Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1329 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.8K Views

مسجد کاسامان اجرت پر دینا مفتی محمد ارشد حسین فیضی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسجد کاسامان اجرت پر دینا مفتی محمد ارشد حسین فیضی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسجد کاسامان اجرت پر دینا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کا سامان اجرت پر دے کر مدرسے میں استعمال کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا. المستفتی:محمد عرفان احمد بھجواری سدھارتھ نگر الجواب بعون الملک الوھاب موقوفہ اشیاء میں اصل چیز واقف کی منشاء ہے عام کتب فقہ میں ہے“شرط الواقف کنص الشارع” اس حکم کی روشنی میں مسئلہ یہ ہوگا کہ اگر مسجد کا سامان دینے والوں نے دیتے وقت کرایہ پر دینے کی اجازت دے دی ہو یا متولی نے مسجد کی آمدنی سے اس خیال سے خریدا ہو کہ مسجد کا بھی کام چلے گا اور کرایہ پر بھی جائے گا بشرطیکہ وقف سے متولی کو ایسے تصرف کی اجازت ہو یا کرایہ پر دینے کے لیے چندہ کرکے خریدا گیا ہو تو کرایہ پر دینا جائز ہے. اور اگر وقف کرنے والوں نے یا متولئ مسجد نے صرف مسجد کی ضروریات کے لیے لیا ہو تو کرایہ پر دینا جائز نہیں بلکہ حرام ہے فتاویٰ رضویہ میں ہے”لمپ،فرش، دری، چٹائی اور یونہی بتی بھی اگر اس سے مراد خاص شمعدان ہو اگر کرایہ پر دینے کے لیے وقف ہوں تو متولی دے سکتا ہے مگر وہ جو مسجد پر اس کے استعمال میں آنے کے لیے وقف ہیں انھیں کرایہ پر دینا حرام لینا حرام کہ جو چیزیں جس غرض کے لیے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائز ہے اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدے کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہے”اھ ملخصاً(ج٦ص٤٥٥،کتاب الوقف) اسی میں ہے” اوقاف میں شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہوتی ہے اور اس میں بلاشرط واقف یا اجازت خاصۂ شرعیہ کوئی تغير وتبدل جائز نہیں”اھ(ج٦ص٣٥٠،کتاب الوقف) ایک جگہ پر مال وقف کو کرایہ پر دینے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں”حرام حرام بوجوہ حرام اگرچہ مسلمان کو جائز کار دنیوی کے لیے کرائے پر دیتے ہیں”(فتاویٰ رضویہ ج٦ص٤٦٦،کتاب الوقف) ہاں اگر مسجد کو حاجت شدیدہ ہو مثلاً مرمت کی ضرورت ہے اور روپیہ نہیں ہے تو بمجبوری اس کا مال، اسباب اتنے دنوں کرایہ پر دے سکتے ہیں جس میں وہ ضرورت پوری ہوجائے جب ضرورت نہ رہے پھر ناجائز وحرام ہوجائے گا، ایسا ہی فتاویٰ رضویہ ج٦ص٤٥٥، کتاب الوقف میں ہے. خلاصۃ الفتاوی میں ہے“ولایواجر فرس السبیل الا اذا احتیج الی النفقۃ فیواجر بقدر ماینفق وھذہ المسئلۃ دلیل علی ان المسجد اذا احتاج الی النفقۃ یواجر قطعۃ منہ بقدر ماینفق علیہ”اھ (ج٤ص٤١٨،کتاب الوقف،الفصل الثالث فی صحۃ الوقف، جنس آخرفی وقف المنقول، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبـــــــــــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسجد کاسامان اجرت پر دینا کیسا ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کا سامان اجرت پر دے کر مدرسے میں استعمال کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا. المستفتی:محمد عرفان احمد بھجواری سدھارتھ نگر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> موقوفہ اشیاء میں اصل چیز واقف کی منشاء ہے عام کتب فقہ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"شرط الواقف کنص الشارع"</strong></span> اس حکم کی روشنی میں مسئلہ یہ ہوگا کہ اگر مسجد کا سامان دینے والوں نے دیتے وقت کرایہ پر دینے کی اجازت دے دی ہو یا متولی نے مسجد کی آمدنی سے اس خیال سے خریدا ہو کہ مسجد کا بھی کام چلے گا اور کرایہ پر بھی جائے گا بشرطیکہ وقف سے متولی کو ایسے تصرف کی اجازت ہو یا کرایہ پر دینے کے لیے چندہ کرکے خریدا گیا ہو تو کرایہ پر دینا جائز ہے. اور اگر وقف کرنے والوں نے یا متولئ مسجد نے صرف مسجد کی ضروریات کے لیے لیا ہو تو کرایہ پر دینا جائز نہیں بلکہ حرام ہے فتاویٰ رضویہ میں ہے"لمپ،فرش، دری، چٹائی اور یونہی بتی بھی اگر اس سے مراد خاص شمعدان ہو اگر کرایہ پر دینے کے لیے وقف ہوں تو متولی دے سکتا ہے مگر وہ جو مسجد پر اس کے استعمال میں آنے کے لیے وقف ہیں انھیں کرایہ پر دینا حرام لینا حرام کہ جو چیزیں جس غرض کے لیے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائز ہے اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدے کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہے"اھ ملخصاً(ج٦ص٤٥٥،کتاب الوقف) اسی میں ہے" اوقاف میں شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہوتی ہے اور اس میں بلاشرط واقف یا اجازت خاصۂ شرعیہ کوئی تغير وتبدل جائز نہیں"اھ(ج٦ص٣٥٠،کتاب الوقف) ایک جگہ پر مال وقف کو کرایہ پر دینے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں"حرام حرام بوجوہ حرام اگرچہ مسلمان کو جائز کار دنیوی کے لیے کرائے پر دیتے ہیں"(فتاویٰ رضویہ ج٦ص٤٦٦،کتاب الوقف) ہاں اگر مسجد کو حاجت شدیدہ ہو مثلاً مرمت کی ضرورت ہے اور روپیہ نہیں ہے تو بمجبوری اس کا مال، اسباب اتنے دنوں کرایہ پر دے سکتے ہیں جس میں وہ ضرورت پوری ہوجائے جب ضرورت نہ رہے پھر ناجائز وحرام ہوجائے گا، ایسا ہی فتاویٰ رضویہ ج٦ص٤٥٥، کتاب الوقف میں ہے. خلاصۃ الفتاوی میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>"ولایواجر فرس السبیل الا اذا احتیج الی النفقۃ فیواجر بقدر ماینفق وھذہ المسئلۃ دلیل علی ان المسجد اذا احتاج الی النفقۃ یواجر قطعۃ منہ بقدر ماینفق علیہ"</strong><strong>اھ </strong></span>(ج٤ص٤١٨،کتاب الوقف،الفصل الثالث فی صحۃ الوقف، جنس آخرفی وقف المنقول، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...