01
The questionSawaal
اصل سوالمیت کو قبر میں کس جانب سےاتارا جائے؟
02
The responseAl-Jawab
میت کو قبر میں کس جانب سےاتارا جائے؟.. اتارتے وقت کیا پڑھیں؟ میت اگر عورت ہو تو اس کی تدفین میں کس چیز اہتمام کیاجانا چاہیے جو آجکل نہیں ہوتا؟
سوال مفتی صاحب ان سوالوں کا جواب عطا کریں اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین.. ١ میت کو قبر میں کس بھی جانب سے اُتار لیاجاتا ہے کیاایسا کرنا صحیح ہے؟ ٢ میت کو قبر میں اُتارتے وقت بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھاجاتا ہے کیا یہی پڑھناچاہیے یا کچھ اور؟ ٣ میت اگر عورت ہوں تو اس کو قبر میں اتارتے وقت کس چیز کا اہتمام ہونا چاہیے؟ سائل : محمد نوید رضوی مچھلی بازار مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ١) میت کو کسی بھی جانب سے قبر میں اتارنا جائز تو ہے مگر مستحسن وافضل یہ ہے کہ میت کو قبلہ کی جانب سے قبر میں اتارناچاہیے ایساہی فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔ ٢) میت کو قبر میں اتارتے وقت کلمہ طیبہ پڑھنا جائز توہے. مگر وہ دعا پڑھنا زیادہ بہتر و مناسب ہے جس دعا کے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے چناں چہ میت کو قبر میں اتارتے وقت یہ دعا پڑھنا چاہیے “بِسمِ اللہِ وٙبِاللّٰہِ وٙعٙلٰی مِلّٙةِ رٙسُولِ اللّٰہِ”۔ اور ایک روایت میں آیا ہے کہ بسم اللہ کے بعد “فِیْ سٙبِیْلِ اللّٰہِ”۔ بھی پڑھنا چاہیے۔ اب اگر بات ایسی ہوں کہ اکثر لوگوں کو یہ دعا یاد ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں یہ کرے کہ امام صاحب یا جس کو یہ دعا یاد ہے وہ زور سے پڑھے اور اس کو سن کر باقی لوگ بھی پڑھے۔ ٣ ) میت اگر عورت ہوں تو اس کو قبر میں اتارنے سے تختہ لگانے تک قبر کو کپڑے وغیرہ سے چھپائے رکھنا چاہیے. بہار شریعت جلد اول ، حصہ چہارم ، قبر ودفن کا بیان ، ص: 845- بحوالہ: تنویر الابصار، وردالمحتار، کتاب الصلوة، باب صلوة الجنازة ، مطلب فی دفن المیت ، جلد ثالث ، ١٦٦ ۔ عالمگیری جلد اول ، ص: ١٦٦۔ جوھرالنیرہ باب الجنائز ، ص: ١۴٠) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.