Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #33 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.1K Views

مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے ۔

۱۸؍ ربیع النور۱۴۴۰ھ /مطابق ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۸ء ـــمنگل،ـ شام بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا ﴿خلاصۂ فیصلہ ﴾ یہ معاملہ اصلاً اجارہ ہے جس میں ضمناً بیع بھی ہوتی ہے اور بوجہِ تعامل اس کے جواز کا حکم ہے ۔ دونوں طرف سے جتنے پر معاملہ طے ہوا اتنے پر اس کی تکمیل ٹھیکہ دار پر لازم ہے اور ٹھیکہ دار خسارے میں نہیں ہوتا بلکہ نفع ہی پاتا ہے ۔  بالفرض کسی آفتِ ناگہانی سے غیر معمولی خسارہ ہو گیا تو ٹھیکہ دار حکومت وغیرہ سے صورتِ حال بتا کر مقررہ رقم میں اضافہ کرا سکتا ہے ۔ (۱)آج کل تعمیرات کے لیے ایسے ٹھیکے عام طور پر رائج ہیں جن میں ٹھیکے دار کو تعمیری سامان بھی لگانا طے ہوتا ہے ۔ یہ عقد استصناع ہے یا اجارہ یا اجارہ مع بیع ہے؟ اس پر بحث و مباحثہ کے بعد یہ طے ہوا کہ تمام معاملہ کرنے والوں کے درمیان یہ عقد ٹھیکہ یا اجارہ کہلاتا ہے اور وہ اسے اجارہ سمجھ کر ہی انجام دیتے ہیں ۔  یہی ان کے عرف میں ہے اور اجارہ ہی ان کا مقصود و معمول ہے اور چوں کہ سامان لگانا بھی ٹھیکہ دار کے ذمہ طے ہوتا ہے اس لیے بیع اس میں ضمنًا و تبعاً ہوتی ہے ۔ ان دونوں پر نظر کرتے ہوئے یہ معاملہ اصلاً اجارہ ہے جس میں ضمناً بیع بھی ہوتی ہے اور بوجہِ تعامل اس کے جواز کا حکم ہے ۔  ہدایہ ، فتح القدیر، بدائع الصنائع ، تبیین الحقائق و بحر الرائق وغیرہ کتب فقہ میں ہے: وَالْعِبْرَۃُ فِي الْعُقُودِ لِلْمَعَانِيْ

مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے

فتاوی بزازیہ میں ہے: دفع إلی إسكاف درہمين علی أن يخرز لہ من جلد أعطاہ خفين مُنعَّلين من عندہ يجوز للتعامل. والقياسُ أن لا يجوز ،كما لو أعطی الخياط ثوباً علی أن يحشوہ بقطن لہ بكذا لأنہإجارۃفي بيع ۔ وعن محمّد رحمہٗ اللہ تعالیٰ : دفع ظہارۃ إلی الخياط علی أن يكون منہ القطن يصح كما في الخُفّ فحصلت المسئلۃ علی الروايتين ۔ ولو (دَفَعَ-ن) علیأنّ الظہارۃ منہ لا يصح علی الروايات كلہا لأنّہٗ لا تعامل ۔ ثم إن محمداً جو ز ہذا بلا رؤيۃ النعل والبطانۃ حملاً علی نعل يليق بالجلد وكذا لو شرط أن يخرز علی خفہ أربع قطع أو أن يرقع ثوبہ ۔  وفي نوادر ابن سماعۃ:شرط الإراءۃ فإذا في الرقع والخصف روايتان لأنہ جعل ہذا تبعاً للعمل فتعتبر العادۃ فيہ وكذا لو أعطاہ خرقۃ علی أن البطانۃ والحشو من عندہليجعلہا لہ قلنسوۃ وكذا لو دفع إلی نداف ثوباً ليندف عليہ من قطنہ كذا بكذا ولم يبين الأجر من الثمن صح للتعامل ۔ (الفتاوی البزازيۃ بر ہامش الہنديہ ج: ۵، ص: ۷۲، الفصل الخامس فی الاستصناع والاستئجار علی العمل) خلاصۃ الفتاوی میں ہے:في المنتقیٰ عن محمد رحمہ اللہ: دفع إلی خياط ظہارۃ و قال: بطنہا من عندك فہو جائز و قاسہ علی الخف، ولو قال: ظہارتہا من عندك فہو فاسد باتفاق الروايات ؛ لأنہ لا تعامل فيہ. اہـ (خلاصۃ الفتاوی، ج: ۳، ص: ۱۲۶)

(۲)دوسرا مسئلہ یہ زیر بحث آیا کہ دورانِ اجارہ سامانوں کی قیمت بہت بڑھ گئی اور ٹھیکہ دار کو خسارہ نظر آیا تو طے شدہ اجارے کی تکمیل اس کے ذمہ لازم ہے یا نہیں؟

جواب میں بعد بحث یہ طے ہوا کہ دونوں طرف سے عقد طے ہو جانے کے بعد جتنے پر معاملہ ہوا، اتنے پر اس کی تکمیل ٹھیکہ دار پر لازم ہے ۔ عملاً بھی عمومًا یہی ہوتا ہے اور ٹھیکہ دار خسارے میں نہیں ہوتا بلکہ نفع ہی پاتا ہے ۔ بالفرض اگر کسی آفت ناگہانی کی وجہ سے غیر معمولی و غیر متوقع خسارے کی شکل سامنے آئی تو ٹھیکہ دار حکومت یا کمپنی یا کسی بھی فریق سے اپنی صورت حال بتاکر مقررہ رقم میں اضافہ کرا سکتا ہےیااگر ضروری سمجھے تو فسخ عقد پر تیار کرے ۔ معلوم ہوا کہ غیر متوقع نقصانات کی شکل میں حکومت کے افسران بھی غور و فکر کرکے ٹھیکہ دار کے خسارے کا ازالہ کرتے ہیں ۔ ٭ بدائع الصنائع میں ہے: وأماصفۃ الإجارۃ: فالإجارۃُ عقدلازم اذا وقعت صحیحۃ عریۃ عن خیارالشرط والعیب والرویۃ عند عامۃ العلماء، فلاتفسخ من غیر عذر، وقال شریح : انھاغیر لازمۃ، وتفسخ بلا عذر، لانھااباحۃ المنفعۃ فأشبھت الإعارۃ ، ولنا: انھا تملیک المنفعۃ بعوض فأشبھت البیع ۔ وقال سبحانہ و تعالیٰ: ﴿اوفوا بالعقود﴾ والفسخ لیس من الایفاء بالعقد، وقال عمر رضی اللہ عنہ : البیع صفقۃ اوخیار، جعل البیع نوعین: نوعاً لا خیار فیہ، ونوعاً فیہ خیار، والإجارۃ بیع فتجب ان یکون نوعین: نوعالیس فیہ خیارالفسخ، و نوعاً فیہ خیارالفسخ۔اھ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج:۴، ص:۵۸، کتاب الاجارۃ)  ۔ ٭ تحفۃ الفقہا میں ہے: ثم الإجارۃ تفسخ بالاعذار المخصوصۃ عندنا، وان وقعت الإجارۃ صحیحۃ لازمۃ بان لم یکن ثمہ عیب ولامانع من الانتفاع، ثم العذرمایکون عارضا یتضرر بہ العاقد مع بقاء العقد ولا یندفع بدون الفسخ۔اھ (تحفۃ الفقھاء،ج:۲، ص:۳۶۰، المکتبۃ الشاملۃ) ٭ ہدایہ میں ہے: ”یجوز للمشتري أن یزید للبائع في الثمن ، ویجوز للبائع أن یزید للمشتري في المبیع ، ویجوز أن یحط عن الثمن، ویتعلق الاستحقاق بجمیع ذلک، فالزیادۃوالحط یلتحقان بأصل العقد …لنا أنھما بالحط والزیادۃ یغیرانالعقد من وصف مشروع إلی وصف مشروع ، وہو کونہ رابحًا أو خاسرا أو عدلا، ولہما ولایۃ الرفع فأولیٰ أن یکون لھما ولایۃ التغییر، وصار کما إذا أسقط الخیار ، أو شرطاہ بعد العقد، ثم إذا صح یلحق بأصل العقد ، لأن وصف الشئی یقوم بہ لا بنفسہ بخلاف حط الکل، لأنہ تبدیل لأصلہ لا تغییر لوصفہ فلا یلتحق بہ۔“ (الھدایۃ، ج:۳، ص:۵۹، ۶۰، کتاب البیوع ، باب المرابحۃ والتولیۃ، مجلس البرکات، مبارکفور) ٭ہدایہ میں ہے: ”الإجارۃ تفسدہا الشروط کما تفسد البیع لأنہ بمنزلتہ الا تری أنہ عقد یقال ویفسخ۔“ (الھدایۃ، ج:۳، ص:۲۸۵، کتاب الاجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، مجلس البرکات، مبارک فور) ٭فتاویٰ رضویہ میں ہے:”غایۃ البیان میں ہے:قال القدوری فی مختصرہ : وذٰلک لانہا عقد معاوضۃ محضۃ تقال وتفسخ فکانت کالبیع وکل ماأفسد البیع أفسدہا۔“ (الفتاویٰ الرضویۃ، ج:۸، ص:۲۰۴، کتاب المنی والدرر لمن عمد منی آردر، رضا اکیڈمی، ممبئی) (۳)تیسرا سوال یہ پیش آیا کہ بڑے ٹھیکے حکّام کو کچھ دیے بغیر حاصل نہیں ہوتے، ایسی صورت میں مسلمانوں کو ٹھیکہ لینا درست ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ بھی ٹھیکہ حاصل کرتے ہیں ، وہ کچھ دے کر ہی حاصل کرتے ہیں ایسی حالت میں اگر مسلمان اس کاروبار سے یکسر دست کش ہو جائیں تو مزید معاشی پس ماندگی کا شکار ہوسکتے ہیں اور معاشی استحکام حاصل کرنا ان کا حق ہے اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے باشندوں کے لیے ذرائع معاش فراہم کرے۔ اس لیے مسلمان اگر کچھ دےکر اپنا حق حاصل کریں تو وہ گنہگار نہیں البتہ جو حکّام مال لیتے ہیں وہ ضرور مجرم ہیں۔ ٭فتح القدیر میں ہے: ”الثالث: أخذ المال لیسوّي أمرہ عند السلطان دفعًا للضّرر أو جلبًا للنّفع ، وھو حرامٌ علی الآخذ لا الدّافع… الرّابع ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علیٰ نفسہ ومالہ، حلالٌ للدّافع حرامٌ علی الآخذ، لأنّ دفع الضّرر عن المسلم واجبٌ ولا یجوز أخذ المال لیفعل الواجب۔“ (فتح القدیر، ج:۷، ص:۲۳۶، ۲۳۷۔ برکات رضا، پوربندر) واللہ تعالیٰ اعلم . مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔

سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا

فاریکس ٹریڈنگ کی شرعی حیثیت Forex traiding ki sharai hasiyat

 

Kutubahu & Verified by:

<h2>مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے ۔</h2> ۱۸؍ ربیع النور۱۴۴۰ھ /مطابق ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۸ء ـــمنگل،ـ شام بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا ﴿خلاصۂ فیصلہ ﴾ یہ معاملہ اصلاً اجارہ ہے جس میں ضمناً بیع بھی ہوتی ہے اور بوجہِ تعامل اس کے جواز کا حکم ہے ۔ دونوں طرف سے جتنے پر معاملہ طے ہوا اتنے پر اس کی تکمیل ٹھیکہ دار پر لازم ہے اور ٹھیکہ دار خسارے میں نہیں ہوتا بلکہ نفع ہی پاتا ہے ۔  بالفرض کسی آفتِ ناگہانی سے غیر معمولی خسارہ ہو گیا تو ٹھیکہ دار حکومت وغیرہ سے صورتِ حال بتا کر مقررہ رقم میں اضافہ کرا سکتا ہے ۔ (۱)آج کل تعمیرات کے لیے ایسے ٹھیکے عام طور پر رائج ہیں جن میں ٹھیکے دار کو تعمیری سامان بھی لگانا طے ہوتا ہے ۔ یہ عقد استصناع ہے یا اجارہ یا اجارہ مع بیع ہے؟ اس پر بحث و مباحثہ کے بعد یہ طے ہوا کہ تمام معاملہ کرنے والوں کے درمیان یہ عقد ٹھیکہ یا اجارہ کہلاتا ہے اور وہ اسے اجارہ سمجھ کر ہی انجام دیتے ہیں ۔  یہی ان کے عرف میں ہے اور اجارہ ہی ان کا مقصود و معمول ہے اور چوں کہ سامان لگانا بھی ٹھیکہ دار کے ذمہ طے ہوتا ہے اس لیے بیع اس میں ضمنًا و تبعاً ہوتی ہے ۔ ان دونوں پر نظر کرتے ہوئے یہ معاملہ اصلاً اجارہ ہے جس میں ضمناً بیع بھی ہوتی ہے اور بوجہِ تعامل اس کے جواز کا حکم ہے ۔  ہدایہ ، فتح القدیر، بدائع الصنائع ، تبیین الحقائق و بحر الرائق وغیرہ کتب فقہ میں ہے: وَالْعِبْرَۃُ فِي الْعُقُودِ لِلْمَعَانِيْ <h3>مٹیریل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے ساتھ تعمیر کا ٹھیکہ لینا کیسا ہے</h3> فتاوی بزازیہ میں ہے: دفع إلی إسكاف درہمين علی أن يخرز لہ من جلد أعطاہ خفين مُنعَّلين من عندہ يجوز للتعامل. والقياسُ أن لا يجوز ،كما لو أعطی الخياط ثوباً علی أن يحشوہ بقطن لہ بكذا لأنہإجارۃفي بيع ۔ وعن محمّد رحمہٗ اللہ تعالیٰ : دفع ظہارۃ إلی الخياط علی أن يكون منہ القطن يصح كما في الخُفّ فحصلت المسئلۃ علی الروايتين ۔ ولو (دَفَعَ-ن) علیأنّ الظہارۃ منہ لا يصح علی الروايات كلہا لأنّہٗ لا تعامل ۔ ثم إن محمداً جو ز ہذا بلا رؤيۃ النعل والبطانۃ حملاً علی نعل يليق بالجلد وكذا لو شرط أن يخرز علی خفہ أربع قطع أو أن يرقع ثوبہ ۔  وفي نوادر ابن سماعۃ:شرط الإراءۃ فإذا في الرقع والخصف روايتان لأنہ جعل ہذا تبعاً للعمل فتعتبر العادۃ فيہ وكذا لو أعطاہ خرقۃ علی أن البطانۃ والحشو من عندہليجعلہا لہ قلنسوۃ وكذا لو دفع إلی نداف ثوباً ليندف عليہ من قطنہ كذا بكذا ولم يبين الأجر من الثمن صح للتعامل ۔ (الفتاوی البزازيۃ بر ہامش الہنديہ ج: ۵، ص: ۷۲، الفصل الخامس فی الاستصناع والاستئجار علی العمل) خلاصۃ الفتاوی میں ہے:في المنتقیٰ عن محمد رحمہ اللہ: دفع إلی خياط ظہارۃ و قال: بطنہا من عندك فہو جائز و قاسہ علی الخف، ولو قال: ظہارتہا من عندك فہو فاسد باتفاق الروايات ؛ لأنہ لا تعامل فيہ. اہـ (خلاصۃ الفتاوی، ج: ۳، ص: ۱۲۶) <h3> <em><strong>(۲)دوسرا مسئلہ یہ زیر بحث آیا کہ دورانِ اجارہ سامانوں کی قیمت بہت بڑھ گئی اور ٹھیکہ دار کو خسارہ نظر آیا تو طے شدہ اجارے کی تکمیل اس کے ذمہ لازم ہے یا نہیں؟</strong></em></h3> جواب میں بعد بحث یہ طے ہوا کہ دونوں طرف سے عقد طے ہو جانے کے بعد جتنے پر معاملہ ہوا، اتنے پر اس کی تکمیل ٹھیکہ دار پر لازم ہے ۔ عملاً بھی عمومًا یہی ہوتا ہے اور ٹھیکہ دار خسارے میں نہیں ہوتا بلکہ نفع ہی پاتا ہے ۔ بالفرض اگر کسی آفت ناگہانی کی وجہ سے غیر معمولی و غیر متوقع خسارے کی شکل سامنے آئی تو ٹھیکہ دار حکومت یا کمپنی یا کسی بھی فریق سے اپنی صورت حال بتاکر مقررہ رقم میں اضافہ کرا سکتا ہےیااگر ضروری سمجھے تو فسخ عقد پر تیار کرے ۔ معلوم ہوا کہ غیر متوقع نقصانات کی شکل میں حکومت کے افسران بھی غور و فکر کرکے ٹھیکہ دار کے خسارے کا ازالہ کرتے ہیں ۔ ٭ بدائع الصنائع میں ہے: وأماصفۃ الإجارۃ: فالإجارۃُ عقدلازم اذا وقعت صحیحۃ عریۃ عن خیارالشرط والعیب والرویۃ عند عامۃ العلماء، فلاتفسخ من غیر عذر، وقال شریح : انھاغیر لازمۃ، وتفسخ بلا عذر، لانھااباحۃ المنفعۃ فأشبھت الإعارۃ ، ولنا: انھا تملیک المنفعۃ بعوض فأشبھت البیع ۔ وقال سبحانہ و تعالیٰ: ﴿اوفوا بالعقود﴾ والفسخ لیس من الایفاء بالعقد، وقال عمر رضی اللہ عنہ : البیع صفقۃ اوخیار، جعل البیع نوعین: نوعاً لا خیار فیہ، ونوعاً فیہ خیار، والإجارۃ بیع فتجب ان یکون نوعین: نوعالیس فیہ خیارالفسخ، و نوعاً فیہ خیارالفسخ۔اھ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج:۴، ص:۵۸، کتاب الاجارۃ)  ۔ ٭ <em><strong>تحفۃ الفقہا میں ہے:</strong></em> ثم الإجارۃ تفسخ بالاعذار المخصوصۃ عندنا، وان وقعت الإجارۃ صحیحۃ لازمۃ بان لم یکن ثمہ عیب ولامانع من الانتفاع، ثم العذرمایکون عارضا یتضرر بہ العاقد مع بقاء العقد ولا یندفع بدون الفسخ۔اھ (تحفۃ الفقھاء،ج:۲، ص:۳۶۰، المکتبۃ الشاملۃ) ٭ ہدایہ میں ہے: ”یجوز للمشتري أن یزید للبائع في الثمن ، ویجوز للبائع أن یزید للمشتري في المبیع ، ویجوز أن یحط عن الثمن، ویتعلق الاستحقاق بجمیع ذلک، فالزیادۃوالحط یلتحقان بأصل العقد ...لنا أنھما بالحط والزیادۃ یغیرانالعقد من وصف مشروع إلی وصف مشروع ، وہو کونہ رابحًا أو خاسرا أو عدلا، ولہما ولایۃ الرفع فأولیٰ أن یکون لھما ولایۃ التغییر، وصار کما إذا أسقط الخیار ، أو شرطاہ بعد العقد، ثم إذا صح یلحق بأصل العقد ، لأن وصف الشئی یقوم بہ لا بنفسہ بخلاف حط الکل، لأنہ تبدیل لأصلہ لا تغییر لوصفہ فلا یلتحق بہ۔“ (الھدایۃ، ج:۳، ص:۵۹، ۶۰، کتاب البیوع ، باب المرابحۃ والتولیۃ، مجلس البرکات، مبارکفور) <strong><em>٭ہدایہ میں ہے:</em></strong> ”الإجارۃ تفسدہا الشروط کما تفسد البیع لأنہ بمنزلتہ الا تری أنہ عقد یقال ویفسخ۔“ (الھدایۃ، ج:۳، ص:۲۸۵، کتاب الاجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، مجلس البرکات، مبارک فور) ٭فتاویٰ رضویہ میں ہے:”غایۃ البیان میں ہے:قال القدوری فی مختصرہ : وذٰلک لانہا عقد معاوضۃ محضۃ تقال وتفسخ فکانت کالبیع وکل ماأفسد البیع أفسدہا۔“ (الفتاویٰ الرضویۃ، ج:۸، ص:۲۰۴، کتاب المنی والدرر لمن عمد منی آردر، رضا اکیڈمی، ممبئی) (۳)تیسرا سوال یہ پیش آیا کہ بڑے ٹھیکے حکّام کو کچھ دیے بغیر حاصل نہیں ہوتے، ایسی صورت میں مسلمانوں کو ٹھیکہ لینا درست ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ بھی ٹھیکہ حاصل کرتے ہیں ، وہ کچھ دے کر ہی حاصل کرتے ہیں ایسی حالت میں اگر مسلمان اس کاروبار سے یکسر دست کش ہو جائیں تو مزید معاشی پس ماندگی کا شکار ہوسکتے ہیں اور معاشی استحکام حاصل کرنا ان کا حق ہے اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے باشندوں کے لیے ذرائع معاش فراہم کرے۔ اس لیے مسلمان اگر کچھ دےکر اپنا حق حاصل کریں تو وہ گنہگار نہیں البتہ جو حکّام مال لیتے ہیں وہ ضرور مجرم ہیں۔ ٭فتح القدیر میں ہے: ”الثالث: أخذ المال لیسوّي أمرہ عند السلطان دفعًا للضّرر أو جلبًا للنّفع ، وھو حرامٌ علی الآخذ لا الدّافع... الرّابع ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علیٰ نفسہ ومالہ، حلالٌ للدّافع حرامٌ علی الآخذ، لأنّ دفع الضّرر عن المسلم واجبٌ ولا یجوز أخذ المال لیفعل الواجب۔“ (فتح القدیر، ج:۷، ص:۲۳۶، ۲۳۷۔ برکات رضا، پوربندر) واللہ تعالیٰ اعلم . مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔ <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=119" rel="bookmark">سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=189" rel="bookmark">فاریکس ٹریڈنگ کی شرعی حیثیت Forex traiding ki sharai hasiyat</a></h2>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...