Ref #14
Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1802
Verified Hanafi Fiqh
9.8K Views
میت کے نام قربانی کرسکتے ہیں؟ اس کے گوشت کا کیا حکم ہے؟
Font:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
میت کے نام قربانی کرسکتے ہیں؟ اس کے گوشت کا کیا حکم ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
میت کے نام قربانی کرسکتے ہیں؟ اس کے گوشت کا کیا حکم ہے؟
مسئلہ: میت کے نام قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں اگر کرسکتے ہیں تو اس کا گوشت کون کون کھا سکتے ہیں؟ المستفتی : یار محمد جموتی ڈیہ،ایس نگر یوپی بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابـــــــــــــــــــ میت کے نام سے قربانی کرنا جائز و درست ہے ۔ اور اس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست و احباب کو دے اور فقیروں کو بھی دے یہ ضروری نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے دے- ہاں اگر اس نے وصیت کی ہو تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے۔ حدیث شریف میں ہے: عن حنش قال : رأیت علیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ یضحی بکبشین فقلت لہ ما ھذا ؟قال : ان رسول اللہ صلی االلہ تعالٰی علیہ وسلم او صافی ان اضحی عنہ فانا اضحی عنہ “حضرت حنش سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کےدو مینڈھے کی قربانی کرتے ہیں میں نے کہا یہ کیا ؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی کے میں حضور کی طرف سے قربانی کروں – لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں- ( السنن لابی داؤد ج ٢ص ٣٨٥،،باب الاضحیت عن المیت ) ردالمحتار،،کتاب الاضحیۃمیں ھے “قال فی البدائع لا ن الموت لا یمنع التقرب عن المیت بدلیل انہ یجوز ان یتصدق عنہ و یحج عنہ ، و قد صح ،، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی بکبشین احدھما عن نفسہ والاخر عمن لم یذبح من امتہ اھ( ج ٦ ص٣٢٦) فتاوی بزازیہ “کتاب الاضحیۃ میں ہے ” المختار انہ ان ضحی بامر المیت لا یاکل منھا وان بغیر امرہ یا کل ” اھ ( ج ٦ ص ٢٩٥ ) ایسا ہی بہار شریعت ج ١٥ ص ١٤٤ میں بھی ہے – واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ : زبیر احمد قادری ٢٤/ ذی الحجہ١٤٢٩ھ
Kutubahu & Verified by: