01
The questionSawaal
اصل سوالمسجد کے علاوہ کسی مکان یا خانقاہ میں جمعہ قائم کرنا کیسا ہے
02
The responseAl-Jawab
مسجد کے علاوہ کسی مکان یا خانقاہ میں جمعہ قائم کرنا کیسا ہے
بخدمت اقدس حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مسجد کے علاوہ کسی مکان یا خانقاہ میں جمعہ قائم کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا . المستفتی: فریاد خان نظامی انوار رضا مسجد بڑی دمن۔ الجواب بعون الملک الوھاب سلطان اسلام یا اس کے نائب کی اجازت سے مسجد یا مکان یا خانقاہ میں جمعہ قائم کرنا جائز ہے،جمعہ کے لئے مسجد ہونا شرط نہیں، ہاں غیر مسجد میں جمعہ پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا. قرآن مجید میں ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(الجمعۃ:۹) اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو. حدیث شریف میں ہے : جمِّعُوا حَيْثُ كُنْتُمْ»( أخرجه ابنُ أبي شيبة في «مصنَّفه» ٥٠٦٨ عن أبي هريرة رضي الله عنه ) مصنف ابن ابی شیبہ میں سند صحیح کے ساتھ روایت ہے : «كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ [صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فِي هَذِهِ المِيَاهِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ يُجَمِّعُونَ»( أخرجه ابنُ أبي شيبة في «مصنَّفه» ٥٠٧١) امام اہل سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : مگر جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دیدیا جائے لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو کافی، امام نسفی میں ہے السلطان اذا ارادان یصلی بحشمه فی دارہ فان فتح بابھا واذن للناس اذنا عاما جازت تو اگر صورت یہ تھی وہ لوگ مصیب ہوئے ہاں اگر وہاں مسجد جمعہ موجود تھی اس میں نماز نہ ہوئی اور گھر میں قائم کی تو کراہت ہوئی در مختار میں ہے لودخل السیر قصرہ واغلق بابه وصلی باصحابه لم تنعقد ولو فتحه واذن للناس بالدخول جاز وکرہ ردالمحتار میں ہے لانہ لم یقض حق المسجد الجامع زیلعی ودرر، اور اگر کوئی شرط جمعہ مفقود تھی مثلاََ وہ جگہ مصر یا فنائے مصر نہ تھی یا امام امام جمعہ نہ تھا یا بعض نمازیوں کو بلا وجہ شرعی وہاں نماز کے آنے سے ممانعت تھی یا نمازیوں میں وہاں اقامت جمعہ مشہور نہ تھی بطور خود ان لوگوں نے پڑھ لی اور عام اطلاع نہ ہوئی اگرچہ کسی کو آنے سے ممانعت بھی نہ کی اگرچہ لوگوں نے اور مسجدوں میں پڑھی تو ان صورتوں میں انکی نماز نہ ہوئی الخ ملخصاً(فتاویٰ رضویہ ٣/ ٧٥٥) ہاں مسجد چھوڑ کر بلا ضرورت یہاں وہاں جگہ جگہ جمعہ قائم کرنے سے بچنا چاہیے، اور اگر مسجد جامع میں جمعہ نہ ہو اور تمام شرطوں کے ساتھ کسی مکان وغیرہ میں قائم کیا جائے تو ایسا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ اوپر گزرا، بہار شریعت میں ہے : شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو سکتا ہے، خواہ وہ شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں میں ہو یا زیادہ۔ (درمختار وغیرہ) مگر بلا ضرورت بہت سی جگہ جمعہ قائم نہ کیا جائے کہ جمعہ شعائر اسلام سے ہے اور جامع جماعات ہے اور بہت سی مسجدوں میں ہونے سے وہ شوکت اسلامی باقی نہیں رہتی جو اجتماع میں ہوتی، نیز دفع حرج کے لیے تعدد جائز رکھا گیا ہے تو خواہ مخواہ جماعت پراگندہ کرنا اور محلہ محلہ جمعہ قائم کرنا نہ چاہیے۔ نیز ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا یہ ناجائز ہے، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے، اس کا بیان آگے آتا ہے اور جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنی صحیح العقیدہ ہو، احکام شرعیہ جاری کرنے میں سُلطان اسلام کے قائم مقام ہے، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہوسکتا اور یہ بھی نہ ہو تو عام لوگ جس کو امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دو چار شخص کسی کو امام مقرر کر لیں ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔(حصہ چہارم ٧٦٩) واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی ١٩ شوال ١٤٤٣/ ٢١ مئی ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.