Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #53 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.8K Views

معلق تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا ایک راستہ/ طلاق کا اہم مسئلہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

معلق تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا ایک راستہ/ طلاق کا اہم مسئلہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

معلق تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا ایک راستہ

حضرت مفتی صاحب قبلہ!! السلام علیکم و رحمۃ اللہ بعدہ عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک شادی شدہ عالم ہے اور اس کی اہلیہ بعض گھریلو مسائل کے چلتے اپنے میکے میں رہ رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں اہلیہ نے زید سے اسی کے ساتھ رہنے کی خواہش کی ۔ زید جو کہ پردیس میں امامت کرتا ہے اس نے معذرت کرتے ہوئے یہ کہا کہ ابھی آپکے لئے یہاں کے حالات سازگار نہیں ہے آپ فی الحال وہیں(میکے) رہیں یا ہمارے وطن اصلی پر جاکر وہاں رہیں یا کہیں پڑھانے چلی جائیں میرے پاس ابھی نہ آئیں ۔ اہلیہ زید ہی کے پاس آنے پر بضد تھی نتیجتاً دونوں میں تکرار ہوئ زید نے غصہ سے یہ الفاظ اپنی اہلیہ سے کہے ۔ “اگر تم میرے پاس آگئ تو تم کو طلاق طلاق طلاق” دریافت طلب امور یہ ہیں کہ ١-کیا تینوں طلاقیں فوری طور پر پڑ جائینگی یا اہلیہ کے گھر آنے کے بعد؟ ٢-اگر اہلیہ خود نہ آئے بلکہ شوہر اسے خود جاکر لائے تو کیا اس صورت میں وہ طلاق سے محفوظ رہے گی؟ ٣-کیا کوی ایسی صورت, حیلہ ایسا ہے کہ جس سے یہ تعلیق ختم ہو اور عورت طلاق مغلظہ پڑنے سے محفوظ رہے؟ بینوا و توجروا. المستفتی حافظ عبد القادر اجمیری احمد نگر مہاراشٹر الجواب: جواب نمبر(١) چوں کہ شوہر نے تینوں طلاقوں کو بیوی کے اپنے پاس آنے پر معلق (مشروط) کیا ہے اس لیے جب تک بیوی کا اس کے پاس آنا نہیں پایا جائے گا اس کلام سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ جواب نمبر(٢) ظاہر یہی ہے کہ شوہر اگر خود جاکر لائے تب بھی طلاق پڑجائے گی، کیوں کہ شوہر کے لانے کی صورت میں بھی اس کے پاس آنا پایا جائے گا ۔ ہاں! اگر کوئی زبردستی اس عورت کو اٹھاکر اس کے پاس لائے تو اس صورت میں وقوع طلاق نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کے بعد بیوی کی طرف سے شوہر کے پاس آنابہر حال پایاجائے گا تو طلاقیں پڑیں گی ۔ لہذا یہ طریقہ وہ بھی عورت کو طاقت کے بل بوتے گھسیٹ کر لانے کا مفید نہ ہوگا۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قسم کھائی کہ مسجد سے نہ نکلے گا اگر خود نکلا یا اس نے کسی کو حکم دیا وہ اسے اوٹھا کر مسجد سے باہر لایا تو قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگرزبردستی کسی نے مسجد سے کھینچ کر باہر کردیا تو نہیں ٹوٹی اگرچہ دل میں نکالنے پر خوش ہو ۔ زبردستی کے معنے یہاں صرف اتنے ہیں کہ نکلنا اپنے اختیار سے نہ ہو یعنی کوئی ہاتھ پکڑ کر یا اوٹھا کر باہر کردے اگرچہ یہ نہ جانا چاہتا تو وہ باہر نہ کرسکتا ہو ۔ اور اگر اس نے دھمکی دی اور ڈر کر یہ خود نکل گیا تو قسم ٹوٹ گئی ۔ اور اگر زبردستی نکالنے کے بعد پھرمسجد میں گیا اور اپنے آپ باہر ہوا تو قسم ٹوٹ گئی اور مکان سے نہ نکلنے کی قسم کھائی جب بھی یہی احکام ہیں”۔ (بہارشریعت حصہ ٩ ص٣٢۵ نسخہ دعوت اسلامی ایپ) البتہ یہاں ایک شبہہ ضرور ہوتا ہے کہ اس شرط سے شوہر کا مقصد یہ ہے کہ اس کی رضامندی کے بغیر اگر بیوی اس کے پاس آئے تو تین طلاق ہے ۔ اور جب شوہر خود بلاکر لائے تو اس کی مرضی کے خلاف بیوی کا آنا نہیں پایا گیا تو طلاق نہیں پڑنی چاہیے ۔ لیکن اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ یمین (قسم اور تعلیق) میں الفاظ وکلمات کا عرفی معنی ملحوظ ہوتا ہے ۔ قائل کی نیت اور اس کا اصل مقصد ملحوظ نہیں ہوتا ہے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “قسم میں الفاظ کا لحاظ ہوگا اس کا لحاظ نہ ہوگا کہ اس قسم سے غرض کیا ہے یعنی ان لفظوں کے بول چال میں جو معنے ہیں وہ مراد لیے جائیں گے ۔ قسم کھانے والے کی نیت اور مقصد کا اعتبار نہ ہوگا ۔ مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کے لیے ایک پیسہ کی کوئی چیز نہیں خریدوں گا اور ایک روپیہ کی خریدی تو قسم نہیں ٹوٹی ۔ حالانکہ اس کلام سے مقصد یہ ہوا کرتا ہے کہ نہ پیسے کی خریدوں گا نہ روپیہ کی مگر چونکہ لفظ سے یہ نہیں  سمجھا جاتا لہٰذا اس کا اعتبار نہیں ۔ یا قسم کھائی کہ دروازہ سے باہرنہ جاؤں گا اور دیوار کود کریا سیڑھی لگا کر باہر چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی ۔ اگرچہ اس سے مراد یہ ہے کہ گھرسے باہر نہ جاؤں گا” (بہار شریعت حصہ ٩)ہذا ما ظہر لی والعلم بالحق عند اللہ وہو سبحانہ وتعالی اعلم۔ جواب نمبر(٣) معلق تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا ایک راستہ خدائے علیم وحکیم ائمہ دین کو اپنے شان کریمی کے شایاں جزائے فراواں عطا کرے کہ انھوں نے دشوار سے دشوار صورت حال پیدا کرنے والے شخص کے لیے بھی آسانی کا راستہ بتایا ہے آدمی اپنی غلطی سے اپنے اوپر قافیہ حیات کتنا ہی تنگ کرلے ہمارے ائمہ تنگی دور کرنے کےطریقے افادہ فرماتے ہیں ۔ فجزاہم اللہ تعالی احسن الجزاء ۔ ایسے شخص کے لیے تین طلاق سے بچنے کی راہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دیدے اور عدت گزرنے کے بعد بیوی اس کے پاس آئے تو یہ تعلیق ختم ہوجائے گی ۔ پھر اس کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کرلے ۔ اب اس کے بعد بیوی کے شوہر کے پاس آنے سے طلاق نہ پڑے گی ۔ علامہ محقق علاوالدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “وتنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا،لکن ان وجد فی الملک طلقت وعتق والا لا۔ فحیلة من علق الثلاث بدخول الدار ان یطلقہا واحدة، ثم بعد العدة تدخلہا، فتنحل الیمین، فینکحہا” (در مختار ج۴ص٦٠٩) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہو جاتی ہے اگرچہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت نکاح سے نکل گئی ہو ۔ البتہ اگر عورت نکاح میں نہ رہی تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔ مثلاً عورت سے کہا تھا اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ کو طلاق ہے ۔ اس کے بعد عورت کو طلاق دیدی اور عدّت گزر گئی اب عورت اُس کے گھر گئی پھر شوہر نے اُس سے نکاح کرلیا اب پھر گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی کہ تعلیق ختم ہوچکی ہے ۔ لہٰذا اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ پر تین طلاقیں ۔ اور چاہتا ہو کہ اُس کے گھر آمدورفت شروع ہو جائے تو اُس کا حیلہ یہ ہے کہ عورت کو ایک طلاق دیدے پھر عدّت کے بعد عورت اُس کے گھر جائے پھر نکاح کرلے اب جایا آیا کرے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ مگر عموم کے الفاظ استعمال کیے ہوں تو یہ حیلہ کام نہیں دیگا ۔ “(بہار شریعت حصہ٨ص ١۵٣دعوت اسلامی ایپ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ/١۵/اپریل ٢٠٢١ء

طلاق کاایک اہم مسئلہ غلطی سے ٹائپسٹ نے تین طلاق لکھ دیا تو ؟

روزے کی حالت میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا

 

Kutubahu & Verified by:

<h2>معلق تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا ایک راستہ</h2> حضرت مفتی صاحب قبلہ!! السلام علیکم و رحمۃ اللہ بعدہ عرض ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک شادی شدہ عالم ہے اور اس کی اہلیہ بعض گھریلو مسائل کے چلتے اپنے میکے میں رہ رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں اہلیہ نے زید سے اسی کے ساتھ رہنے کی خواہش کی ۔ زید جو کہ پردیس میں امامت کرتا ہے اس نے معذرت کرتے ہوئے یہ کہا کہ ابھی آپکے لئے یہاں کے حالات سازگار نہیں ہے آپ فی الحال وہیں(میکے) رہیں یا ہمارے وطن اصلی پر جاکر وہاں رہیں یا کہیں پڑھانے چلی جائیں میرے پاس ابھی نہ آئیں ۔ اہلیہ زید ہی کے پاس آنے پر بضد تھی نتیجتاً دونوں میں تکرار ہوئ زید نے غصہ سے یہ الفاظ اپنی اہلیہ سے کہے ۔ <em><strong>"اگر تم میرے پاس آگئ تو تم کو طلاق طلاق طلاق"</strong></em> دریافت طلب امور یہ ہیں کہ ١-کیا تینوں طلاقیں فوری طور پر پڑ جائینگی یا اہلیہ کے گھر آنے کے بعد؟ ٢-اگر اہلیہ خود نہ آئے بلکہ شوہر اسے خود جاکر لائے تو کیا اس صورت میں وہ طلاق سے محفوظ رہے گی؟ ٣-کیا کوی ایسی صورت, حیلہ ایسا ہے کہ جس سے یہ تعلیق ختم ہو اور عورت طلاق مغلظہ پڑنے سے محفوظ رہے؟ بینوا و توجروا. المستفتی حافظ عبد القادر اجمیری احمد نگر مہاراشٹر <em><strong>الجواب:</strong></em> جواب نمبر(١) چوں کہ شوہر نے تینوں طلاقوں کو بیوی کے اپنے پاس آنے پر معلق (مشروط) کیا ہے اس لیے جب تک بیوی کا اس کے پاس آنا نہیں پایا جائے گا اس کلام سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ <em>واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔</em> <em><strong>جواب نمبر(٢) </strong></em> ظاہر یہی ہے کہ شوہر اگر خود جاکر لائے تب بھی طلاق پڑجائے گی، کیوں کہ شوہر کے لانے کی صورت میں بھی اس کے پاس آنا پایا جائے گا ۔ ہاں! اگر کوئی زبردستی اس عورت کو اٹھاکر اس کے پاس لائے تو اس صورت میں وقوع طلاق نہیں ہونا چاہیے ۔ لیکن اس کے بعد بیوی کی طرف سے شوہر کے پاس آنابہر حال پایاجائے گا تو طلاقیں پڑیں گی ۔ لہذا یہ طریقہ وہ بھی عورت کو طاقت کے بل بوتے گھسیٹ کر لانے کا مفید نہ ہوگا۔ صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "قسم کھائی کہ مسجد سے نہ نکلے گا اگر خود نکلا یا اس نے کسی کو حکم دیا وہ اسے اوٹھا کر مسجد سے باہر لایا تو قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگرزبردستی کسی نے مسجد سے کھینچ کر باہر کردیا تو نہیں ٹوٹی اگرچہ دل میں نکالنے پر خوش ہو ۔ زبردستی کے معنے یہاں صرف اتنے ہیں کہ نکلنا اپنے اختیار سے نہ ہو یعنی کوئی ہاتھ پکڑ کر یا اوٹھا کر باہر کردے اگرچہ یہ نہ جانا چاہتا تو وہ باہر نہ کرسکتا ہو ۔ اور اگر اس نے دھمکی دی اور ڈر کر یہ خود نکل گیا تو قسم ٹوٹ گئی ۔ اور اگر زبردستی نکالنے کے بعد پھرمسجد میں گیا اور اپنے آپ باہر ہوا تو قسم ٹوٹ گئی اور مکان سے نہ نکلنے کی قسم کھائی جب بھی یہی احکام ہیں"۔ <em><strong>(بہارشریعت حصہ ٩ ص٣٢۵ نسخہ دعوت اسلامی ایپ)</strong></em> البتہ یہاں ایک شبہہ ضرور ہوتا ہے کہ اس شرط سے شوہر کا مقصد یہ ہے کہ اس کی رضامندی کے بغیر اگر بیوی اس کے پاس آئے تو تین طلاق ہے ۔ اور جب شوہر خود بلاکر لائے تو اس کی مرضی کے خلاف بیوی کا آنا نہیں پایا گیا تو طلاق نہیں پڑنی چاہیے ۔ لیکن اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ یمین (قسم اور تعلیق) میں الفاظ وکلمات کا عرفی معنی ملحوظ ہوتا ہے ۔ قائل کی نیت اور اس کا اصل مقصد ملحوظ نہیں ہوتا ہے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "قسم میں الفاظ کا لحاظ ہوگا اس کا لحاظ نہ ہوگا کہ اس قسم سے غرض کیا ہے یعنی ان لفظوں کے بول چال میں جو معنے ہیں وہ مراد لیے جائیں گے ۔ قسم کھانے والے کی نیت اور مقصد کا اعتبار نہ ہوگا ۔ مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کے لیے ایک پیسہ کی کوئی چیز نہیں خریدوں گا اور ایک روپیہ کی خریدی تو قسم نہیں ٹوٹی ۔ حالانکہ اس کلام سے مقصد یہ ہوا کرتا ہے کہ نہ پیسے کی خریدوں گا نہ روپیہ کی مگر چونکہ لفظ سے یہ نہیں  سمجھا جاتا لہٰذا اس کا اعتبار نہیں ۔ یا قسم کھائی کہ دروازہ سے باہرنہ جاؤں گا اور دیوار کود کریا سیڑھی لگا کر باہر چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی ۔ اگرچہ اس سے مراد یہ ہے کہ گھرسے باہر نہ جاؤں گا" (بہار شریعت حصہ ٩)ہذا ما ظہر لی والعلم بالحق عند اللہ وہو سبحانہ وتعالی اعلم۔ <em><strong>جواب نمبر(٣) معلق تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا ایک راستہ</strong></em> خدائے علیم وحکیم ائمہ دین کو اپنے شان کریمی کے شایاں جزائے فراواں عطا کرے کہ انھوں نے دشوار سے دشوار صورت حال پیدا کرنے والے شخص کے لیے بھی آسانی کا راستہ بتایا ہے آدمی اپنی غلطی سے اپنے اوپر قافیہ حیات کتنا ہی تنگ کرلے ہمارے ائمہ تنگی دور کرنے کےطریقے افادہ فرماتے ہیں ۔ فجزاہم اللہ تعالی احسن الجزاء ۔ ایسے شخص کے لیے تین طلاق سے بچنے کی راہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دیدے اور عدت گزرنے کے بعد بیوی اس کے پاس آئے تو یہ تعلیق ختم ہوجائے گی ۔ پھر اس کے بعد دوبارہ اس سے نکاح کرلے ۔ اب اس کے بعد بیوی کے شوہر کے پاس آنے سے طلاق نہ پڑے گی ۔ علامہ محقق علاوالدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: "وتنحل الیمین بعد وجود الشرط مطلقا،لکن ان وجد فی الملک طلقت وعتق والا لا۔ فحیلة من علق الثلاث بدخول الدار ان یطلقہا واحدة، ثم بعد العدة تدخلہا، فتنحل الیمین، فینکحہا" (در مختار ج۴ص٦٠٩) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہو جاتی ہے اگرچہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت نکاح سے نکل گئی ہو ۔ البتہ اگر عورت نکاح میں نہ رہی تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔ مثلاً عورت سے کہا تھا اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ کو طلاق ہے ۔ اس کے بعد عورت کو طلاق دیدی اور عدّت گزر گئی اب عورت اُس کے گھر گئی پھر شوہر نے اُس سے نکاح کرلیا اب پھر گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی کہ تعلیق ختم ہوچکی ہے ۔ لہٰذا اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ پر تین طلاقیں ۔ اور چاہتا ہو کہ اُس کے گھر آمدورفت شروع ہو جائے تو اُس کا حیلہ یہ ہے کہ عورت کو ایک طلاق دیدے پھر عدّت کے بعد عورت اُس کے گھر جائے پھر نکاح کرلے اب جایا آیا کرے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ مگر عموم کے الفاظ استعمال کیے ہوں تو یہ حیلہ کام نہیں دیگا ۔ "(بہار شریعت حصہ٨ص ١۵٣دعوت اسلامی ایپ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ/١۵/اپریل ٢٠٢١ء <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=187" rel="bookmark">طلاق کاایک اہم مسئلہ غلطی سے ٹائپسٹ نے تین طلاق لکھ دیا تو ؟</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=218" rel="bookmark">روزے کی حالت میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا</a></h2>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...