01
The questionSawaal
اصل سوالنابالغ کا نکاح اس کی ماں نے وہابی سے کردیا تونکاح ہوا یا ںہیں؟
02
The responseAl-Jawab
نابالغ کا نکاح اس کی ماں نے وہابی سے کردیا تونکاح ہوا یا ںہیں؟
سوال : ہندہ کے گھر والے سنی ہیں اس کے باپ دادا فوت ہوگئے ایک نابالغ بھائی اور چچا تھے تو ہندہ کی ماں نے حالت نا بالغی میں ہندہ کا نکاح ایک وہابی سے کردیا تو یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ ہندہ بالغ ہونے کے بعد تین چار بار اپنے شوہر کے یہاں آئی گئی پھر بھاگ کر شفیع محمد کے یہاں چلی گئی. شخص مذکورہ ہندہ کو بیوی کی طرح رکھے ہوئے ہے اور اب اسی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے . تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ قطع نظر اس سے کہ آج کل عام وہابی ضروریات دین کا منکر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں جن سے کسی کا نکاح ہرگز منعقد نہیں ہو سکتا. بالفرض جس کے ساتھ ہندہ کی ماں نے اس کا نکاح کیا اگر وہ اس درجہ کا نا بھی ہو لیکن اس میں شک نہیں کہ سنی لڑکی کا وہابی کفؤ نہیں ہوسکتا ہے. درمختار مع شامی جلد دوم صفحہ 320 میں ہے ” وتعتبر اي الكفاءه في العرب والعجم ديانۃ اي تقوى فليس فاسق کفوا لصالحۃ ” اور علامہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ غنیہ ٤٧٩ میں تحریر فرماتے ہیں ” المبتدع فاسق من حيث الاعتقاد وهو اشد من الفسق من حيث العمل لان الفاسق من حيث العمل يعترف بانه فاسق ويخاف ويستغفر بخلاف المبتدع والمراد بالمبتدع من يعتقد شيئا على خلاف ما يعتقده اهل السنۃ والجماعۃ ” اور باپ دادا کے علاوہ کوئی دوسرا ولی نابالغ کا نکاح غیر کفو سے کرے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا جیسا کہ درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 305 میں ہے” ان كان المزوج غيرهما غير الاب وابيه لا يصح النكاح من غير كفؤ اصلا. ملخصا” لہذا صورت مسئولہ میں اگر سنی کی لڑکی کا نکاح اس کی ماں نے وہابی سے کیا تو نہ ہوا. لڑکی کو وہابی کے یہاں جانا ہرگز جائز نہیں تھا. شفیع محمد اگر اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے طلاق کی ضرورت نہیں لیکن شفیع محمد جو اسے بغیر نکاح بیوی کی طرح رکھا تو اس سب گنہگار ہوا. اسے اور لڑکی کو اعلانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے، پابندی نماز کی تاکید کی جائے اور میلاد شریف، قرآن خوانی کرنے، غرباء اور مساکین کو کھانا کھلانے اور مسجد میں لوٹا چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے یہ چیزیں قبول توبہ میں معاون ہونگی. قال اللہ تعالیٰ ” مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا. پارہ ١٩ رکوع ٤. واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 684
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.