Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

مسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟

مسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟
Reference 600 September 18, 2025 4,594 views
اصل سوالمسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟

مسلمان عورتوں کا مانگ میں سیندور اور پیشانی پر ٹکلی (یعنی بِنْدِی) لگانا کیسا ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــ: مسلمان عورتوں کیلیے مانگ میں سیندور لگانا ناجائز و حرام ہے اور جب تک سیندور لگا رہے گا تو غسل نہیں ہوگا کیونکہ یہ پانی کو جسم تک پہنچنے سے روکتا ہے ۔ چنانچہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “سیندور لگانا مثلہ میں داخل اور حرام ہے، نیز اوس کا جرم پانی بہنے سے مانع ہوگا جس سے غسل نہیں اترے گا.” (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفحہ 60 مکتبہ رضویہ کراچی) جبکہ فی زمانہ ٹکلی (بندی) لگانا مسلمان عورتوں میں عام ہے کہ وہ عمومی طور پر لگاتی ہیں لہذا اب یہ ہندو عورتوں کے ساتھ خاص نہیں رہا تو اس کے لگانے میں ان سے مشابہت نہیں ہوگی، اس لیے اب مسلمان عورتیں ٹکلی (بندی) لگا سکتی ہیں مگر چونکہ ٹکلی (بندی) پانی کو جسم تک پہنچنے سے روکتی ہے تو وضو اورغسل کیلیے اس کو اتارنا ضروری ہوگا ورنہ وضو اور غسل نہیں ہو گا. چنانچہ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “ٹکلی بھی وضو و غسل کے ادا کرنے میں مانع ہیں۔” (فتاوی امجدیہ جلد 4 صفحہ 60 مکتبہ رضویہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.