01
The questionSawaal
اصل سوالمسجد کا سامان محفل میلاد النبی صلی ﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں استعمال کرنا کیسا؟
02
The responseAl-Jawab
مسجد کا سامان محفل میلاد النبی صلی ﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں استعمال کرنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین مسئلہ درج ذیل کے متعلق آج کل جو بھی میلاد النبی کا انعقاد کیا جاتا ہے چاہے ذاتی ہو یا پہر جماعت کی طرف سے اس میں زیادہ تر دیکھا جاتا ہے مسجد کی چٹائی یا پھر مسجد کا مائک استعمال میں لایا جا تا ہے تو میلاد النبی کی محفل میں مسجد کا سامان استعمال میں لانا شریعت کی رو سے کس حد تک درست ہے۔ المستفتی محمد مشرف حسین بسم الله الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب مسجد کا کوئی سامان کسی دوسرے کام میں لانا درست نہیں ہے۔ بہار شریعت میں حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں “اھ مسجد کی اشیاء مثلاً لوٹا،چٹائی وغیرہ کوکسی دوسرے غرض میں استعمال نہیں کر سکتے ہیں”اھ (ج٢ح١٠صفحہ٨٤، فاروقیہ بکڈپو) ہاں اگر مسجد کا مائیک،چٹائی وغیرہ وقف ہے اور وقف کرنے والے نے وقف کے وقت اس کی اجازت دی ہے تو استمعال کرسکتے ہیں کما فی متون کتب الفقہیہ” شرط الواقف كنص الشارع في وجوب العمل به”اھ اسی کے مثل فتاویٰ فقیہ ملت ج٢ص١٧٤ باب في المسجد میں ہے۔ والله اعلم باصواب کتبہ: محمد سیف علی الفیضی ١شوال المکرم ١٤٤٣ھ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.