Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1181 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.4K Views

موبائل پر گفتگو کا انداز کیسا ہونا چایئے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

موبائل پر گفتگو کا انداز کیسا ہونا چایئے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

موبائل پر گفتگو کا انداز کیسا ہونا چایئے؟

الجوبـــــــــــــــــــــــ ” دین اسلام کا فکری و عملی دستور اور نظام تمدن و معاشرت سختی کے بجائے نرمی میں اور شدت کے بجائے ملائمت پر قائم ہے۔ نرمی اور متانت و سنجیدگی اسلام کے مزاج میں داخل ہے ۔ حدیث پاک میں آیا ہے ” اللہ تبارک و تعالی ہر چیز میں نرمی کو پسند فرماتا ہے” ان الله يحب الرفق في الامر كله. مسلم شريف كی حدیث ہے: ” من يحرم الرفق يحرم الخير” ترجمه: جو شخص نرمی سے محروم رہتا ہے وہ بھلائی سے محروم رہتا ہے۔ لہذا آپسی میل جول اور باہمی ملاقات میں میں متانت وسنجیدگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ موبائل پر گفتگو بھی ملاقات ہے۔ لہذا موبائل پر بھی نرمی اور شائستگی کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ موبائل پر گفتگو پوری متانت و سنجیدگی اور خوشگوار لہجے میں ہونی چاہیے۔ بات چیت کا انداز ایسا ہو کہ دوسرا شخص آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ علاوہ ازیں زبان بالکل سادہ، عام فہم اور سلیس ہو۔ گفتگو نا بالکل زور زور سے ہو اور نہ ہی آہستہ آہستہ۔ اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ بات چیت کریں، اگر موبائل پر گفتگو کرنے والے بڑے بزرگ مثلا والدین ، اساتذہ و پیرومرشد اور قریبی رشتہ دار (جو آپ سے عمر میں بڑے ہیں) ہوں تو ان کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھیں اور ان کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ہی بات کریں۔ اور موبائل سے بات کرنے والا آپ سے عمر میں چھوٹا ہے تو اس کے ساتھ شفقت و رحمت کا برتاؤ کریں۔ الغرض موبائل کے ذریعہ بات چیت کرنے میں وہ تمام آداب ملحوظ رکھیں جو رو برو بات کرنے میں مخاطب کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ملحوظ ہوتے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: انزلوا الناس منازلهم. ترجمه: لوگوں کے مقام و منصب کی رعایت کرو۔ اور ترمذی شریف میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے: ليس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يؤقر كبيرنا. ترجمه: جو بچے پر شفقت و رحمت اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ لہذا موبائل پر گفتگو کے دوران ان چیزوں کی رعایت ضرور ہونی چاہیے۔ ماخوز از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی

Kutubahu & Verified by:

<h2>موبائل پر گفتگو کا انداز کیسا ہونا چایئے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوبـــــــــــــــــــــــ</strong></span> " دین اسلام کا فکری و عملی دستور اور نظام تمدن و معاشرت سختی کے بجائے نرمی میں اور شدت کے بجائے ملائمت پر قائم ہے۔ نرمی اور متانت و سنجیدگی اسلام کے مزاج میں داخل ہے ۔ حدیث پاک میں آیا ہے " اللہ تبارک و تعالی ہر چیز میں نرمی کو پسند فرماتا ہے" <span style="color: #ff0000;"><strong>ان الله يحب الرفق في الامر كله.</strong></span> مسلم شريف كی حدیث ہے: " <span style="color: #ff0000;"><strong>من يحرم الرفق يحرم الخير"</strong></span> ترجمه: جو شخص نرمی سے محروم رہتا ہے وہ بھلائی سے محروم رہتا ہے۔ لہذا آپسی میل جول اور باہمی ملاقات میں میں متانت وسنجیدگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ موبائل پر گفتگو بھی ملاقات ہے۔ لہذا موبائل پر بھی نرمی اور شائستگی کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ موبائل پر گفتگو پوری متانت و سنجیدگی اور خوشگوار لہجے میں ہونی چاہیے۔ بات چیت کا انداز ایسا ہو کہ دوسرا شخص آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ علاوہ ازیں زبان بالکل سادہ، عام فہم اور سلیس ہو۔ گفتگو نا بالکل زور زور سے ہو اور نہ ہی آہستہ آہستہ۔ اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ بات چیت کریں، اگر موبائل پر گفتگو کرنے والے بڑے بزرگ مثلا والدین ، اساتذہ و پیرومرشد اور قریبی رشتہ دار (جو آپ سے عمر میں بڑے ہیں) ہوں تو ان کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھیں اور ان کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ہی بات کریں۔ اور موبائل سے بات کرنے والا آپ سے عمر میں چھوٹا ہے تو اس کے ساتھ شفقت و رحمت کا برتاؤ کریں۔ الغرض موبائل کے ذریعہ بات چیت کرنے میں وہ تمام آداب ملحوظ رکھیں جو رو برو بات کرنے میں مخاطب کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ملحوظ ہوتے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>انزلوا الناس منازلهم.</strong></span> ترجمه: لوگوں کے مقام و منصب کی رعایت کرو۔ اور ترمذی شریف میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>ليس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يؤقر كبيرنا.</strong></span> ترجمه: جو بچے پر شفقت و رحمت اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ لہذا موبائل پر گفتگو کے دوران ان چیزوں کی رعایت ضرور ہونی چاہیے۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوز از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...