01
The questionSawaal
اصل سوالمہر نہ دیا اور بیوی انتقال کر گئی تو مہر کس کو دے ؟
02
The responseAl-Jawab
مہر نہ دیا اور بیوی انتقال کر گئی تو مہر کس کو دے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے اور زید نے ابھی تک مہر بھی ادا نہیں کیا ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ مہر کس کو دیں حالانکہ ان کے کوئی اولاد بھی نہیں ہے مگر زید کی متوفیہ بیوی کی ماں اور تین بھائی، ایک بہن تیرہ بھتیجا اور تین بھتیجی موجود ہیں . مفصل بیان فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں المستفتی:محمد کلام الدین دوگھر بھیڑی . ہاری پٹی کشی نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں مہر شوہر کے ذمہ دین اور وارثوں کا حق ہے لہذا اگر زید کی بیوی کے پاس مہر کے سوا اور کوئی جائداد نہیں ہے تو بعد تقدیم ما تقدم وعدم موانع إرث کل مہر کے بیالیس حصے کیے جائیں جن میں زید آدھا خود رکھ لے اور سات حصے ماں کودے دے اور بطور عصوبت للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت چار چار حصے تینوں بھائیوں کو اور دو حصے بہن کو دے دے. بھتیجا اور بھتیجی محروم ہونگے انہیں کچھ نہ ملے گا. سراجی میں ہے“انما الزوج فحالتان النصف عند عدم الولد وولد الابن وان سفل” اھ(ص١١، باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا) اسی میں ہے”وللام ثلث الکل عند عدم ھٰؤلاء المذکورین فلھا ثلث مابقی بعد فرض احد الزوجین وذالک فی مسئلتین زوج وابوین او زوجۃ وابوین” اھ(ص١٨،فصل فی النساء) اسی میں ہے” اما للاخوات لاب وأم مع الأخ لاب وأم للذكر مثل حظ الانثيين یصرن عصبۃ بہ لاستوائھم فی القرابۃ الی المیت”اھ (ص١٥، فصل فی النساء،مکتبہ امام احمد رضا) اسی میں ہے” الحجب علی نوعین حجب نقصان.الخ، وحجب حرمان والورثۃ فیہ فریقان فریق لایحجبون بحال البتۃ..الخ، و فریق یرثون بحال ویحجبون بحال وھذا مبنی علی اصلین.الخ، الثانی الأقرب فالاقرب کما ذکرنا فی العصبات” اھ(ص٢٧،باب الحجب، مکتبہ أمام احمد رضا) وﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبـــــــہ:محمد ارشد حسین الفیضی ٢٥جمادی الثانی ١٤٤٣ھ
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.