Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1452 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.2K Views

مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دو رکعت ہے یا ایک رکعت کی صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دو رکعت ہے یا ایک رکعت کی صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دو رکعت ہے یا ایک رکعت کی صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ مسافر نے مقیم امام کی اقتداء کی اخیر والی دو رکعتیں اس نے پالی تو اب کتنی ادا کرے اور صرف ایک رکعت پایا، یا قعدہ اخیرہ پایا تو کتنی رکعتیں ادا کرے ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ مسافر نے جب مقیم امام کی اقتدا کی تو وہ بھی مقیم کے حق میں ہوگیا چار رکعت نماز ادا کرے گا. فتاوی ہندیہ ” الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر” میں ہے “وان اقتدی مسافر بمقیم اتم اربعا” ١ھ. (ج١ صفحہ ١٤٢) اور جب اس کو دو رکعت ملی ہے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد فاتحہ اور سورہ کے ساتھ دو رکعت پڑھ کر اپنی نماز پوری کرے اور جب ایک رکعت پایا ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو اگر پہلے ثنا نہیں پڑھا تو ثنا پڑھے پھر تعوذ پھر تسمیہ پھر فاتحہ اور سورہ پڑھے پھررکوع سجود کے بعد قعدہ کرے اس کے بعد کھڑا ہو اور ایک رکعت سورہ فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھ کر پوری کرے اب اس کی ایک رکعت اور رہ گئی ہے اس میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھے اور رکوع سجود کرکے نماز پوری کرے اور صرف قعدہ اخیرہ پایا تو چار رکعتیں پوری کرے دو میں سورت ملائے اور دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے. در مختار میں ہے ” والمسبوق من سبقه الامام بها او ببعضها وهو منفرد حتى يثنى ويتعوذ ويقرا و يقضي اول صلاته في حق قراءۃ وآخرها في حق تشهد، فمدرك ركعۃ من غير فجر یاتي بركعتين بفاتحۃ وسورۃ وتشهد بينهما و برابعه الرباعي بفاتحۃ فقط ولا يقعد قبلها الا في اربع. ١ھ ملخصا. رد المحتار میں ہے ” والمسبوق من سبقه الامام بها) ای بكل ركعات او ببعضها حتى يثنی منفرد فيما يقضيه بعد فراغ امامه فياتي بالثناء والتعوذ لانه للقراءه ويقرا لانه يقضي اول صلاته في حق القراءۃ ولو ادركه في ركعۃ الرباعي يقضي رکعۃ بفاتحۃ وسورۃ وتشھد ثم ركعتين اولاھما بفاتحۃ وسورۃ وثانيتهما بفاتحۃ خاصۃ “١ھ ملخصا. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد صابر حسین فیضی

Kutubahu & Verified by:

<h3>مسافر نے مقیم کے پیچھے آخر کی دو رکعت ہے یا ایک رکعت کی صرف قعدہ اخیرہ پایا تو نماز کیسے پوری کرے ؟</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ مسافر نے مقیم امام کی اقتداء کی اخیر والی دو رکعتیں اس نے پالی تو اب کتنی ادا کرے اور صرف ایک رکعت پایا، یا قعدہ اخیرہ پایا تو کتنی رکعتیں ادا کرے ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مسافر نے جب مقیم امام کی اقتدا کی تو وہ بھی مقیم کے حق میں ہوگیا چار رکعت نماز ادا کرے گا. فتاوی ہندیہ " الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر" میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong> "وان اقتدی مسافر بمقیم اتم اربعا"</strong></span> ١ھ. (ج١ صفحہ ١٤٢) اور جب اس کو دو رکعت ملی ہے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد فاتحہ اور سورہ کے ساتھ دو رکعت پڑھ کر اپنی نماز پوری کرے اور جب ایک رکعت پایا ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو اگر پہلے ثنا نہیں پڑھا تو ثنا پڑھے پھر تعوذ پھر تسمیہ پھر فاتحہ اور سورہ پڑھے پھررکوع سجود کے بعد قعدہ کرے اس کے بعد کھڑا ہو اور ایک رکعت سورہ فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھ کر پوری کرے اب اس کی ایک رکعت اور رہ گئی ہے اس میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھے اور رکوع سجود کرکے نماز پوری کرے اور صرف قعدہ اخیرہ پایا تو چار رکعتیں پوری کرے دو میں سورت ملائے اور دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے. <span style="color: #ff0000;"><strong>در مختار میں ہے " والمسبوق من سبقه الامام بها او ببعضها وهو منفرد حتى يثنى ويتعوذ ويقرا و يقضي اول صلاته في حق قراءۃ وآخرها في حق تشهد، فمدرك ركعۃ من غير فجر یاتي بركعتين بفاتحۃ وسورۃ وتشهد بينهما و برابعه الرباعي بفاتحۃ فقط ولا يقعد قبلها الا في اربع. ١ھ ملخصا.</strong></span> <strong>رد المحتار میں ہے " والمسبوق من سبقه الامام بها) ای بكل ركعات او ببعضها حتى يثنی منفرد فيما يقضيه بعد فراغ امامه فياتي بالثناء والتعوذ لانه للقراءه ويقرا لانه يقضي اول صلاته في حق القراءۃ ولو ادركه في ركعۃ الرباعي يقضي رکعۃ بفاتحۃ وسورۃ وتشھد ثم ركعتين اولاھما بفاتحۃ وسورۃ وثانيتهما بفاتحۃ خاصۃ "١ھ ملخصا.</strong> واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد صابر حسین فیضی

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...