاقت آگئی تب بھی صدقہ کافی نہیں ہوگا۔ اور اگر صدقہ ادا کیا جاچکا ہے تو طاقت آجانے پر وہ صدقہ، نفلی صدقہ میں تبدیل ہوجائے گا۔ اور روزوں کی قضا لازم ہوگی ۔ درمختار میں ہے : " وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر، ویفدی" (ج٣ ص۴١٠) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: (قَوْلُهُ وَلِلشَّيْخِ الْفَانِي) أَيْ الَّذِي فَنِيَتْ قُوَّتُهُ أَوْ أَشْرَفَ عَلَى الْفِنَاءِ، وَلِذَا عَرَّفُوهُ بِأَنَّهُ الَّذِي كُلَّ يَوْمٍ فِي نَقْصٍ إلَى أَنْ يَمُوتَ نَهْرٌ، وَمِثْلُهُ مَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ الْكَرْمَانِيِّ: الْمَرِيضُ إذَا تَحَقَّقَ الْيَأْسُ مِنْ الصِّحَّةِ فَعَلَيْهِ الْفِدْيَةُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِنْ الْمَرَضِ اهـ(ردالمحتارج٣ ص۴١٠) اسی میں ہے :(العاجز عن الصوم) ای: عجزا مستمرا کما یاتی۔ اما لو لم یقدر علیہ لشدة الحر کان لہ ان یفطر ویقضیہ فی الشتاء، فتح" (رد المحتار ج٣ ص۴١٠) <em>امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:</em> "ہاں یہ بات کہ فلاں امر ضرر دے گا کسی کافر یاکُھلے فاسق یا ناقص طبیب کے بتائے سے ثابت نہیں ہوسکتی ۔ یا تو خود اپنا تجربہ ہوکہ نقصان ہوتاہے یاکوئی صاف علامت ایسی موجود ہو جس سے واقعی ظن غالب نقصان کا ہو ۔ یاطبیب حاذق مسلم مستور بتائے جس کا کوئی فسق ظاہر نہ ہو " (فتاوی رضویہ ج٢ ص ٧ نسخہ دعوت اسلامی ایپ) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: " مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمان غالب ہو یا خادم و خادمہ کو ناقابل برداشت ضعف کا غالب گمان ہو تو ان سب کو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھیں ۔ ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے محض وہم ناکافی ہے ۔ غالب گمان کی تین صورتیں ہیں : (۱) اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے یا (۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا (۳) کسی مسلمان طبیب حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اُس کی خبر دی ہو اور اگر نہ کوئی علامت ہو نہ تجربہ نہ اس قسم کے طبیب نے اُسے بتایا ،بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب کے کہنے سے افطار کر لیا تو کفارہ لازم آئے گا"(بہار شریعت حصہ ۵ ) اسی میں ہے : "شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقۂ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔ اگر ایسا بوڑھا گرمیوں میں بوجہ گرمی کے روزہ نہیں رکھ سکتا، مگر جاڑوں میں رکھ سکے گا تو اب افطار کرلے اور اُن کے بدلے کے جاڑوں میں رکھنا فرض ہے۔ اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقۂ نفل ہوکر رہ گیا ان روزوں کی قضا رکھے۔(بہارشریعت حصہ ۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔یوپی غرة شہر رمضان المبارک ١۴۴٢ھ// ١۴/اپریل ٢٠٢١ء <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=238" rel="bookmark">روزہ دار بواسیر کے علاج کے لیے اِنیما کرائے تو روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=240" rel="bookmark">دل کے مریضوں کا زبان کے نیچے ٹکیا رکھنا مفسد صوم ہے یا نہیں؟</a></h2>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...