Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1340
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.9K Views
” میں نے تمہیں ایک ساتھ تین طلاق دی” سے کونسی طلاق پڑی؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
" میں نے تمہیں ایک ساتھ تین طلاق دی" سے کونسی طلاق پڑی؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
” میں نے تمہیں ایک ساتھ تین طلاق دی” سے کونسی طلاق پڑی؟
بچی ماں کی پرورش میں کب تک رہے گی؟
بعد طلاق مہر دینا لازم ہے یا نہیں؟
شوہر کے زیورات پر بیوی قبضہ کر لے تو؟
مسئلہ:- از: ڈاکٹر رفیع اللہ میڈیکل افسر انچارج، خلیل آباد، سنت کبیر نگر۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کا عقد ہندہ سے ہوا ۔ تقریبا سولہ ماہ تک ہندہ کی آمد و رفت اپنے شوہر کے ساتھ قائم رہی۔ انہیں ایام میں ہند اپنی خواہش زید سے بار بار ظاہر کرتی رہی کہ زید اس کے میکے رہے۔ ہندہ کا متعدد بار یہی اصرار تھا کہ ہمارے میکے قیام رکھو۔ ملازمت میں جو رخصت ملا کرتی ہے وہ تمام ایام ہمارے میکے گزارو زید کی والدہ بہت زیادہ ضعیف جو بستر علالت پر مستقل رہا کرتی ہیں۔ زید اپنی ملازمت کے اوقات کے علاوہ والدہ کی خدمت و اطاعت میں گزارتا ہے۔ زید نے والدہ کو چھوڑ کر ہندہ کے میکے قیام کرنا ہرگز نہ پسند کیا۔ یوتو زید کا آنا جانا ہندہ کے میکے تو تھا ہی مگر مستقل طور پر قیام کرنا یا رخصت ملنے پر وہی جانا عملی طور پر لازم نہ تھا۔ تو یہ عمل ہندہ کو نہایت شاق گزرا کیونکہ اس کی خواہش یہی تھی کہ زید اپنی والدہ کو درگزر کرے اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ چنانچہ اسی بنا پر پر ہندہ نے اپنے شوہر کی بات کرنا شروع کر دیا تو زید نے جواب دیا کہ میں تمہیں ہرگز ہرگز طلاق نہیں دے سکتا اس لیے کہ ہمارے مذہب میں طلاق بہت بری چیز ہے۔ ہندہ کی آمد و رفت اپنے میکے لگی ہی رہتی تھی۔ اس کا طلاق کے متعلق گفتگو کرنا اسی طرح برقرار تھا۔ مگر زید اسی قیمت پر طلاق دینے پر راضی نہ ہوا وہ یہی کہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق نہ دوں گا۔ اس پر ہندہ نے کہا کہ طلاق لینے کا حق مجھے حاصل ہے اس لئے کہ عورت کو شریعت نے خلع کرانے کا حق دیا ہے جس سے عورت طلاق لے سکتی ہے۔ چنانچہ ۲۳ دسمبر ۱۹۹۷ کو اپنے شوہر کی ملکیت کے سارے زیورات اور اپنے میکے کے سارے زیورات اور کپڑوں کو لے کر اپنی ماں کے ہمراہ ہندہ اپنے میکے جانے لگی۔ تو ایسی صورت میں میں زید سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہندہ کا بار بار طلاق کا ذکر کرنا اور خلع کے ذریعے اپنا اختیار ظاہر کرنا اور عملی طور پر زیورات اور کپڑوں کو سمیٹ لینا اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے یہ اس کی دھمکی نہیں ہے بلکہ طلاق کی سچی اور واقعی طلب ہے۔ چنانچہ ہندہ جب اپنی ماں کے ہمراہ جانے لگی۔ تو زید نے مجبور ہو کر اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیا کہ میں نے تمہیں ایک ساتھ تین طلاق دی۔ ہندہ کی بہن کا معاملہ بھی اسی طرح گزرا جیسا کہ میرے علم میں یہ بات واضح ہوئی۔ یعنی اس کی شادی ہوئی پھر طلاق ہوا تو اس کی بہن نے دوسری شادی کی۔ ان ایام میں تو اس کا دوسرا شوہر ملک سے باہر سعودیہ ہے۔ اور ہندہ کی بہن اپنے میکے ہی قیام پذیر ہے۔ ہندہ اور اس کے متعلقین کے عادات و اطوار غیر شرعی اور غیر سماجی ہیں جن کو ضبط تحریر میں لانا مناسب نہیں۔ دریافت طلب یہ عمر ہے اس مذکورہ لفظ سے (١) کون سی طلاق ہوئی۔ (٢) زید کی ایک ننھی بچی ہے جس کی عمر ایک سال سے زائد ہو رہی ہے۔ ایسی صورت میں ننھی بچی اپنی ماں کے ہمراہ ہے جس کے عادات و اطوار از روئے شرع مطہر کے خلاف اور بحیثیت معاشرہ ننگ و عار کا سبب ہے۔ اپنی ماں کے ہمراہ وقت گزار یا باپ کی پرورش میں آجائے شرعا کیا حکم ہے؟ (٣) صورت مذکورہ میں اگر طلاق واقع ہوگئی ہے تو کیا زید پر ہندہ کو مہر دینا لازم ہے یا نہیں ؟ زاہد کی ملکیت کے زیورات از روئے شرع مل سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب بحوالہ کتاب عنایت فرمائیں ممنون و مشکور ہوں گا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) صورت مستفسرہ میں زید کی بیوی ہندہ پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی جیسا کہ عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول مجیدی صفحہ 75 میں ہے :” إن طلقها ثلاث معا وقعن جميعا. اھ “والله تعالى اعلم (٢) بچی ماں کی پرورش میں اس وقت تک رہے گی کہ نا سمجھ ہو جب کچھ سمجھنے لگے تو اس سے علیحدہ کر لیں کہ بچی ماں کو دیکھ کر وہی عادت اختیار کرے گی جو اس کی ہے۔ ۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 140 پر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (٣) صورت مسئولہ میں زید پر ہندہ کا مہر دینا لازم ہے فتاویٰ عالمگیری جلد اول مطبوعہ کوئٹہ ۳۰۳ میں ہے :” المھر یتأکد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين .. والله تعالى اعلم (٤) زیورات جبکہ زید کی ملک ہیں تو قبضہ کے سبب ہندہ اس کی مالک نہیں ۔ لہذا زید اپنے زیورات کو اس سے واپس لے سکتا ہے۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے اس کے لیے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>" میں نے تمہیں ایک ساتھ تین طلاق دی" سے کونسی طلاق پڑی؟</h3> <h3>بچی ماں کی پرورش میں کب تک رہے گی؟</h3> <h3>بعد طلاق مہر دینا لازم ہے یا نہیں؟</h3> <h3>شوہر کے زیورات پر بیوی قبضہ کر لے تو؟</h3> مسئلہ:- از: ڈاکٹر رفیع اللہ میڈیکل افسر انچارج، خلیل آباد، سنت کبیر نگر۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کا عقد ہندہ سے ہوا ۔ تقریبا سولہ ماہ تک ہندہ کی آمد و رفت اپنے شوہر کے ساتھ قائم رہی۔ انہیں ایام میں ہند اپنی خواہش زید سے بار بار ظاہر کرتی رہی کہ زید اس کے میکے رہے۔ ہندہ کا متعدد بار یہی اصرار تھا کہ ہمارے میکے قیام رکھو۔ ملازمت میں جو رخصت ملا کرتی ہے وہ تمام ایام ہمارے میکے گزارو زید کی والدہ بہت زیادہ ضعیف جو بستر علالت پر مستقل رہا کرتی ہیں۔ زید اپنی ملازمت کے اوقات کے علاوہ والدہ کی خدمت و اطاعت میں گزارتا ہے۔ زید نے والدہ کو چھوڑ کر ہندہ کے میکے قیام کرنا ہرگز نہ پسند کیا۔ یوتو زید کا آنا جانا ہندہ کے میکے تو تھا ہی مگر مستقل طور پر قیام کرنا یا رخصت ملنے پر وہی جانا عملی طور پر لازم نہ تھا۔ تو یہ عمل ہندہ کو نہایت شاق گزرا کیونکہ اس کی خواہش یہی تھی کہ زید اپنی والدہ کو درگزر کرے اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے۔ چنانچہ اسی بنا پر پر ہندہ نے اپنے شوہر کی بات کرنا شروع کر دیا تو زید نے جواب دیا کہ میں تمہیں ہرگز ہرگز طلاق نہیں دے سکتا اس لیے کہ ہمارے مذہب میں طلاق بہت بری چیز ہے۔ ہندہ کی آمد و رفت اپنے میکے لگی ہی رہتی تھی۔ اس کا طلاق کے متعلق گفتگو کرنا اسی طرح برقرار تھا۔ مگر زید اسی قیمت پر طلاق دینے پر راضی نہ ہوا وہ یہی کہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق نہ دوں گا۔ اس پر ہندہ نے کہا کہ طلاق لینے کا حق مجھے حاصل ہے اس لئے کہ عورت کو شریعت نے خلع کرانے کا حق دیا ہے جس سے عورت طلاق لے سکتی ہے۔ چنانچہ ۲۳ دسمبر ۱۹۹۷ کو اپنے شوہر کی ملکیت کے سارے زیورات اور اپنے میکے کے سارے زیورات اور کپڑوں کو لے کر اپنی ماں کے ہمراہ ہندہ اپنے میکے جانے لگی۔ تو ایسی صورت میں میں زید سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہندہ کا بار بار طلاق کا ذکر کرنا اور خلع کے ذریعے اپنا اختیار ظاہر کرنا اور عملی طور پر زیورات اور کپڑوں کو سمیٹ لینا اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے یہ اس کی دھمکی نہیں ہے بلکہ طلاق کی سچی اور واقعی طلب ہے۔ چنانچہ ہندہ جب اپنی ماں کے ہمراہ جانے لگی۔ تو زید نے مجبور ہو کر اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیا کہ میں نے تمہیں ایک ساتھ تین طلاق دی۔ ہندہ کی بہن کا معاملہ بھی اسی طرح گزرا جیسا کہ میرے علم میں یہ بات واضح ہوئی۔ یعنی اس کی شادی ہوئی پھر طلاق ہوا تو اس کی بہن نے دوسری شادی کی۔ ان ایام میں تو اس کا دوسرا شوہر ملک سے باہر سعودیہ ہے۔ اور ہندہ کی بہن اپنے میکے ہی قیام پذیر ہے۔ ہندہ اور اس کے متعلقین کے عادات و اطوار غیر شرعی اور غیر سماجی ہیں جن کو ضبط تحریر میں لانا مناسب نہیں۔ دریافت طلب یہ عمر ہے اس مذکورہ لفظ سے (١) کون سی طلاق ہوئی۔ (٢) زید کی ایک ننھی بچی ہے جس کی عمر ایک سال سے زائد ہو رہی ہے۔ ایسی صورت میں ننھی بچی اپنی ماں کے ہمراہ ہے جس کے عادات و اطوار از روئے شرع مطہر کے خلاف اور بحیثیت معاشرہ ننگ و عار کا سبب ہے۔ اپنی ماں کے ہمراہ وقت گزار یا باپ کی پرورش میں آجائے شرعا کیا حکم ہے؟ (٣) صورت مذکورہ میں اگر طلاق واقع ہوگئی ہے تو کیا زید پر ہندہ کو مہر دینا لازم ہے یا نہیں ؟ زاہد کی ملکیت کے زیورات از روئے شرع مل سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب بحوالہ کتاب عنایت فرمائیں ممنون و مشکور ہوں گا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> <strong> (١)</strong> صورت مستفسرہ میں زید کی بیوی ہندہ پر طلاق مغلظہ واقع ہو گئی جیسا کہ عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ جلد اول مجیدی صفحہ 75 میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" إن طلقها ثلاث معا وقعن جميعا</strong></span>. اھ "والله تعالى اعلم <strong>(٢)</strong> بچی ماں کی پرورش میں اس وقت تک رہے گی کہ نا سمجھ ہو جب کچھ سمجھنے لگے تو اس سے علیحدہ کر لیں کہ بچی ماں کو دیکھ کر وہی عادت اختیار کرے گی جو اس کی ہے۔ ۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 140 پر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ <strong>(٣)</strong> صورت مسئولہ میں زید پر ہندہ کا مہر دینا لازم ہے فتاویٰ عالمگیری جلد اول مطبوعہ کوئٹہ ۳۰۳ میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" المھر یتأکد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين</strong></span> .. والله تعالى اعلم (٤) زیورات جبکہ زید کی ملک ہیں تو قبضہ کے سبب ہندہ اس کی مالک نہیں ۔ لہذا زید اپنے زیورات کو اس سے واپس لے سکتا ہے۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے اس کے لیے کسی حوالہ کی ضرورت نہیں۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...