Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1422 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.9K Views

مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟

مسافر مقتدی اگر مقیم کی اقتدا میں چار رکعت فرض نماز پڑھے تو کتنی رکعت کی نیت کرے گا دو یا چار کی؟ سائل : محمد نظام الدین بلرام پور الجواب بعون الملک الوھاب مذکورہ صورت میں مقتدی چار رکعت فرض کی نیت کرے گا، کیوں کہ مقیم کی اقتدا کی وجہ سے اس پر بھی چار رکعتیں فرض ہوگئیں، لہٰذا وہ چار ہی کی نیت کرے گا. بہار شریعت میں ہے: وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہوگئے یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے اور جن نمازوں میں قصر نہیں ان میں وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اقتدا کرسکتا ہے وقت میں اقتدا کی تھی نماز پوری کرنے سے پہلے وقت ختم ہوگیا جب بھی اقتدا صحیح ہے۔ (ح چہارم ص ٧٥٤ مسافر کی نماز کا بیان) اور اگر چاہے تو اس وقت کے فرضِ کی نیت کرے، نیت میں تعداد رکعات معین کرنا ضروری نہیں. فتاوی شامی میں ہے : “وَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ عِنْدَ النِّيَّةِ) ۔ (لِفَرْضٍ) أَنَّهُ ظُهْرٌ أَوْ عَصْرٌ ۔ (وَوَاجِبٍ) أَنَّهُ وِتْرٌ أَوْ نَذْرٌ ۔ (دُونَ) تَعْيِينِ (عَدَدِ رَكَعَاتِهِ) لِحُصُولِهَا ضِمْنًا، فَلَا يَضُرُّ الْخَطَأُ فِي عَدَدِهَا”. (ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة ١/ ٤١٨–٤٢٠) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٨ رجب ١٤٤٣/ ٢٠ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا ؟</h2> مسافر مقتدی اگر مقیم کی اقتدا میں چار رکعت فرض نماز پڑھے تو کتنی رکعت کی نیت کرے گا دو یا چار کی؟ سائل : محمد نظام الدین بلرام پور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> مذکورہ صورت میں مقتدی چار رکعت فرض کی نیت کرے گا، کیوں کہ مقیم کی اقتدا کی وجہ سے اس پر بھی چار رکعتیں فرض ہوگئیں، لہٰذا وہ چار ہی کی نیت کرے گا. بہار شریعت میں ہے: وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہوگئے یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے اور جن نمازوں میں قصر نہیں ان میں وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اقتدا کرسکتا ہے وقت میں اقتدا کی تھی نماز پوری کرنے سے پہلے وقت ختم ہوگیا جب بھی اقتدا صحیح ہے۔ (ح چہارم ص ٧٥٤ مسافر کی نماز کا بیان) اور اگر چاہے تو اس وقت کے فرضِ کی نیت کرے، نیت میں تعداد رکعات معین کرنا ضروری نہیں. فتاوی شامی میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ عِنْدَ النِّيَّةِ) ۔ (لِفَرْضٍ) أَنَّهُ ظُهْرٌ أَوْ عَصْرٌ ۔ (وَوَاجِبٍ) أَنَّهُ وِتْرٌ أَوْ نَذْرٌ ۔ (دُونَ) تَعْيِينِ (عَدَدِ رَكَعَاتِهِ) لِحُصُولِهَا ضِمْنًا، فَلَا يَضُرُّ الْخَطَأُ فِي عَدَدِهَا".</strong></span> (ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة ١/ ٤١٨–٤٢٠) واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٨ رجب ١٤٤٣/ ٢٠ فروری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...