Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #697
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.4K Views
مسجد حرام او مسجد نبوی کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسجد حرام او مسجد نبوی کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسجد حرام او مسجد نبوی کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
سوال : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حرمین شریفین کے لئے حکمران کا انتخاب من جانب اللہ ہوتا ہے اس لیے وہاں کے وہابی امام کے پیچھے نماز پڑھنی چاہیے، اور اگر ان کے پیچھے نماز صحیح نہ تو لازم آئے گا کہ عرصہ دراز سے مسجد حرام اور مسجد نبوی بے نمازی ہوں ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پھر تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ عرصہ دراز تک وہاں شیعوں کے ایک خاص فرقے قرامطہ کی حکومت تھی تو ان کا انتخاب بھی منجانب اللہ ہوا لہذا ان کے پیچھے بھی نماز ہونی چاہیے بلکہ ایک زمانے تک مکہ شریف پر مشرکوں کا تسلط تھا اور کعبۃ اللہ شریف میں سینکڑوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی تو ان کی امامت کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟ پھر ہمارے قبلہ اول بیت المقدس پر آج بھی یہودیوں کی حکومت ہے تو چاہیئے یہ انتخاب بھی من جانب اللہ ہو اور ان کے پیچھے بھی نماز صحیح ہو ایسی بے تکی دلیل اور غلط موقف سے عقل والوں کو بچنا چاہیے ۔ یوں ہی یہ بات بھی بیجا ہے کہ وہابی امام کے پیچھے نماز صحیح نہ ہو تو مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف کا نماز و عبادت سے خالی رہنا لازم آئے گا کیوں کہ ان مساجد میں روزانہ بہت سے علما و قراء وحفاظ الگ سے نماز قائم کرتے اور نماز ادا کرتے ہیں جو دیکھنا چاہے وہاں جاکر اوقات نماز میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں اور انفرادی طور پر نماز پڑھنے والے تو بے شمار ہوتے ہیں ۔ ہم اہل حق اہلسنت و جماعت انبیاء اور اولیاء کو بارگاہ الہی میں وسیلہ بناتے اور اسے قبولیت دعا کے لئے مستحسن جانتے ہیں جب کہ وہابی وسیلہ بنانے کو شرک اور وسیلہ کے قائلین کو مشرک کہتے ہیں تو جو ہم مسلمانوں کو عقیدہ حقہ رکھنے کی وجہ سے مشرک کہے اس کے پیچھے ہماری نمازیں ہرگز صحیح نہیں ہو سکتیں حدیث نبوی کا مضمون ہے کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے، ایسے میں ان کی اقتدا میں اہل سنت و جماعت کی نماز کیسے درست ہوگی؟ نماز کے صحیح ہونے کی بنیاد عقیدے کی خرابی پر ہے نہ کہ حرمین شریفین کا حکمران ہونے نہ ہونے پر اللہ تعالی سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔ و اللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>مسجد حرام او مسجد نبوی کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے</h2> سوال : کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حرمین شریفین کے لئے حکمران کا انتخاب من جانب اللہ ہوتا ہے اس لیے وہاں کے وہابی امام کے پیچھے نماز پڑھنی چاہیے، اور اگر ان کے پیچھے نماز صحیح نہ تو لازم آئے گا کہ عرصہ دراز سے مسجد حرام اور مسجد نبوی بے نمازی ہوں ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> پھر تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ عرصہ دراز تک وہاں شیعوں کے ایک خاص فرقے قرامطہ کی حکومت تھی تو ان کا انتخاب بھی منجانب اللہ ہوا لہذا ان کے پیچھے بھی نماز ہونی چاہیے بلکہ ایک زمانے تک مکہ شریف پر مشرکوں کا تسلط تھا اور کعبۃ اللہ شریف میں سینکڑوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی تو ان کی امامت کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟ پھر ہمارے قبلہ اول بیت المقدس پر آج بھی یہودیوں کی حکومت ہے تو چاہیئے یہ انتخاب بھی من جانب اللہ ہو اور ان کے پیچھے بھی نماز صحیح ہو ایسی بے تکی دلیل اور غلط موقف سے عقل والوں کو بچنا چاہیے ۔ یوں ہی یہ بات بھی بیجا ہے کہ وہابی امام کے پیچھے نماز صحیح نہ ہو تو مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف کا نماز و عبادت سے خالی رہنا لازم آئے گا کیوں کہ ان مساجد میں روزانہ بہت سے علما و قراء وحفاظ الگ سے نماز قائم کرتے اور نماز ادا کرتے ہیں جو دیکھنا چاہے وہاں جاکر اوقات نماز میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں اور انفرادی طور پر نماز پڑھنے والے تو بے شمار ہوتے ہیں ۔ ہم اہل حق اہلسنت و جماعت انبیاء اور اولیاء کو بارگاہ الہی میں وسیلہ بناتے اور اسے قبولیت دعا کے لئے مستحسن جانتے ہیں جب کہ وہابی وسیلہ بنانے کو شرک اور وسیلہ کے قائلین کو مشرک کہتے ہیں تو جو ہم مسلمانوں کو عقیدہ حقہ رکھنے کی وجہ سے مشرک کہے اس کے پیچھے ہماری نمازیں ہرگز صحیح نہیں ہو سکتیں حدیث نبوی کا مضمون ہے کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے، ایسے میں ان کی اقتدا میں اہل سنت و جماعت کی نماز کیسے درست ہوگی؟ نماز کے صحیح ہونے کی بنیاد عقیدے کی خرابی پر ہے نہ کہ حرمین شریفین کا حکمران ہونے نہ ہونے پر اللہ تعالی سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔ و اللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...