Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1819 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.2K Views

میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟

کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی راج ولی مرحوم کے تین بیٹے ہیں (1) جمعہ (2) کالو (3) حسن دین جمعہ کے دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں۔کالو کی صرف تین بیٹیاں ہیں۔ حسن دین کے دو بیٹے ایک بیٹی ، راج ولی کے تینوں بیٹے انتقال کر چکے ہیں . دریافت طلب امر یہ ہے کہ راج ولی مرحوم کی جائیداد اولاد ذکورنہ ہونے کی صورت میں شرعا کیسے تقسیم ہوگی متعلقہ رشتہ داروں کی تفصیل بھی درج کر دی گئی ہے۔ المستفتی: محمد یونس ولد غلام حسین ساکن کالا بن تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ۔  الجواب بعون الملك الوهاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم مایقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین راج ولی مرحوم کی جائداد کے کل ۱۴ حصے کئے جائیں، ۸ حصے چاروں پوتوں کو دیں ہر ایک کو دو دو اور ۶ حصے چھ پوتیوں کو ہر ایک کو ایک ایک- سراجی میں ہے “الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعنى أولادهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وان سفلوا”(السراجى فى الميراث/باب العصبات/ ص ۳۶/مکتبة البشرى،کراچی،پاکستان) نیز اسی میں ہے”ولا يرثن مع الصلبيتين الا أن يكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام فيعصبهن والباقى بينهم للذكر مثل حظ الأنثين”(السراجی فی المیراث/أحوال بنات الابن/ص ۲۰) یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب دادا کا کوئی بیٹا،بیٹی یا دادی موجود نہ ہو ورنہ تقسیم الگ ہوگی-واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال وادی کشمیر الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h3>میت کے ورثاء میں صرف پوتے اور پوتیاں ہوں تو اسکی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی؟</h3> کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی راج ولی مرحوم کے تین بیٹے ہیں (1) جمعہ (2) کالو (3) حسن دین جمعہ کے دو بیٹے دو بیٹیاں ہیں۔کالو کی صرف تین بیٹیاں ہیں۔ حسن دین کے دو بیٹے ایک بیٹی ، راج ولی کے تینوں بیٹے انتقال کر چکے ہیں . دریافت طلب امر یہ ہے کہ راج ولی مرحوم کی جائیداد اولاد ذکورنہ ہونے کی صورت میں شرعا کیسے تقسیم ہوگی متعلقہ رشتہ داروں کی تفصیل بھی درج کر دی گئی ہے۔ المستفتی: محمد یونس ولد غلام حسین ساکن کالا بن تحصیل مینڈھر ضلع پونچھ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بعون الملك الوهاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم مایقدم فی الارث وانحصار ورثہ فی المذکورین راج ولی مرحوم کی جائداد کے کل ۱۴ حصے کئے جائیں، ۸ حصے چاروں پوتوں کو دیں ہر ایک کو دو دو اور ۶ حصے چھ پوتیوں کو ہر ایک کو ایک ایک- سراجی میں ہے "الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعنى أولادهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وان سفلوا"(السراجى فى الميراث/باب العصبات/ ص ۳۶/مکتبة البشرى،کراچی،پاکستان) نیز اسی میں ہے"ولا يرثن مع الصلبيتين الا أن يكون بحذائهن أو أسفل منهن غلام فيعصبهن والباقى بينهم للذكر مثل حظ الأنثين"(السراجی فی المیراث/أحوال بنات الابن/ص ۲۰) یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب دادا کا کوئی بیٹا،بیٹی یا دادی موجود نہ ہو ورنہ تقسیم الگ ہوگی-واللہ تعالی أعلم بالصواب <strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر-مقیم حال وادی کشمیر</strong> <strong>الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...