Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1459 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6K Views

معراج حبیب ﷺ کتاب پر تبصرہ ۔ از مولانامحمدضیاء الرحمن علیمی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

معراج حبیب ﷺ کتاب پر تبصرہ ۔ از مولانامحمدضیاء الرحمن علیمی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

معراج حبیب ﷺ کتاب پر تبصرہ ۔ مولانامحمدضیاء الرحمن علیمی

(ریسرچ اسکالر جواہر لعل نہرویونیورسٹی ،دہلی۔) باسمہ تعالیٰ وتقدس ’’معجزہ ٔ معراج‘‘ انسانی تاریخ کاایسامحیرالعقول واقعہ ہے جس کی تفصیلات وجزئیات پر ناقص عقلیں آج تک انگشت بدنداںہیں ،انہیں سمجھ میں نہیں آتاکہ یہ سفرِمعراج کیسے طے ہوا؟ایساکیسے ممکن ہوگیاکہ اللہ کاایک بندہ آسمانی حدوں کوعبورکرکے لامکاں کی وسعتوں تک پہنچ گیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں اہل ایمان کے لیے حیرت کی کوئی بات نہیں ۔ایمان والے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے بھی اپنے رسولوں کوخصوصی معجزات سے نوازاتھابلکہ ہرنبی کوان کے عہد،زمانے اور ان کے علاقے کے لحاظ سے معجزات سے نوازاتاکہ ان کی نبوت ورسالت کی صداقت ہر انسان پر واضح ہوجائے اور اس طرح وہ دولت ایمان سے شرف یاب ہوجائے۔ایمان والوں پر یہ عقیدہ بھی واضح ہوتاہے کہ اس کائنات رنگ وبومیں صرف دوچیزوں کاظہور ہوتاہے ،پہلااللہ رب العزت کی سنت اور دوسرااس کی قدرت ۔اللہ تعالیٰ کی سنت بھی اگر چہ اس کی قدرت کاملہ کے تحت ہی ہوتی ہے مگر اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مراد وہ تمام افعال ہوتے ہیں جوعام نظام فطرت سے ہٹ کرواقع ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی سنت کاادراک اور اس کے آغازسے انجام تک تمام پہلوئوں کااحاطہ انسانی عقل کی جہدوکاوش کاخلاصہ ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاادراک انسانی ذہن کے بس سے باہر کی چیزہے ۔اس کی قدرتِ محض سے جوچیزوجودمیں آتی ہے اسے اصطلاحی زبان میں معجزہ کہاجاتاہے ۔یہ ساری باتیں ایمان والوں پر واضح توہوتی ہیں لیکن جولوگ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان نہیں رکھتے یارسمی طور پر ایمان رکھنے کے باوجود دین سے متعلق ہر جزئیے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شخصیت وسیرت سے متعلق ہرواقعے کوعقلِ نارساکی کسوٹی پرپرکھنے کے عادی ہیں ان کے سامنے بہت سے مسائل کھڑے ہوتے ہیں اور پھران کے دین وایمان کی عمارت متزلزل نظرآتی ہے ۔ عہدنوکامسلمان مرض تشکیک کا شکارہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات وکمالات کی حقیقت سے آگاہ کرانے اور اس کے ایمان کی بازیافت کے لیے جدیدسائنسی تناظر میں تمام معجزات پرگفتگوضروری ہے ۔اگر مسلم دانش وران اس پر سنجیدگی سے غوروخوض کریں تونسلِ نوکے ایمان کی حفاظت ہوسکتی ہے اور دعوتِ دین کافریضہ بہترطریقے پر انجام دیاجاسکتاہے۔ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج وہ عظیم تاریخی واقعہ ہے جس نے تسخیر کائنات کے لیے انسانوں کے حوصلوں کومہمیزکیااور انہوں نے آگے چل کر تحقیق وجستجوکی بندراہوں کوکھولااور پیچیدہ خلائی راستوں کی تلاش کافریضہ انجام دیا۔ خلائی سفر کے مخصوص لوازمات کے بغیر کرۂ فضاسے باہر ایتھر (Ather) میں کروڑوں نوری سال کا سفر طے کرنے کا تصور کیوں نا ممکن معلوم ہوتا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض گیسوں پر مشتمل ایک ایسے شفاف غلاف میں لپٹا ہوا ہے جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتا ہے۔ انسان خلائی سفر پر جب روانہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے سیکڑوں کلو میٹر کی گہرائی پر مشتمل زندگی بخش ہواؤں کے سمندر کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ ہوائی سفر میں زیادہ بلندی پر آکیسجن کی کمی کی صورت میں گیس ماسک (Gas Mask) استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاز کے اندر مصنوعی طور پر ہوا کا دباؤ بھی بنایا جاتا ہے اور اگر کسی تکنیکی خرابی کی بنا پر جہاز میں سوراخ ہوجائے تو جہاز کے اندر موجود مصنوعی دباؤ تیزی سے گر جاتا ہے۔ جس سے مسافروں کے جسم سخت پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خلائی سفر پر روانگی کے دوران ہوائی کرہ سے باہر نکلنے کے لیے کم از کم 40,000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حاجت ہوتی ہے چنانچہ خلا بازوں کو آکسیجن اور مصنوعی دباؤ کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص لباس کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں درجۂ حرارت کی شدت کے علاوہ مقناطیسی برقی لہروں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ EVA SPACESUIT جو ایک انسان کو خلائی سفر کے دوران آکسیجن کی فراہمی، مناسب حرارت، مواصلات اور خلا میں قیام کے لیے دوسری ضروریات فراہم کرتا ہے۔ ان کے علاوہ MMU UNIT کی بدولت انسان اس قابل بھی ہوچکا ہے کہ خلائی شٹل سے باہر نکل کر ایک مصنوعی سیارے کی طرح زمین کے مدار میں لمبے وقت کے لیے آسانی کے ساتھ گھوم پھر سکے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہوائی سفر کی پریشانیوں کو آسانیوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود خلائی سفر خطرات سے خالی نہیں لیکن کائنات کی تسخیر کا جذبہ اگر سینے میں موجزن ہوتو پھر انسان اپنی ساری پریشانیوں کو فراموش کرکے اپنی منزل تک رسائی کی فکر میں لگ جاتا ہے، اسی جذبے کی وجہ سے انسان نے اپنی عظمتوں کا پرچم چاند پر لہرایا اور اب دوسرے سیاروں پر کمندیں ڈالنے کے فراق میں ہے ،ان سب کے باوجودابھی تک انسان روشنی کی رفتارسے سفر کرنے کی صلاحیت نہیں حاصل کرسکا ہے۔ روشنی تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور سائنس کے نظریے کے مطابق اس قدر رفتار کا حصول کسی بھی مادی شئی کے لیے محال ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ ممتاز سائنس داں آئن اسٹائن کی نظر میں یہ ہے کہ اگر بالفرض کوئی مادی جسم روشنی کی رفتار حاصل کرلے تو اس پر وقت کی رفتار بالکل ٹھہر جائے گی اور اس کی کمیت بڑھتے بڑھتے لا محدود ہوجائے گی اور اس کا حجم سکڑ کر بالکل ختم ہوجائے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم فنا ہوجائے گالہٰذاکسی بھی مادی جسم کے لیے روشنی کی رفتار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ آئن اسٹائن کے نظریے کے مطابق یہی قانونِ فطرت پورے نظام کائنات میں جاری ہے۔ اب اسی قانون کی روشنی میں سفر معراج کا تجزیہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کا یہ نظام اس کی قدرت کے ظہور کے طور پر بدل گیا۔ وقت بھی رک گیا، جسم کی کمیت بھی لا محدودنہیں ہوئی اور وہ فنا ہونے سے بھی محفوظ رہا اور اس کا جسم بھی اپنی حقیقی حالت پر باقی رہا اور خلائی سفر کے ضروری تقاضوں کو پورا کیے بغیر ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے براق (Multiple Speed of Light) کی رفتار سے سفر طے کیا ،بیت المقدس میں تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کی امامت فرمائی، سفر کے دوران آپ نے کھانا،پینا بھی کیا، لا مکاں کی سیاحت بھی کی، برگزیدہ انبیاے کرام سے ملاقاتیں بھی رہیں اور پھر اخیر میں رب تعالیٰ کے قرب خاص سے شرف یاب ہوکر جب روئے زمین کی طرف لوٹے تو وضو کا پانی بہہ رہاتھا بستر بھی گرم تھا اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی تھی۔نظریہ اضافیت(Relativity) میں روشنی کی عام رفتار کے حصول کو ناممکن کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سائنس کا اگر چہ یہی نظریہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے جیسے وہ خلائی سفر کے ارتقائی منازل طے کررہا ہے ویسے ویسے وہ بالواسطہ اسلام کے الہامی مذہب ہونے اور رہتی دنیا تک کے لیے اس کے آخری مذہب ہونے کے اعتراف کا شرف حاصل کرتا جارہا ہے۔ واقعۂ معراج انسانی جماعت کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کائنات رنگ وبو میں موجود عناصر ہی کی باہم کسی انوکھی ترکیب سے اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ روشنی کی رفتار کو پالے اور اگر وہ ایسا نہیں کر پاتا ہے تو کروڑوں نوری سال کی مسافتوں میں بکھری ہوئی اس کائنات کی تسخیر کا خواب پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا۔ معجزۂ معراج کی جزئیات وتفصیلات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ معجزۂ معراج طی زمانی اور طی مکانی کی جامعیت کا مظہر ہے۔ جدید سائنس اپنی تحقیقات کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچ چکا ہے کہ رفتار میں کمی بیشی کی وجہ سے کسی جسم کے لیے وقت کا پھیلنا اور سکڑجانا، جسم کے حجم اور فاصلوں کا پھیلنا اور سکڑ جانا قانون فطرت اور منشائے خداوندی کے عین موافق ہے۔ لاکھوں کلو میٹرز میں بکھری مسافتیں اگر ایک قدم میں تبدیل ہوجائیں تو اسے اصطلاح میں طی مکانی کہا جاتا ہے اور اگر صدیوں پر محیط وقت چند لمحوں میں سمٹ آئے تو اسے طی زمانی کہا جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبیوں، رسولوں اور ولیوں کو معجزہ اور کرامت کے طور پر یہ کمالات عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ذکر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت آصف برخیا نے ملکہ سبا کے تخت کوجو 900 میل کے فاصلے پر تھا چشمِ زدن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کردیا، یوں ہی قرآن کریم میں طے زمانی کا ذکر بھی موجود ہے کہ اصحاب کہف تین سو نو سال تک ایک غار میں سوئے رہے اور جب سوکر اٹھے تو انہیں ایسالگا کہ گویا وہ صرف ایک دن یا اس سے کچھ زائد سوئے رہے ہوں۔ زمینی کرہ کے تین سو شمسی سالوں کے موسم ان پر گزر گئے مگر پھر بھی ان کے جسم تروتازہ رہے، اسی طرح حضرت عزیر علیہ السلام پر سو سال کے لیے موت طاری کردی گئی اور قدرتِ الٰہی سے وہ پھر زندہ ہوگئے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کتنے زمانے تک آرام کرتے رہے تو انہوں نے فرمایا:ایک دن یا اس سے بھی کم، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ واقعہ ایسا نہیں ہے بلکہ آپ سو سال تک سوتے رہے، اور اس دوران ان کا کھانا پانی بھی یوں ہی رکھا رہا اور اس میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی جب کہ دوسری طرف آپ کے گدھے کی ہڈیاں سڑ گل گئیں اور پھر اللہ کے حکم سے وہ ہڈیاں اکٹھی ہوئیں اور وہ پھر سے زندہ کھڑا ہوگیا۔ یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کی خاص نشانی اور اس کی قدرت کے ظہور کے نتیجے میں تھیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی، سنت تو کل بھی یہی تھی اور آج بھی یہی ہے کہ 900 میل کا سفر چشم زدن میں کوئی طے نہیں کرسکتا 300 شمسی سال گزر جانے اور سو سال گزر جانے کے بعد کوئی جسم سلامت نہیں رہ سکتا لیکن اس کی قدرت کا اظہار کل بھی ہوا تھا اور آج بھی اس کے کسی برگزیدہ بندے کے ذریعہ ہوسکتا ہے کہ 900 میل یا اس سے زائد کافاصلہ چشم زدن میں طے ہوجائے اور سیکڑوں سال گزر جانے کے باوجود ان کے جسموں میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہو۔ طی مکانی تو اب روز مرہ کے معمولات میں شامل ہو چکا ہے پہلے انسان جس جگہ کا سفر سالوں میں نہیں کرسکتا تھا اب وہ تیز رفتار سواریوں کے ذریعہ گھنٹوں میں کر رہا ہے، طی زمانی کی تصدیق بھی اب سائنس کرنے لگا ہے اور اب وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی لا علاج مریض پر مصنوعی موت طاری کرکے اسے طویل مدت تک روکے رکھے اور جب اس کے مرض کا علاج دریافت ہوجائے تو اس کے جسم میں دوبارہ زندگی کی لہر دوڑا دے اور پھر اس کا علاج کرے۔ ان ساری باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب اگر واقعہ معراج پر از سر نو غور کیا جائے تو یہ بات نکل کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر بنی اسرائیل کے ایک نبی کو اپنی قدرت کے کرشمے دکھا سکتا ہے تو اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیوں نہیں ظاہر کرسکتا۔ متفرق طور پر طی مکان اور طی زمان کے واقعات نبی اورغیر نبی کے لیے پیش آسکتے ہیں تو سید انبیا اور فخر رسولان کے لیے کوئی ایسا واقعہ کیوں نہیں رونما ہوسکتا جس میں بیک وقت طی مکانی بھی ہو اور طی زمانی بھی۔ اب اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں رہتی کہ معراج کی شب قادر مطلق نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمان ومکان (Time & Space) کی مسافتیںطے کروانے کے بعد اپنے قرب ووصال کی نعمتیں کیسے عطا فرمائیں۔ یقینا واقعہ معراج ایک معجزۂ رسول تھا جس میں زمین کی طنابیں کھینچ لی گئیں، وقت ٹھہرا رہ گیا، اور کائنات بے حس وحرکت ایک نقطے پر رک گئی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت میں انسانی دماغ نے چاند پر پہنچ آپ کے اس معجزے کے امکان کی نشاندہی کردی ہے یہ الگ بات ہے کہ جس منزل تک اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے وہ ایک معجزہ تھا اور چاندتک پہنچنا اس معجزے کی تائید اور سفر معراج کی توثیق ہے۔ انسان جس قدر بھی ترقی کرے اور اپنی فضائی پرواز جس قدر بھی بڑھالے وہ لا مکاں کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتا وہ سفر معراج میں آپ کے نقش پا کو آنکھوں سے لگا کر بلندیوں کی منزلیں تو طے کرسکتا ہے لیکن آپ کی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حاصل یہ کہ واقعہ معراج اگر چہ عقل کی کسوٹی پر اترتا ہوا نظر نہیں آتا لیکن صرف اس بنا پر اس واقعہ کی صداقت کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔یوں بھی ہماری زندگی میں بہت سے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں، جو عقل کی کسوٹی پر درست نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود ہم ان کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے ہم کسی پر اسرار طاقت کی طرف منسوب کرتے ہیں،اسی طرح واقعہ معراج بھی سر الاسرار رب تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے جب تک سنت الٰہیہ اور قدرت الٰہیہ دونوں پر صحیح طریقے سے ایمان نہیں لایا جائے گا اسی طرح کی دشواریاں سامنے آتی رہیں گی۔ یہاں تک تو عقلی اور سائنسی لحاظ سے واقعہ معراج پر کچھ گفتگو ہوئی لیکن اگر صوفیانہ نقطہ نظر سے گفتگو کی جائے تو صوفیہ کرام نے واقعہ معراج سے وہ نفیس نکات لیے ہیں کہ ہمیں یہ برملا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بلا شبہہ وہی لوگ در حقیقت بحر روحانیت کے غواص ہیں اور اس بحر کی غواصی کے بعد جو آبدار موتیاں انہیں ہاتھ آتی ہیں وہ کسی دوسرے کو نہیں ملتیں۔ سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی قدس سرہ نے سفر معراج کے سلسلے میں تین اصطلاحات کا ذکر فرمایا ہے۔ ۱۔ اسراء: مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر۔ ۲۔معراج :بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر۔۳۔اِعراج: سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک عروج۔ ان تینوں مراحل کو اگر سامنے رکھا جائے تو فلسفۂ معراج کی صوفیانہ تفہیم آسانی کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین شانیں ہیں۔ ۱۔بشریت ۲۔نورانیت ۳۔مظہریت وحقیقت۔ مذکورہ تینوں شانیں آپ کی ذات کا حصہ ہیں اور آپ کی کوئی شان دوسری شان سے باہم دست وگریباں نہیں۔ جس وقت آپ سفرِ اِسرا یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کے سفر پر تھے اس وقت آپ کی شانِ بشریت کی معراج تھی جب کہ آپ کی نورانیت اور مظہریت والی شانیں مغلوب تھیں۔ جب آپ معراج پر یعنی بیت المقدس سے لے کر ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کے سفر پر تھے اس وقت آپ کی شان نورانیت کی معراج تھی اور آپ کی بشریت اور مظہریت والی شانیں مغلوب تھیں اورجس وقت آپ سفر اعراج یعنی سدرۃ المنتہیٰ سے آگے کے سفر پر تھے اس وقت آپ کی حقیقت اور مظہریت والی شان کی معراج تھی اور اس وقت آپ کی بشری اور نورانی شانیں مغلوب تھیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ فلسفۂ معراج کا صوفیانہ تصور یہ ہے کہ معراج کے توسط سے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ذات وصفات کے ہر پہلو اور آپ کے کمالات کی ہر شان کی تکمیل کردی گئی اور پھر آپ اوصاف وکمالات ربانی کا کامل ترین مظہر بن کر اس خاکدان گیتی کی طرف پلٹے لیکن ان کا حقیقی ادراک انسانی عقل سے باہر ہے اور آپ کے مقام محبوبیت کا تصور تمام روحانی، نورانی اور خاکی مخلوقات کے لیے ممکن نہیں۔ ان کے علاوہ سفر معراج میں اور بھی بہت سے اسباق، نصیحتیں، عبرتیں اور رموز واسرار ہیں جن سے کما حقہ صرف رب تعالیٰ اور اس کی عطاسے اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی واقف ہیں۔ ان رموز واسرار سے کچھ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے صوفیہ کرام اور دیگر علماے کرام کو ملا اور انہوں نے معراج پر کتابیں تحریر کرکے ان کو لوگوں کے لیے بیان کیا چنانچہ اس موضوع پر سیرت کے تمام مولفین نے ہی کچھ نہ کچھ لکھا ہے، بعض علماے کرام نے اس موضوع کو مستقل تصنیف کا حصہ بھی بنایا انہیں مصنفین میں ایک نام عارف باللہ حضرت سید محمد بن علوی بن عباس مالکی مکی حسنی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آپ کی متعدد کتابیں بر صغیر ہندو پاک میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ آپ نے’’الانوار البہیۃ فی اسراء ومعراج خیر البریۃ ‘‘کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ اس کتاب کے شروع میں اس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے کہ اسلامی لحاظ سے اہم مختلف تاریخی مواقع پر مسلمان جو دینی اجتماعات منعقد کرتے ہیں اور ان دنوں کی جو یاد مناتے ہیں ان کا تعلق عرف وعادت سے ہے اور کوئی بھی اسے اصل دین کا حصہ نہیں سمجھتا لہٰذا اس طرح کے اجتماعات کو روکنے اور ان پر نکیر کرنے کی بجائے ان مواقع کو غنیمت جان کر مسلمانوں کی اصلاح اور ان کے تزکیۂ نفس کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف علام نے یہ کتاب خاص طور سے ان لوگوں کے لیے لکھی ہے جو معراج النبی کے موقع پر اجتماعات کرتے ہیں تاکہ وہ اس کتاب اور اس میں درج صحیح روایات اور سفر معراج سے متعلق اس میں بیان کردہ عبرتوں، نصیحتوں اور دوسرے رموز واسرار سے استفادہ کرکے اپنے اجتماعات کی اصلاح کرسکیں اور انہیں موضوع اور بے اصل روایات کے اُن طومار سے پاک کرسکیں جن کی وجہ سے سفر معراج اور اس موقع پر ہونے والے اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کتاب کی ترتیب،اس کا اسلوب نہایت اچھوتا اور دل نشیں ہے،پیرایۂ بیان ایساجاذب ہے کہ قاری جس طرح قصوں کی کتاب کو مکمل کیے بغیر نہیں رکھتا اسی طرح اس کتاب کو بھی مکمل پڑھے بغیر نہیں رکھ سکتا۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ محب مکرم مولانا مظہر حسین علیمی نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کردیا ہے، چنانچہ اب اس سے اردو قارئین بھی مستفید ہوسکیں گے۔ ترجمے کی تکمیل کے بعد انہوں نے نہ جانے کیا سوچ کر اسے میرے پاس نظر ثانی کے لیے بھیج دیا اور ایک مقدمہ لکھنے کی بھی فرمائش کردی،محض یہ ان کی دوستانہ نوازشات ہیں ۔ مولانا محترم کا ترجمہ میرے مطابق اچھا، سلیس اور با محاورہ ہے۔ امید ہے کہ قارئین ترجمے میں تصنیف کی لذت محسوس کریں گے۔ مولانا محترم ہندوستان کی ایک مایہ ناز درس گاہ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی میں میرے رفیق درس رہے ہیں،وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی جفاکش، اخلاص کے پیکر اور تقویٰ شعار رہے ہیں۔ آج بھی وہ اپنی ان تمام خصوصیات کے ساتھ ترقی کے منازل طے کررہے ہیںاور اپنے معاصرین پر فائق ہیں۔ وہ ہمیشہ خود کچھ نہ کچھ کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کرواتے رہتے ہیں، ماہنامہ سنی دعوت اسلامی نے بھی ان کی مخلصانہ کاوش سے ہی علمی وعوامی طبقوں میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ مولائے کریم صاحب معراج صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ان کی طرح ہمیں بھی خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے اور نمازوں کو ہمارے لیے اپنی معراج کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔ ضیاء الرحمن علیمی ۳؍۵؍۲۰۱۲ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>معراج حبیب ﷺ کتاب پر تبصرہ ۔ مولانامحمدضیاء الرحمن علیمی</h3> (ریسرچ اسکالر جواہر لعل نہرویونیورسٹی ،دہلی۔) باسمہ تعالیٰ وتقدس ’’معجزہ ٔ معراج‘‘ انسانی تاریخ کاایسامحیرالعقول واقعہ ہے جس کی تفصیلات وجزئیات پر ناقص عقلیں آج تک انگشت بدنداںہیں ،انہیں سمجھ میں نہیں آتاکہ یہ سفرِمعراج کیسے طے ہوا؟ایساکیسے ممکن ہوگیاکہ اللہ کاایک بندہ آسمانی حدوں کوعبورکرکے لامکاں کی وسعتوں تک پہنچ گیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں اہل ایمان کے لیے حیرت کی کوئی بات نہیں ۔ایمان والے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے بھی اپنے رسولوں کوخصوصی معجزات سے نوازاتھابلکہ ہرنبی کوان کے عہد،زمانے اور ان کے علاقے کے لحاظ سے معجزات سے نوازاتاکہ ان کی نبوت ورسالت کی صداقت ہر انسان پر واضح ہوجائے اور اس طرح وہ دولت ایمان سے شرف یاب ہوجائے۔ایمان والوں پر یہ عقیدہ بھی واضح ہوتاہے کہ اس کائنات رنگ وبومیں صرف دوچیزوں کاظہور ہوتاہے ،پہلااللہ رب العزت کی سنت اور دوسرااس کی قدرت ۔اللہ تعالیٰ کی سنت بھی اگر چہ اس کی قدرت کاملہ کے تحت ہی ہوتی ہے مگر اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مراد وہ تمام افعال ہوتے ہیں جوعام نظام فطرت سے ہٹ کرواقع ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی سنت کاادراک اور اس کے آغازسے انجام تک تمام پہلوئوں کااحاطہ انسانی عقل کی جہدوکاوش کاخلاصہ ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاادراک انسانی ذہن کے بس سے باہر کی چیزہے ۔اس کی قدرتِ محض سے جوچیزوجودمیں آتی ہے اسے اصطلاحی زبان میں معجزہ کہاجاتاہے ۔یہ ساری باتیں ایمان والوں پر واضح توہوتی ہیں لیکن جولوگ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان نہیں رکھتے یارسمی طور پر ایمان رکھنے کے باوجود دین سے متعلق ہر جزئیے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شخصیت وسیرت سے متعلق ہرواقعے کوعقلِ نارساکی کسوٹی پرپرکھنے کے عادی ہیں ان کے سامنے بہت سے مسائل کھڑے ہوتے ہیں اور پھران کے دین وایمان کی عمارت متزلزل نظرآتی ہے ۔ عہدنوکامسلمان مرض تشکیک کا شکارہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات وکمالات کی حقیقت سے آگاہ کرانے اور اس کے ایمان کی بازیافت کے لیے جدیدسائنسی تناظر میں تمام معجزات پرگفتگوضروری ہے ۔اگر مسلم دانش وران اس پر سنجیدگی سے غوروخوض کریں تونسلِ نوکے ایمان کی حفاظت ہوسکتی ہے اور دعوتِ دین کافریضہ بہترطریقے پر انجام دیاجاسکتاہے۔ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج وہ عظیم تاریخی واقعہ ہے جس نے تسخیر کائنات کے لیے انسانوں کے حوصلوں کومہمیزکیااور انہوں نے آگے چل کر تحقیق وجستجوکی بندراہوں کوکھولااور پیچیدہ خلائی راستوں کی تلاش کافریضہ انجام دیا۔ خلائی سفر کے مخصوص لوازمات کے بغیر کرۂ فضاسے باہر ایتھر (Ather) میں کروڑوں نوری سال کا سفر طے کرنے کا تصور کیوں نا ممکن معلوم ہوتا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کرۂ ارض گیسوں پر مشتمل ایک ایسے شفاف غلاف میں لپٹا ہوا ہے جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتا ہے۔ انسان خلائی سفر پر جب روانہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے سیکڑوں کلو میٹر کی گہرائی پر مشتمل زندگی بخش ہواؤں کے سمندر کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ ہوائی سفر میں زیادہ بلندی پر آکیسجن کی کمی کی صورت میں گیس ماسک (Gas Mask) استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاز کے اندر مصنوعی طور پر ہوا کا دباؤ بھی بنایا جاتا ہے اور اگر کسی تکنیکی خرابی کی بنا پر جہاز میں سوراخ ہوجائے تو جہاز کے اندر موجود مصنوعی دباؤ تیزی سے گر جاتا ہے۔ جس سے مسافروں کے جسم سخت پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ خلائی سفر پر روانگی کے دوران ہوائی کرہ سے باہر نکلنے کے لیے کم از کم 40,000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حاجت ہوتی ہے چنانچہ خلا بازوں کو آکسیجن اور مصنوعی دباؤ کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص لباس کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں درجۂ حرارت کی شدت کے علاوہ مقناطیسی برقی لہروں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ EVA SPACESUIT جو ایک انسان کو خلائی سفر کے دوران آکسیجن کی فراہمی، مناسب حرارت، مواصلات اور خلا میں قیام کے لیے دوسری ضروریات فراہم کرتا ہے۔ ان کے علاوہ MMU UNIT کی بدولت انسان اس قابل بھی ہوچکا ہے کہ خلائی شٹل سے باہر نکل کر ایک مصنوعی سیارے کی طرح زمین کے مدار میں لمبے وقت کے لیے آسانی کے ساتھ گھوم پھر سکے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہوائی سفر کی پریشانیوں کو آسانیوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود خلائی سفر خطرات سے خالی نہیں لیکن کائنات کی تسخیر کا جذبہ اگر سینے میں موجزن ہوتو پھر انسان اپنی ساری پریشانیوں کو فراموش کرکے اپنی منزل تک رسائی کی فکر میں لگ جاتا ہے، اسی جذبے کی وجہ سے انسان نے اپنی عظمتوں کا پرچم چاند پر لہرایا اور اب دوسرے سیاروں پر کمندیں ڈالنے کے فراق میں ہے ،ان سب کے باوجودابھی تک انسان روشنی کی رفتارسے سفر کرنے کی صلاحیت نہیں حاصل کرسکا ہے۔ روشنی تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور سائنس کے نظریے کے مطابق اس قدر رفتار کا حصول کسی بھی مادی شئی کے لیے محال ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ ممتاز سائنس داں آئن اسٹائن کی نظر میں یہ ہے کہ اگر بالفرض کوئی مادی جسم روشنی کی رفتار حاصل کرلے تو اس پر وقت کی رفتار بالکل ٹھہر جائے گی اور اس کی کمیت بڑھتے بڑھتے لا محدود ہوجائے گی اور اس کا حجم سکڑ کر بالکل ختم ہوجائے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم فنا ہوجائے گالہٰذاکسی بھی مادی جسم کے لیے روشنی کی رفتار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ آئن اسٹائن کے نظریے کے مطابق یہی قانونِ فطرت پورے نظام کائنات میں جاری ہے۔ اب اسی قانون کی روشنی میں سفر معراج کا تجزیہ کیا جائے تو پتا یہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کا یہ نظام اس کی قدرت کے ظہور کے طور پر بدل گیا۔ وقت بھی رک گیا، جسم کی کمیت بھی لا محدودنہیں ہوئی اور وہ فنا ہونے سے بھی محفوظ رہا اور اس کا جسم بھی اپنی حقیقی حالت پر باقی رہا اور خلائی سفر کے ضروری تقاضوں کو پورا کیے بغیر ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے براق (Multiple Speed of Light) کی رفتار سے سفر طے کیا ،بیت المقدس میں تمام انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کی امامت فرمائی، سفر کے دوران آپ نے کھانا،پینا بھی کیا، لا مکاں کی سیاحت بھی کی، برگزیدہ انبیاے کرام سے ملاقاتیں بھی رہیں اور پھر اخیر میں رب تعالیٰ کے قرب خاص سے شرف یاب ہوکر جب روئے زمین کی طرف لوٹے تو وضو کا پانی بہہ رہاتھا بستر بھی گرم تھا اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی تھی۔نظریہ اضافیت(Relativity) میں روشنی کی عام رفتار کے حصول کو ناممکن کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سائنس کا اگر چہ یہی نظریہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے جیسے وہ خلائی سفر کے ارتقائی منازل طے کررہا ہے ویسے ویسے وہ بالواسطہ اسلام کے الہامی مذہب ہونے اور رہتی دنیا تک کے لیے اس کے آخری مذہب ہونے کے اعتراف کا شرف حاصل کرتا جارہا ہے۔ واقعۂ معراج انسانی جماعت کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کائنات رنگ وبو میں موجود عناصر ہی کی باہم کسی انوکھی ترکیب سے اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ روشنی کی رفتار کو پالے اور اگر وہ ایسا نہیں کر پاتا ہے تو کروڑوں نوری سال کی مسافتوں میں بکھری ہوئی اس کائنات کی تسخیر کا خواب پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا۔ معجزۂ معراج کی جزئیات وتفصیلات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ معجزۂ معراج طی زمانی اور طی مکانی کی جامعیت کا مظہر ہے۔ جدید سائنس اپنی تحقیقات کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچ چکا ہے کہ رفتار میں کمی بیشی کی وجہ سے کسی جسم کے لیے وقت کا پھیلنا اور سکڑجانا، جسم کے حجم اور فاصلوں کا پھیلنا اور سکڑ جانا قانون فطرت اور منشائے خداوندی کے عین موافق ہے۔ لاکھوں کلو میٹرز میں بکھری مسافتیں اگر ایک قدم میں تبدیل ہوجائیں تو اسے اصطلاح میں طی مکانی کہا جاتا ہے اور اگر صدیوں پر محیط وقت چند لمحوں میں سمٹ آئے تو اسے طی زمانی کہا جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبیوں، رسولوں اور ولیوں کو معجزہ اور کرامت کے طور پر یہ کمالات عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ذکر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت آصف برخیا نے ملکہ سبا کے تخت کوجو 900 میل کے فاصلے پر تھا چشمِ زدن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کردیا، یوں ہی قرآن کریم میں طے زمانی کا ذکر بھی موجود ہے کہ اصحاب کہف تین سو نو سال تک ایک غار میں سوئے رہے اور جب سوکر اٹھے تو انہیں ایسالگا کہ گویا وہ صرف ایک دن یا اس سے کچھ زائد سوئے رہے ہوں۔ زمینی کرہ کے تین سو شمسی سالوں کے موسم ان پر گزر گئے مگر پھر بھی ان کے جسم تروتازہ رہے، اسی طرح حضرت عزیر علیہ السلام پر سو سال کے لیے موت طاری کردی گئی اور قدرتِ الٰہی سے وہ پھر زندہ ہوگئے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کتنے زمانے تک آرام کرتے رہے تو انہوں نے فرمایا:ایک دن یا اس سے بھی کم، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ واقعہ ایسا نہیں ہے بلکہ آپ سو سال تک سوتے رہے، اور اس دوران ان کا کھانا پانی بھی یوں ہی رکھا رہا اور اس میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی جب کہ دوسری طرف آپ کے گدھے کی ہڈیاں سڑ گل گئیں اور پھر اللہ کے حکم سے وہ ہڈیاں اکٹھی ہوئیں اور وہ پھر سے زندہ کھڑا ہوگیا۔ یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کی خاص نشانی اور اس کی قدرت کے ظہور کے نتیجے میں تھیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی، سنت تو کل بھی یہی تھی اور آج بھی یہی ہے کہ 900 میل کا سفر چشم زدن میں کوئی طے نہیں کرسکتا 300 شمسی سال گزر جانے اور سو سال گزر جانے کے بعد کوئی جسم سلامت نہیں رہ سکتا لیکن اس کی قدرت کا اظہار کل بھی ہوا تھا اور آج بھی اس کے کسی برگزیدہ بندے کے ذریعہ ہوسکتا ہے کہ 900 میل یا اس سے زائد کافاصلہ چشم زدن میں طے ہوجائے اور سیکڑوں سال گزر جانے کے باوجود ان کے جسموں میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہو۔ طی مکانی تو اب روز مرہ کے معمولات میں شامل ہو چکا ہے پہلے انسان جس جگہ کا سفر سالوں میں نہیں کرسکتا تھا اب وہ تیز رفتار سواریوں کے ذریعہ گھنٹوں میں کر رہا ہے، طی زمانی کی تصدیق بھی اب سائنس کرنے لگا ہے اور اب وہ اس کوشش میں ہے کہ کسی لا علاج مریض پر مصنوعی موت طاری کرکے اسے طویل مدت تک روکے رکھے اور جب اس کے مرض کا علاج دریافت ہوجائے تو اس کے جسم میں دوبارہ زندگی کی لہر دوڑا دے اور پھر اس کا علاج کرے۔ ان ساری باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب اگر واقعہ معراج پر از سر نو غور کیا جائے تو یہ بات نکل کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر بنی اسرائیل کے ایک نبی کو اپنی قدرت کے کرشمے دکھا سکتا ہے تو اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیوں نہیں ظاہر کرسکتا۔ متفرق طور پر طی مکان اور طی زمان کے واقعات نبی اورغیر نبی کے لیے پیش آسکتے ہیں تو سید انبیا اور فخر رسولان کے لیے کوئی ایسا واقعہ کیوں نہیں رونما ہوسکتا جس میں بیک وقت طی مکانی بھی ہو اور طی زمانی بھی۔ اب اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں رہتی کہ معراج کی شب قادر مطلق نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمان ومکان (Time & Space) کی مسافتیںطے کروانے کے بعد اپنے قرب ووصال کی نعمتیں کیسے عطا فرمائیں۔ یقینا واقعہ معراج ایک معجزۂ رسول تھا جس میں زمین کی طنابیں کھینچ لی گئیں، وقت ٹھہرا رہ گیا، اور کائنات بے حس وحرکت ایک نقطے پر رک گئی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت میں انسانی دماغ نے چاند پر پہنچ آپ کے اس معجزے کے امکان کی نشاندہی کردی ہے یہ الگ بات ہے کہ جس منزل تک اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے وہ ایک معجزہ تھا اور چاندتک پہنچنا اس معجزے کی تائید اور سفر معراج کی توثیق ہے۔ انسان جس قدر بھی ترقی کرے اور اپنی فضائی پرواز جس قدر بھی بڑھالے وہ لا مکاں کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتا وہ سفر معراج میں آپ کے نقش پا کو آنکھوں سے لگا کر بلندیوں کی منزلیں تو طے کرسکتا ہے لیکن آپ کی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ حاصل یہ کہ واقعہ معراج اگر چہ عقل کی کسوٹی پر اترتا ہوا نظر نہیں آتا لیکن صرف اس بنا پر اس واقعہ کی صداقت کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔یوں بھی ہماری زندگی میں بہت سے ایسے معاملات سامنے آتے ہیں، جو عقل کی کسوٹی پر درست نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود ہم ان کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے ہم کسی پر اسرار طاقت کی طرف منسوب کرتے ہیں،اسی طرح واقعہ معراج بھی سر الاسرار رب تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے جب تک سنت الٰہیہ اور قدرت الٰہیہ دونوں پر صحیح طریقے سے ایمان نہیں لایا جائے گا اسی طرح کی دشواریاں سامنے آتی رہیں گی۔ یہاں تک تو عقلی اور سائنسی لحاظ سے واقعہ معراج پر کچھ گفتگو ہوئی لیکن اگر صوفیانہ نقطہ نظر سے گفتگو کی جائے تو صوفیہ کرام نے واقعہ معراج سے وہ نفیس نکات لیے ہیں کہ ہمیں یہ برملا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بلا شبہہ وہی لوگ در حقیقت بحر روحانیت کے غواص ہیں اور اس بحر کی غواصی کے بعد جو آبدار موتیاں انہیں ہاتھ آتی ہیں وہ کسی دوسرے کو نہیں ملتیں۔ سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء دہلوی قدس سرہ نے سفر معراج کے سلسلے میں تین اصطلاحات کا ذکر فرمایا ہے۔ ۱۔ اسراء: مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر۔ ۲۔معراج :بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر۔۳۔اِعراج: سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک عروج۔ ان تینوں مراحل کو اگر سامنے رکھا جائے تو فلسفۂ معراج کی صوفیانہ تفہیم آسانی کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین شانیں ہیں۔ ۱۔بشریت ۲۔نورانیت ۳۔مظہریت وحقیقت۔ مذکورہ تینوں شانیں آپ کی ذات کا حصہ ہیں اور آپ کی کوئی شان دوسری شان سے باہم دست وگریباں نہیں۔ جس وقت آپ سفرِ اِسرا یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کے سفر پر تھے اس وقت آپ کی شانِ بشریت کی معراج تھی جب کہ آپ کی نورانیت اور مظہریت والی شانیں مغلوب تھیں۔ جب آپ معراج پر یعنی بیت المقدس سے لے کر ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کے سفر پر تھے اس وقت آپ کی شان نورانیت کی معراج تھی اور آپ کی بشریت اور مظہریت والی شانیں مغلوب تھیں اورجس وقت آپ سفر اعراج یعنی سدرۃ المنتہیٰ سے آگے کے سفر پر تھے اس وقت آپ کی حقیقت اور مظہریت والی شان کی معراج تھی اور اس وقت آپ کی بشری اور نورانی شانیں مغلوب تھیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ فلسفۂ معراج کا صوفیانہ تصور یہ ہے کہ معراج کے توسط سے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ذات وصفات کے ہر پہلو اور آپ کے کمالات کی ہر شان کی تکمیل کردی گئی اور پھر آپ اوصاف وکمالات ربانی کا کامل ترین مظہر بن کر اس خاکدان گیتی کی طرف پلٹے لیکن ان کا حقیقی ادراک انسانی عقل سے باہر ہے اور آپ کے مقام محبوبیت کا تصور تمام روحانی، نورانی اور خاکی مخلوقات کے لیے ممکن نہیں۔ ان کے علاوہ سفر معراج میں اور بھی بہت سے اسباق، نصیحتیں، عبرتیں اور رموز واسرار ہیں جن سے کما حقہ صرف رب تعالیٰ اور اس کی عطاسے اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی واقف ہیں۔ ان رموز واسرار سے کچھ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے صوفیہ کرام اور دیگر علماے کرام کو ملا اور انہوں نے معراج پر کتابیں تحریر کرکے ان کو لوگوں کے لیے بیان کیا چنانچہ اس موضوع پر سیرت کے تمام مولفین نے ہی کچھ نہ کچھ لکھا ہے، بعض علماے کرام نے اس موضوع کو مستقل تصنیف کا حصہ بھی بنایا انہیں مصنفین میں ایک نام عارف باللہ حضرت سید محمد بن علوی بن عباس مالکی مکی حسنی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ آپ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آپ کی متعدد کتابیں بر صغیر ہندو پاک میں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ آپ نے’’الانوار البہیۃ فی اسراء ومعراج خیر البریۃ ‘‘کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ اس کتاب کے شروع میں اس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے کہ اسلامی لحاظ سے اہم مختلف تاریخی مواقع پر مسلمان جو دینی اجتماعات منعقد کرتے ہیں اور ان دنوں کی جو یاد مناتے ہیں ان کا تعلق عرف وعادت سے ہے اور کوئی بھی اسے اصل دین کا حصہ نہیں سمجھتا لہٰذا اس طرح کے اجتماعات کو روکنے اور ان پر نکیر کرنے کی بجائے ان مواقع کو غنیمت جان کر مسلمانوں کی اصلاح اور ان کے تزکیۂ نفس کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف علام نے یہ کتاب خاص طور سے ان لوگوں کے لیے لکھی ہے جو معراج النبی کے موقع پر اجتماعات کرتے ہیں تاکہ وہ اس کتاب اور اس میں درج صحیح روایات اور سفر معراج سے متعلق اس میں بیان کردہ عبرتوں، نصیحتوں اور دوسرے رموز واسرار سے استفادہ کرکے اپنے اجتماعات کی اصلاح کرسکیں اور انہیں موضوع اور بے اصل روایات کے اُن طومار سے پاک کرسکیں جن کی وجہ سے سفر معراج اور اس موقع پر ہونے والے اجتماعات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کتاب کی ترتیب،اس کا اسلوب نہایت اچھوتا اور دل نشیں ہے،پیرایۂ بیان ایساجاذب ہے کہ قاری جس طرح قصوں کی کتاب کو مکمل کیے بغیر نہیں رکھتا اسی طرح اس کتاب کو بھی مکمل پڑھے بغیر نہیں رکھ سکتا۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ محب مکرم مولانا مظہر حسین علیمی نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کردیا ہے، چنانچہ اب اس سے اردو قارئین بھی مستفید ہوسکیں گے۔ ترجمے کی تکمیل کے بعد انہوں نے نہ جانے کیا سوچ کر اسے میرے پاس نظر ثانی کے لیے بھیج دیا اور ایک مقدمہ لکھنے کی بھی فرمائش کردی،محض یہ ان کی دوستانہ نوازشات ہیں ۔ مولانا محترم کا ترجمہ میرے مطابق اچھا، سلیس اور با محاورہ ہے۔ امید ہے کہ قارئین ترجمے میں تصنیف کی لذت محسوس کریں گے۔ مولانا محترم ہندوستان کی ایک مایہ ناز درس گاہ دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی میں میرے رفیق درس رہے ہیں،وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی جفاکش، اخلاص کے پیکر اور تقویٰ شعار رہے ہیں۔ آج بھی وہ اپنی ان تمام خصوصیات کے ساتھ ترقی کے منازل طے کررہے ہیںاور اپنے معاصرین پر فائق ہیں۔ وہ ہمیشہ خود کچھ نہ کچھ کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کرواتے رہتے ہیں، ماہنامہ سنی دعوت اسلامی نے بھی ان کی مخلصانہ کاوش سے ہی علمی وعوامی طبقوں میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوں کہ مولائے کریم صاحب معراج صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ان کی طرح ہمیں بھی خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے اور نمازوں کو ہمارے لیے اپنی معراج کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔ ضیاء الرحمن علیمی ۳؍۵؍۲۰۱۲ء

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...