Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1904
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.8K Views
مسجد کے پیسہ سے امام کے لئے حجرہ بنانا کیسا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسجد کے پیسہ سے امام کے لئے حجرہ بنانا کیسا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسجد کے پیسہ سے امام کے لئے حجرہ بنانا کیسا ہے؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ مسجد کی رقم سے امام کے لٸے حجرہ تعمیر کرسکتے ہیں ؟ المستفتی: مولانا اسرار فیضی گونڈہ یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں مسجد کی رقم خاص مسجد میں استعمال کے لئے نہ ہو اور مسجد کی تعمیر وغیرہ سے فاضل بچ گئی ہو تو اس سے امام کے لئے حجرہ تعمیر کرسکتے ہیں کہ یہ مصالح مسجد سے ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” ثم ماهو اقرب لعمارته اي فان انتهت عمارته وفضل من الغلة شيئ يبدأ بما هو اقرب للعمارة…..واعم للمصلحة كالامام للمسجد و المدرس للمدرسة يصرف اليهم الي قدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذالك الي آخر المصالح هذا اذا لم يكن معيناً فان كان الوقف معيناً علي شيئ يصرف اليه بعد عمارة البناء ” اھ (رد المحتار علی الدر المختار ملخصاً، ج٦، ص٥٦٠، کتاب الوقف، مطلب يبدأ بعد العمارة بما هو اقرب اليها ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) یعنی: پھر جو عمارت ( آباد کارئ) مسجد سے قریب تر ہو یعنی جب مسجد کی تعمیر ہوچکی اور کچھ آمدنی باقی بچ گئی تو اسے عمارت (آباد کارئ) مسجد سے قریب تر میں صرف کیا جائے گا..اور عام مصالح مسجد میں بقدر کفایت صرف کیا جائے گا جیسے مسجد کے امام اور مدرسہ کے مدرس کے لئے پھر چراغ فرش وغیرہ مصالح میں، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ وقف متعین نہ ہو پس اگر وقف متعین ہو کسی شئ کے لئے تو عمارت بنانے کے بعد اسی میں صرف کیا جائے گا۔ مفتی جلال الدین احمد امجدی تحریر فرماتے ہیں: “تعمیری سامان یا اس کے لئے روپیہ اگر کسی نے صرف تعمیر مسجد کے لئے دیا ہے تو وہ سامان کسی بھی طرح تعمیر مسجد ہی میں صرف کیا جائےگا۔ مسجد کے مصالح میں اسے صرف نہیں کر سکتے اور اگر مسجد کے عام مصالح کے لئے دیا ہے تو اس سے مکان دکان یا وضو خانہ وغیرہ جو چاہیں تعمیر کر سکتے ہیں۔” اھ (فتاوی فیض الرسول ، ج٢، ص٣٢٦، کتاب الوقف، فصل فی المسجد ، مطبوعہ اکبر بک سیلرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔وہابی سے چندہ لینا اس کے لئے دعا کرنا اسے مسجد ومدرسہ میں لگانا کیسا؟
کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>مسجد کے پیسہ سے امام کے لئے حجرہ بنانا کیسا ہے؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ مسجد کی رقم سے امام کے لٸے حجرہ تعمیر کرسکتے ہیں ؟ المستفتی: مولانا اسرار فیضی گونڈہ یوپی انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں مسجد کی رقم خاص مسجد میں استعمال کے لئے نہ ہو اور مسجد کی تعمیر وغیرہ سے فاضل بچ گئی ہو تو اس سے امام کے لئے حجرہ تعمیر کرسکتے ہیں کہ یہ مصالح مسجد سے ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: " ثم ماهو اقرب لعمارته اي فان انتهت عمارته وفضل من الغلة شيئ يبدأ بما هو اقرب للعمارة.....واعم للمصلحة كالامام للمسجد و المدرس للمدرسة يصرف اليهم الي قدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذالك الي آخر المصالح هذا اذا لم يكن معيناً فان كان الوقف معيناً علي شيئ يصرف اليه بعد عمارة البناء " اھ (رد المحتار علی الدر المختار ملخصاً، ج٦، ص٥٦٠، کتاب الوقف، مطلب يبدأ بعد العمارة بما هو اقرب اليها ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض) یعنی: پھر جو عمارت ( آباد کارئ) مسجد سے قریب تر ہو یعنی جب مسجد کی تعمیر ہوچکی اور کچھ آمدنی باقی بچ گئی تو اسے عمارت (آباد کارئ) مسجد سے قریب تر میں صرف کیا جائے گا..اور عام مصالح مسجد میں بقدر کفایت صرف کیا جائے گا جیسے مسجد کے امام اور مدرسہ کے مدرس کے لئے پھر چراغ فرش وغیرہ مصالح میں، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ وقف متعین نہ ہو پس اگر وقف متعین ہو کسی شئ کے لئے تو عمارت بنانے کے بعد اسی میں صرف کیا جائے گا۔ مفتی جلال الدین احمد امجدی تحریر فرماتے ہیں: "تعمیری سامان یا اس کے لئے روپیہ اگر کسی نے صرف تعمیر مسجد کے لئے دیا ہے تو وہ سامان کسی بھی طرح تعمیر مسجد ہی میں صرف کیا جائےگا۔ مسجد کے مصالح میں اسے صرف نہیں کر سکتے اور اگر مسجد کے عام مصالح کے لئے دیا ہے تو اس سے مکان دکان یا وضو خانہ وغیرہ جو چاہیں تعمیر کر سکتے ہیں۔" اھ (فتاوی فیض الرسول ، ج٢، ص٣٢٦، کتاب الوقف، فصل فی المسجد ، مطبوعہ اکبر بک سیلرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/waabi-se-chanda-lena/" rel="bookmark">وہابی سے چندہ لینا اس کے لئے دعا کرنا اسے مسجد ومدرسہ میں لگانا کیسا؟</a></h5> <strong>کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong> <strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...