Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1275
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.1K Views
مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟
سوال :کیامسجد کی دیوار پر کسی دوکان یا کمپنی کا advertisement یعنی اشتہار لگانے کی بالمعاوضہ اجازت دی جاسکتی ہے؟ سائل: محمد سہیل مہراج گنج یوپی انڈیا. الجواب اللھم اجعل لی النور والصواب دیوار مسجد جزء مسجد ہے اور مسجد بجمیع اجزائہ اللہ تعالی کی ہے کہ ارشاد باری تعالی ہے: “ان المسٰجد للہ”(الجن:١۸) لہذا کسی مسلمان کو ہرگز یہ حق نہیں کہ دیوار مسجد پر کسی دوکان یا کمپنی کے اشتہار لگانے کی اجازت دے چاہے بالمعاوضہ ہو یا بلامعاوضہ بہر صورت ناجائز. البحرالرائق ج:٥ ص: ٤٢١ (دارالكتب العلمية) ، فتاوي قاضی خان ج: ٣ ص:١٦٨ (دارالكتب العلمية) ، الدرالمختار مع ردالمحتار ج:٦ ص:٥٤٨(دارعالم الكتب) میں ہے:- واللفظ من البحر- “لایجوز للقیم ان یجعل شیئا من المسجد مستغلا ولا مسکنا”اھ. یعنی متولی کوجائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو نفع کمانے یابسنے کی جگہ بنائے ۔ ردالمحتار علی الدرالمختار ج:٦ ص:٥٤۸ میں ہے: “والمراد من المستغل ان یوجر منہ شیئ لاجل عمارتہ”اھ. یعنی مستغل سے مراد یہ ہیکہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ پر دیاجائے کہ اس پر خرچ کیا جائے ۔ فتاوی مفتی اعظم ج:٣ ص:١٥۸ میں ہے: “بعد تمام مسجدیت دیوار مسجد کو کسي کام میں نہیں لاسکتے اگرچہ مسجد کے مصالح کےلئے جو اوقاف میں ہوں ان میں”اھ. اورص:١٥٥ پر ہے: “مسجد کی دیوار کو اپنےاستعمال میں لانا حرام ہے”اھ ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب الجواب صحيح : مفتي نظام الدين عليمي صدر شعبہ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمده شاہی بستي يوپي الہند کتبہ: گدائے حضوررئيس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء
Kutubahu & Verified by:
<h2>مسجد کی دیوار پر اشتہار لگانا یا لگوانا کیسا ہے ؟</h2> سوال :کیامسجد کی دیوار پر کسی دوکان یا کمپنی کا advertisement یعنی اشتہار لگانے کی بالمعاوضہ اجازت دی جاسکتی ہے؟ سائل: محمد سہیل مہراج گنج یوپی انڈیا. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم اجعل لی النور والصواب</strong></span> دیوار مسجد جزء مسجد ہے اور مسجد بجمیع اجزائہ اللہ تعالی کی ہے کہ ارشاد باری تعالی ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"ان المسٰجد للہ"</strong></span>(الجن:١۸) لہذا کسی مسلمان کو ہرگز یہ حق نہیں کہ دیوار مسجد پر کسی دوکان یا کمپنی کے اشتہار لگانے کی اجازت دے چاہے بالمعاوضہ ہو یا بلامعاوضہ بہر صورت ناجائز. البحرالرائق ج:٥ ص: ٤٢١ (دارالكتب العلمية) ، فتاوي قاضی خان ج: ٣ ص:١٦٨ (دارالكتب العلمية) ، الدرالمختار مع ردالمحتار ج:٦ ص:٥٤٨(دارعالم الكتب) میں ہے:- <span style="color: #ff0000;"><strong>واللفظ من البحر- "لایجوز للقیم ان یجعل شیئا من المسجد مستغلا ولا مسکنا"اھ.</strong></span> یعنی متولی کوجائز نہیں کہ مسجد کے کسی حصہ کو نفع کمانے یابسنے کی جگہ بنائے ۔ ردالمحتار علی الدرالمختار ج:٦ ص:٥٤۸ میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"والمراد من المستغل ان یوجر منہ شیئ لاجل عمارتہ"اھ.</strong></span> یعنی مستغل سے مراد یہ ہیکہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ پر دیاجائے کہ اس پر خرچ کیا جائے ۔ فتاوی مفتی اعظم ج:٣ ص:١٥۸ میں ہے: "بعد تمام مسجدیت دیوار مسجد کو کسي کام میں نہیں لاسکتے اگرچہ مسجد کے مصالح کےلئے جو اوقاف میں ہوں ان میں"اھ. اورص:١٥٥ پر ہے: "مسجد کی دیوار کو اپنےاستعمال میں لانا حرام ہے"اھ ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : مفتي نظام الدين عليمي صدر شعبہ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمده شاہی بستي يوپي الہند</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: گدائے حضوررئيس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...