01
The questionSawaal
اصل سوالمقام صہبا میں سورج پلٹانے کے واقعہ کی تحقیق
02
The responseAl-Jawab
مقام صہبا میں سورج پلٹانے کے واقعہ کی تحقیق
مقام صہبا میں جو واقعہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سورج کو پلٹایا اور جب تک آپ نماز پڑھتے رہے سورج غروب نہیں ہوا.اس کے تعلق سے بیان فرمادیں کہ یہ واقعہ کیسا ہے؟ مذکورہ فتوے کی روشنی میں. یہ کوئی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اطمینان قلب کے لئے سوال. جزاک اللہ ۔ سائل : محمد صدر عالم نظامی مصباحی الجواب بعون الملک الوھاب“سورج پلٹ آیا”
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے آسمانی معجزات میں سورج پلٹ آنے کامعجزہ بھی بہت ہی عظیم الشان معجزہ اور صداقت نبوت کا ایک واضح ترین نشان ہے ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان ہے کہ “خیبر” کے قریب ” منزل صہبا ” میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی گود میں اپنا سر اقدس رکھ کر سو گئے اور آپ پر وحی نازل ہونے لگی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سر اقدس کو اپنی آغوش میں لیے بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ کو یہ معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز عصر قضا ہوگئی تو آپ نے یہ دعا فرمائی کہ یااللہ! یقینا علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے لہذا تو سورج کو واپس لوٹا دے تا کہ علی نماز عصر ادا کرلیں۔ حضرت بی بی اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ڈوبا ہوا سورج پلٹ آیا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور زمین کے اوپر ہر طرف دھوپ پھیل گئی۔ (زرقانی، جلد ،۵ ص ،۱۱۳ ) (شفاء ،جلد، ۱ ص ،٤٤٨/٤٤٩ ) ( مدارج النبوۃ جلد،۲ ص، ٣٠٧/٣٠٨) ( سیرت مصطفی،ص، ٤٧٥) (عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، ۱٠،٤۵۳، تحت الحدیث،٣١٢٤) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.