Ref #14
Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1447
Verified Hanafi Fiqh
4.6K Views
مسلمان ہونے کا انکار کفر ہے | مجھ کو مذہب کے ترازو پر نہ پرکھا جائے کینا کیسا ہے ؟
Font:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مسلمان ہونے کا انکار کفر ہے | مجھ کو مذہب کے ترازو پر نہ پرکھا جائے کینا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مسلمان ہونے کا انکار کفر ہے
حضور مفتی صاحب قبلہ السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ اگر کوئی مسلمان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے وہابیوں دیو بندیوں سے میل جول رکھے، شادی بیاہ میں مدعو کرے، اور خود بھی شرکت کرے، اور یہ کہے کہ مجھ کو مذہب کے ترازو پر نہ پرکھا جائے ۔ میں نے انسان رہنے کی قسم کھائی ہے مجھے ہندو اور مسلمان نہ سمجھا جائے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں حکم شرع کیا؟ ایسے شخص سے میل جول رکھنا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔ المستفتی: ایف خان مہراجگنجوی الجوابــــــــــــــــــــــــ سیاسی مقصد حاصل کرنے کے لیے وہابیوں سے میل جول رکھنا، شادی بیاہ میں اپنے گھر انھیں دعوت میں بلانا اور ان کے یہاں دعوت میں جانا حرام و ناجائز اور ایسا آدمی فاسق ہے بشرطے کہ انھیں مسلمان نہ مانتا ہو۔ اور اگر ان کو مسلمان مان کر یہ سب کرتا ہو تو فتاوی حسام الحرمین کے مطابق خود بھی کافر ہے ۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہیں ۔ ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے، ان سے میل جول حرام ہے، اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔ قال ﷲ تعالٰی: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین o وقال تعالٰی : لا تجد قوما یومنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد ﷲ و رسولہ ولو کانوا آبائہم او اخوانہم اوعشیرتہم۔ اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،کما بیناہ فی المحجة الموتمنہ۔ ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔فتاوٰی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے :من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر*_ اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے”(فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص ٣١١ ) پھر اس کا یہ کہنا صریح گمرہی ہے کہ :”مجھ کو مذہب کے ترازو پہ نہ تولا جائے۔ اور مزید برآں اس نے یہ کہہ کر اپنے کفر پر رجسٹری کردی کہ: مجھ کو مسلمان نہ سمجھا جائے۔ کیوں کہ کسی کا اپنے بارے میں مسلمان نہ ہونے کا بیان کفر ہے۔ہم ذیل میں فتاوی رضویہ سے ایک سوال جواب نقل کرتے ہیں جس میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے مسلمان نہ ہونے کی بات کہنے پر کفر کا حکم دیا ہے: “مسئلہ: زید بلا نکاحی عورت اپنے گھر میں رکھتا ہے چند مسلمان نے زید سے ہر چند کہا کہ تو اپنا نکاح کرلے، زید نے جھوٹ کہا کہ میرا نکاح ہوچکا ہے میں اب نہیں کروں گا، اور کسی کو اس کے نکاح کی خبر نہیں ہے،مسلمانوں نے کہا کہ تو مسلمان نہیں ہے جو شرعی حکم نہیں مانتا ہے زید نے جواب دیا کہ ہاں میں مسلمان نہیں ہوں لہذا سب مسلمانوں نے زید کو اپنی محفل سے اٹھادیا ،_بعد چندے زید کہتا ہے کہ آپ میرا نکاح کردو، لہذا سوال ہے کہ از روئے شرع شریف زید کے واسطے کیاحکم ہے؟” الجواب: وہ سب لوگ گنہ گار ہوئے جنھوں نے اسے کہا کہ تو مسلمان نہیں۔ اور جب وہ ایک عورت کو بی بی کیطرح گھر میں رکھتا اور کہتا تھا کہ میرا نکاح ہوچکا ہے تو اسے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہ تھی، نہ ان لوگوں کو نکاح نہ معلوم ہونے سے نکاح نہ ہونا لازم تھا ان لوگوں نے اپنی نادانی سے برخلاف شرع اسے اتنا تنگ کیا کہ آخر شیطان نے اس سے کہلوادیا کہ ہاں وہ شخص مسلمان نہیں ہے ،اس کہنے سے اس کا ایمان جاتارہا اور نکاح اگر کیا بھی تھا باطل ہو گیا اب وہ پھر مسلمان ہوکر اس کے بعد عورت کی رضامندی سے اس سے نکاح کرے اور یہ سب لوگ بھی توبہ کریں جنھوں نے ناحق تنگ کرکے یہاں تک نوبت پہنچائی”۔ (فتاوی رضویہ ج٦ ص١٣١) وہ شخص جس نے سوال میں مذکور الفاظ کہے جب تک وہ توبہ اور تجدید ایمان نہ کرلے اس سے میل جول ناجائز ہے۔اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: ” وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ(سورہ انعام: ٦٨) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٠/رجب المرجب ١۴۴٣ھ//٢٢/ فروری٢٠٢٢ء ۔
Kutubahu & Verified by: