Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1463
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.6K Views
معراج شریف میں واقعہ شق صدر از کتاب معراج حبیب ﷺ
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
معراج شریف میں واقعہ شق صدر از کتاب معراج حبیب ﷺ
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
معراج شریف میں واقعہ شق صدر
اس مبارک سفر پر روانگی سے قبل حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو کھولا اور آبِ زمزم سے تین مرتبہ دھویا۔ اس مبارک عمل میں حضرت میکائیل علیہ السلام کی معاونت شامل تھی۔ شق صدر کا واقعہ چار مرتبہ پیش آیا۔ پہلی مرتبہ جب آپ قبیلۂ سعد میں بالکل ننھے بچے تھے۔ دوسری مرتبہ دس سال کی عمر میں، تیسری بار بعثت کے وقت، چوتھی مرتبہ اسراکی رات میں۔ واقعۂ شق صدر صحیح طریقوں پر ثابت ہے اور یہ حقیقت پر مبنی ہے اس کی تاویل کرنا اور اسے امرِ معنوی پر محمول کرنا درست نہیں۔اس لیے کہ اللہ جل شانہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور مافوق العادات کو عقل کے ترازو پر نہیں تولا جاسکتا۔ محدثین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرئیل امین نے جس وقت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو نکال کر آب زمزم سے دھویا ہر قسم کی اذیت دینے والی شئی کو آپ کے دل سے نکال دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل نے آپ کے قلب مبارک سے سیاہ بستہ خون کو نکال دیا اور کہا کہ یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ ہے۔ حضرت شیخ دردیر نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ پر شیطان کابس چلنے والاہوتاتویہ آپ کے دل میں شیطان کے وسوسے اور غلبے کامقام ہوتا۔شق صدر کا مقصد:
شق صدر کامقصودیہ تھاکہ جس طرح آپ کے ظاہر ی کمالات روشن ہیں اسی طرح آپ کے باطنی کمالات کوظاہر کردیاجائے۔ عارف باللہ امام سید علی حبشی رحمۃ اللہ علیہ نے واقعہ شق صدرجیساکہ اخبار واحادیث میں واردہے اور آپ کے قلب سے شیطان کا حصہ نکال دیے جانے کے بارے میں فرماتے ہیں: وَمَا اَخْرَجَ الْاَ مْلَاَکُ مِنْ قَلْبِہٖ اَذَیٰ وَّلٰکِنَّھُمْ زَادُوْہُ طُھْرًا عَلٰی طُھْرٍ (یعنی فرشتوں نے آپ کے قلبِ اطہر سے اذیت دہ چیز کو نہیں نکالا بلکہ آپ کے پاک دل پر پاکی کا اضافہ کردیا۔) (حضرت سید محمد بن علوی صاحب کتاب فرماتے ہیں:) میرے دل میں ایک دوسرا معنوی نکتہ آیاہے ا وروہ یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک رحمت سے لبریز تھا بلکہ آپ کا قلب مبارک رحمت کا منبع اور اصل ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (۱) (ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رحمت، رحمتِ عامہ اور کاملہ ہے ۔اس لیے کہ یہ وہ رحمت ہے جو ہر چیز کو وسیع ہے۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے شیطان، اس کے اعوان واِخوان اور ان لوگوں کو جن کے لیے اس رحمت سے محرومی مقدر کردی گئی ہے نکال دیا ہے لہٰذا ان کے لیے رحمتِ رسول کا کوئی حصہ نہ رہا۔ اب اس صورت میں معنی یہ ہوا کہ فرشتوں نے آپ کے قلب مبارک سے شیطان کے لیے آپ کی رحمت کا حصہ نکال دیا لہٰذا شیطان کے لیے اس رحمت سے حصہ نہ رہا۔ واللہ اعلم۔ پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>معراج شریف میں واقعہ شق صدر</h2> اس مبارک سفر پر روانگی سے قبل حضرت جبرئیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو کھولا اور آبِ زمزم سے تین مرتبہ دھویا۔ اس مبارک عمل میں حضرت میکائیل علیہ السلام کی معاونت شامل تھی۔ شق صدر کا واقعہ چار مرتبہ پیش آیا۔ پہلی مرتبہ جب آپ قبیلۂ سعد میں بالکل ننھے بچے تھے۔ دوسری مرتبہ دس سال کی عمر میں، تیسری بار بعثت کے وقت، چوتھی مرتبہ اسراکی رات میں۔ واقعۂ شق صدر صحیح طریقوں پر ثابت ہے اور یہ حقیقت پر مبنی ہے اس کی تاویل کرنا اور اسے امرِ معنوی پر محمول کرنا درست نہیں۔اس لیے کہ اللہ جل شانہ ہر شے پر قادر ہے۔ اور مافوق العادات کو عقل کے ترازو پر نہیں تولا جاسکتا۔ محدثین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت جبرئیل امین نے جس وقت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو نکال کر آب زمزم سے دھویا ہر قسم کی اذیت دینے والی شئی کو آپ کے دل سے نکال دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل نے آپ کے قلب مبارک سے سیاہ بستہ خون کو نکال دیا اور کہا کہ یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ ہے۔ حضرت شیخ دردیر نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ پر شیطان کابس چلنے والاہوتاتویہ آپ کے دل میں شیطان کے وسوسے اور غلبے کامقام ہوتا۔ <h2>شق صدر کا مقصد:</h2> شق صدر کامقصودیہ تھاکہ جس طرح آپ کے ظاہر ی کمالات روشن ہیں اسی طرح آپ کے باطنی کمالات کوظاہر کردیاجائے۔ عارف باللہ امام سید علی حبشی رحمۃ اللہ علیہ نے واقعہ شق صدرجیساکہ اخبار واحادیث میں واردہے اور آپ کے قلب سے شیطان کا حصہ نکال دیے جانے کے بارے میں فرماتے ہیں: وَمَا اَخْرَجَ الْاَ مْلَاَکُ مِنْ قَلْبِہٖ اَذَیٰ وَّلٰکِنَّھُمْ زَادُوْہُ طُھْرًا عَلٰی طُھْرٍ (یعنی فرشتوں نے آپ کے قلبِ اطہر سے اذیت دہ چیز کو نہیں نکالا بلکہ آپ کے پاک دل پر پاکی کا اضافہ کردیا۔) (حضرت سید محمد بن علوی صاحب کتاب فرماتے ہیں:) میرے دل میں ایک دوسرا معنوی نکتہ آیاہے ا وروہ یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک رحمت سے لبریز تھا بلکہ آپ کا قلب مبارک رحمت کا منبع اور اصل ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔ (۱) (ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ رحمت، رحمتِ عامہ اور کاملہ ہے ۔اس لیے کہ یہ وہ رحمت ہے جو ہر چیز کو وسیع ہے۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے شیطان، اس کے اعوان واِخوان اور ان لوگوں کو جن کے لیے اس رحمت سے محرومی مقدر کردی گئی ہے نکال دیا ہے لہٰذا ان کے لیے رحمتِ رسول کا کوئی حصہ نہ رہا۔ اب اس صورت میں معنی یہ ہوا کہ فرشتوں نے آپ کے قلب مبارک سے شیطان کے لیے آپ کی رحمت کا حصہ نکال دیا لہٰذا شیطان کے لیے اس رحمت سے حصہ نہ رہا۔ واللہ اعلم۔ <a href="https://www.sadaeislam.in/blog/meraje-habeeb-sallahu-alaihe/"><strong>پوری کتاب پڑھنے کے لئے کلک کریں ۔</strong></a>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...