Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1305 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.4K Views

مھر لینے سے پہلے عورت کا انتقال ہوگیا تو مہر کا حق دار کون ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مھر لینے سے پہلے عورت کا انتقال ہوگیا تو مہر کا حق دار کون ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مھر لینے سے پہلے عورت کا انتقال ہوگیا تو مہر کا حق دار کون ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زیدکی بیوی کا انتقال ہو گیا ہےاور زید نے ابھی تک مہر بھی ادا نہیں کیا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مہر کس کو دیں ،حالانکہ اُنکے کوئی اولاد بھی نہیں ہیں، مگر زید کے متوفی بيوی کی ماں اور ۳ بھائی ۱ بہن ۱۳ بھتیجا اور ۳ بھتیجی موجود ہیں ؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: محمدکلام الدین دوگھرا بھیڑی ہاری پٹی کُشی نگر-یو پی الجوابــــــــــــــــــــــ زید کی بیوی کے اگر اتنے ہی شرعی وارث ہیں جتنے سوال میں مذکور ہوئے تو اس کی تجہیز و تکفین اور دیون کی ادائیگی نیز اس کی وصیت بقدر نافذ پوری کرنے کے بعد اس کے دیگر ترکہ کی طرح شوہر کے ذمہ واجب الادا اس کی مہر کے بھی چھ حصے کیے جائیں گے جس میں آدھے یعنی تین حصہ کا حق دار اس کا شوہر ہی ہے اور ایک حصہ ماں کو دیا جائے گا اور باقی دو حصوں کے سات حصے بناکر ایک حصہ حقیقی بہن کو اور دو دو حصہ حقیقی بھائیوں کو ملے گا اور بھتیجوں اور بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ واضح ہو کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب وہ بھائی بہن سگے ہوں۔ اور یہی حکم اس وقت ہوگا جب کہ وہ سب بھائی بہن باپ شریکی ہوں۔ اور اگر وہ سب کے سب بھائی بہن ماں شریکی ہوں تو اُس صورت میں چھ حصوں میں سے تین حصہ شوہر اور ایک حصہ ماں کو دینے کے بعد دو حصوں کو چار حصہ کرکے ہر بھائی اور بہن کو برابر برابر ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔(نوٹ:اگر مختلف جہتوں کے بھائی بہن ہوں یعنی: بعض بھائی سگے اور بعض بھائی باپ شریکی اور بعض ماں شریکی ہوں تو اس کی جو صورت یہاں پیش ہو لکھ کر بھیجیں تو جواب دیا جائے گا) قرآن مقدس میں ہے: “وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ “ (سورہ نساء: آیت نمبر ١٢) نیز ارشاد ہے: ” فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ” (سورہ نساء: آیت ١١) حدیث شریف میں ہے: “الحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر”. یعنی: متعینہ حصے حصہ داروں کو دیدو پھر جو بچے تو وہ سب، سب سے قریبی مرد کا ہے۔(صحیح البخاری، باب میراث الولد من ابیہ وامہ ج ٢ص ٩٩٧ مطبوعہ مجلس برکات ۔صحیح مسلم کتاب الفرائض ج ٢ ص ٣۴مطبوعہ مجلس برکات) علم المیراث کی کتاب سراجیہ میں حقیقی بہنوں کی حالتوں کے بیان میں ہے: “ومع الاخ لاب وابن للذکر مثل حظ الانثیین لاستوائھم فی القرابة الی المیت” اسی میں باپ شریکی بہنوں کے احوال میں ہے: “والاخوات لاب کالاخوات لاب وام” نیز اسی میں اولادِ ام کے احوال میں ہے: “والثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم واناثھم فی القسمة والاستحقاق سواء” واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٧/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٣١/جنوری ٢٠٢٢ء ۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>مھر لینے سے پہلے عورت کا انتقال ہوگیا تو مہر کا حق دار کون ہے؟</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زیدکی بیوی کا انتقال ہو گیا ہےاور زید نے ابھی تک مہر بھی ادا نہیں کیا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مہر کس کو دیں ،حالانکہ اُنکے کوئی اولاد بھی نہیں ہیں، مگر زید کے متوفی بيوی کی ماں اور ۳ بھائی ۱ بہن ۱۳ بھتیجا اور ۳ بھتیجی موجود ہیں ؟ مفصل بیان فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: محمدکلام الدین دوگھرا بھیڑی ہاری پٹی کُشی نگر-یو پی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> زید کی بیوی کے اگر اتنے ہی شرعی وارث ہیں جتنے سوال میں مذکور ہوئے تو اس کی تجہیز و تکفین اور دیون کی ادائیگی نیز اس کی وصیت بقدر نافذ پوری کرنے کے بعد اس کے دیگر ترکہ کی طرح شوہر کے ذمہ واجب الادا اس کی مہر کے بھی چھ حصے کیے جائیں گے جس میں آدھے یعنی تین حصہ کا حق دار اس کا شوہر ہی ہے اور ایک حصہ ماں کو دیا جائے گا اور باقی دو حصوں کے سات حصے بناکر ایک حصہ حقیقی بہن کو اور دو دو حصہ حقیقی بھائیوں کو ملے گا اور بھتیجوں اور بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ واضح ہو کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب وہ بھائی بہن سگے ہوں۔ اور یہی حکم اس وقت ہوگا جب کہ وہ سب بھائی بہن باپ شریکی ہوں۔ اور اگر وہ سب کے سب بھائی بہن ماں شریکی ہوں تو اُس صورت میں چھ حصوں میں سے تین حصہ شوہر اور ایک حصہ ماں کو دینے کے بعد دو حصوں کو چار حصہ کرکے ہر بھائی اور بہن کو برابر برابر ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔(نوٹ:اگر مختلف جہتوں کے بھائی بہن ہوں یعنی: بعض بھائی سگے اور بعض بھائی باپ شریکی اور بعض ماں شریکی ہوں تو اس کی جو صورت یہاں پیش ہو لکھ کر بھیجیں تو جواب دیا جائے گا) قرآن مقدس میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَٰجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِينَ بِهَآ أَوْ دَيْنٍۢ "</strong></span> (سورہ نساء: آیت نمبر ١٢) نیز ارشاد ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>" فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍۢ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ"</strong></span> (سورہ نساء: آیت ١١) حدیث شریف میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"الحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فلأولى رجل ذكر".</strong></span> یعنی: متعینہ حصے حصہ داروں کو دیدو پھر جو بچے تو وہ سب، سب سے قریبی مرد کا ہے۔(صحیح البخاری، باب میراث الولد من ابیہ وامہ ج ٢ص ٩٩٧ مطبوعہ مجلس برکات ۔صحیح مسلم کتاب الفرائض ج ٢ ص ٣۴مطبوعہ مجلس برکات) علم المیراث کی کتاب سراجیہ میں حقیقی بہنوں کی حالتوں کے بیان میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"ومع الاخ لاب وابن للذکر مثل حظ الانثیین لاستوائھم فی القرابة الی المیت"</strong></span> اسی میں باپ شریکی بہنوں کے احوال میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"والاخوات لاب کالاخوات لاب وام"</strong></span> نیز اسی میں اولادِ ام کے احوال میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"والثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم واناثھم فی القسمة والاستحقاق سواء"</strong></span> واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٧/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٣١/جنوری ٢٠٢٢ء ۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...