Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1582
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.5K Views
مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں کس طرح پڑھے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں کس طرح پڑھے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں کس طرح پڑھے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں کس طرح پڑھے گا؟ (سائل محمد ثقلین رضا عطاری) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ اَلْجَـوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب واضح رہے کہ جماعت میں شریک مقتدی جس کی کچھ رکعتیں نکل گئی ہوں مسبوق کہلاتا ہے ۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد فوت شدہ رکعتوں کی ادائیگی کا طریقہ درج زیل ہے اگر چاروں رکعتیں نکل گئی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق کھڑا ہوکر اس طرح اپنی نماز پڑھے گا جس طرح منفرد یعنی اکیلا شخص نماز پڑھتا ہے یعنی کھڑا ہوکر پہلی رکعت میں ثناء تعوذ و تسمیہ کے بعد قراءت کرے گا اور حسب معمول بقیہ نماز عام طریقۂ کار سے مکمل کرے- اور اگر اس کی تین رکعتیں چھوٹی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکر پہلی رکعت کی طرح ایک رکعت ادا کرے اس میں قعدہ بھی کرے پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت سورۂ فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے اس میں قعدہ نہیں کرے گا پھر اس کے بعد ایک اور رکعت سورۂ فاتحہ پڑھ کر ادا کرے- اور اگر دو رکعتیں نکلی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکر دو رکعتیں سورۂ فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے جس کی پہلی رکعت میں ثناء تعوذ اور تسمیہ بھی پڑھےگا- اگر مغرب کی نماز میں دو رکعتیں رہ گئی ہوں تو اپنی ایک رکعت ادا کرنے کے بعد قعدہ بھی کرنا ہوگا- اگر ایک رکعت نکلی ہوتو کھڑا ہوکر ثناء تعوذ اور تسمیہ کے بعد سورۂ فاتحہ اور سورت کی قراءت کرکے رکعت مکمل کرے گا_ مختصر فتاویٰ اہلسنت قسط1صفحہ41 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ- واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
Kutubahu & Verified by:
<h2>مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں کس طرح پڑھے ؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں کس طرح پڑھے گا؟ (سائل محمد ثقلین رضا عطاری) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَـوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَھَّاب</strong></span> واضح رہے کہ جماعت میں شریک مقتدی جس کی کچھ رکعتیں نکل گئی ہوں مسبوق کہلاتا ہے ۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد فوت شدہ رکعتوں کی ادائیگی کا طریقہ درج زیل ہے اگر چاروں رکعتیں نکل گئی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق کھڑا ہوکر اس طرح اپنی نماز پڑھے گا جس طرح منفرد یعنی اکیلا شخص نماز پڑھتا ہے یعنی کھڑا ہوکر پہلی رکعت میں ثناء تعوذ و تسمیہ کے بعد قراءت کرے گا اور حسب معمول بقیہ نماز عام طریقۂ کار سے مکمل کرے- اور اگر اس کی تین رکعتیں چھوٹی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکر پہلی رکعت کی طرح ایک رکعت ادا کرے اس میں قعدہ بھی کرے پھر کھڑا ہو کر ایک رکعت سورۂ فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے اس میں قعدہ نہیں کرے گا پھر اس کے بعد ایک اور رکعت سورۂ فاتحہ پڑھ کر ادا کرے- اور اگر دو رکعتیں نکلی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوکر دو رکعتیں سورۂ فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے جس کی پہلی رکعت میں ثناء تعوذ اور تسمیہ بھی پڑھےگا- اگر مغرب کی نماز میں دو رکعتیں رہ گئی ہوں تو اپنی ایک رکعت ادا کرنے کے بعد قعدہ بھی کرنا ہوگا- اگر ایک رکعت نکلی ہوتو کھڑا ہوکر ثناء تعوذ اور تسمیہ کے بعد سورۂ فاتحہ اور سورت کی قراءت کرکے رکعت مکمل کرے گا_ مختصر فتاویٰ اہلسنت قسط1صفحہ41 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ- واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...