نائب امام کازبردستی امام بن جاناکیسا؟ از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نائب امام کازبردستی امام بن جاناکیسا؟
صورت مسئولہ:
مسجدکی کمیٹی کے چندذمے داروں نے مسجدکے اصل امام کی علالت کے سبب ایک عالم کونائب امام کی حیثیت سے مقررکیااوروہ تقریباً ڈیڑھ سال سے نائب امام کی حیثیت سے ہی رہے مگراب اس امام نے مصلیان مسجدکے سامنے منبررسول کے پاس کھڑے ہوکریہ کہنا شروع کیاکہ میں نائب امام نہیں ہوں بلکہ اصل امام ہوںجب کہ یہ سراسرجھوٹ ہے اورآج تک اسی جھوٹ پرقائم ہیں،نہ رجوع کیا اور نہ توبہ کی بلکہ ضداورہٹ دھرمی پرآمادہ ہیں۔
نیزمصلیان مسجدکے درمیان چندحامیوںکولے کراختلاف وانتشار پھیلارہے ہیں۔کمیٹی کے ارکان کے خلاف چنددیوبندیوں وہابیوں کی حمایت حاصل کرکے سنیوں میں گروپ بندی کررہے ہیں ۔ انہی و جوہات کے سبب کئی حضرات ان کے پیچھے نمازپڑھنے کو ناپسند کررہے ہیں،نمازپڑھناچھوڑدیااورامام تقلیل جماعت کاسبب بن رہے ہیں۔
دریافت طلب امریہ ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ۔مصلیان مسجدکے درمیان اختلاف وانتشارکوختم کرنے اور مسجد میں فتنہ وفسادکے سدباب کے لیے مسجدکی کمیٹی اس امام کومعزول کرکے دوسرے سنی صحیح العقیدہ عالم ومفتی لائق وفائق امام کو مقرر کرنا چاہتی ہے ۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔ بینواتوجروا
المستفتی:انصاری محمداقبال،اقصیٰ منزل،مدن پورہ ممبئی
حکم شرعی:
سوال میں نائب امام کے تعلق سے جوتفصیل درج ہے اس کے پیش نظروہ منصب امامت کے لائق نہیں۔اس پرلازم ہے کہ جھوٹ اورفتنہ انگیزی سے بازآکرعلانیہ توبہ کرے اورتقوی اختیارکرے اور مسلمانوں کی وحدت کومنتشرہونے سے بچائے اورمصلیان بھی باہم اتحادواتفاق کی فضاقائم کرنے کی کوشش کریں۔ارشادباری ہے: اعتصموابحبل ا للہ جمیعاولاتفرقوا۔اگرامام سوال کی صحت کی تقدیر پر ایسا کرے توٹھیک ورنہ اسے منصب امامت سے بشرط استطاعت معزول کردیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ صحیح واقعہ کیاہے اس لیے صدق سائل کی تقدیرپریہ حکم لکھااوراگرواقعہ میں کچھ فرق ہوتوحکم میں بھی فرق ہوگا۔ واللہ یعلم المفسدمن المصلح ۔
واللہ تعالیٰ اعلم