Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1856 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.6K Views

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے ? از مفتی صدام حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے ? از مفتی صدام حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مزنیہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ مفتی صاحب ایک مسئلہ درپیش ہے رہنمائی فرمائیں مفتی صاحب میرا ایک دوست ہے ایک عورت سے پچھلے دس سالوں سے اس کے ناجائز تعلقات تھے ناجائز طور پر اس نے اس کو ہاتھ لگا یا اور اس عورت کی ایک جوان بیٹی بھی ہے جس کی عمر بیس سال سے زیادہ ہے اب وہ شخص اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے جس پہ وہ عورت بھی راضی ہے تو کیا وہ نکاح کرسکتا ہے ؟ المستفتی عبد الماجد ملتان پاکستان۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا نکاح کرنا حرام ہے کہ مزنیہ عورت کے اصول و فروع سے نکاح حرام ہے۔ علامہ علاء الدين حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” و حرم أيضا بالصهرية اصل مزنيته اراد بالزني الوطي الحرام. وفروعهن مطلقاً ” اه‍ ملخصا (درمختار مع رد المحتار ، ج٤، ص١٠٧، کتاب النکاح ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) حضور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید اس نکاح سے پہلے ہندہ کو ناجائز طور پر ہاتھ لگا چکاتھا تو اس کا یہ نکاح کہ ہندہ کی بیٹی سے کیا گیا محض ناجائز وحرام ہوا، اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے دست بردار ہو ” اھ (فتاوی رضویہ جدید ،ج١١، ص٣٢٦، کتاب النکاح ، باب المحرمات ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>مزنیہ کی بیٹی سے نکاح حرام ہے</h2> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ مفتی صاحب ایک مسئلہ درپیش ہے رہنمائی فرمائیں مفتی صاحب میرا ایک دوست ہے ایک عورت سے پچھلے دس سالوں سے اس کے ناجائز تعلقات تھے ناجائز طور پر اس نے اس کو ہاتھ لگا یا اور اس عورت کی ایک جوان بیٹی بھی ہے جس کی عمر بیس سال سے زیادہ ہے اب وہ شخص اس کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے جس پہ وہ عورت بھی راضی ہے تو کیا وہ نکاح کرسکتا ہے ؟ المستفتی عبد الماجد ملتان پاکستان۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں شخص مذکور کا نکاح کرنا حرام ہے کہ مزنیہ عورت کے اصول و فروع سے نکاح حرام ہے۔ علامہ علاء الدين حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: " و حرم أيضا بالصهرية اصل مزنيته اراد بالزني الوطي الحرام. وفروعهن مطلقاً " اه‍ ملخصا (درمختار مع رد المحتار ، ج٤، ص١٠٧، کتاب النکاح ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) حضور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید اس نکاح سے پہلے ہندہ کو ناجائز طور پر ہاتھ لگا چکاتھا تو اس کا یہ نکاح کہ ہندہ کی بیٹی سے کیا گیا محض ناجائز وحرام ہوا، اس پر فرض ہے کہ فورا اس سے دست بردار ہو " اھ (فتاوی رضویہ جدید ،ج١١، ص٣٢٦، کتاب النکاح ، باب المحرمات ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...