Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1341 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.1K Views

ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر عورتوں کے ناخن پر ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو یا غسل ہوگا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کرتا اس لئے وضو اور غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر لگی رہ گئی اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا. رہی مہندی تو ناخن پر اس کی کوئی تہہ نہیں جمتی بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے یہ مانع وضو اور غسل نہیں. اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو اور غسل ہوجائے گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھوڑا کر وہاں پانی بہا دے. اسی طرح حاشیہ فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 14 پر ہے. درِ مختار میں ہے ” لا یمنع الطھارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ” (فوق رد المحتار ج١، ص 154 ،کتاب الطھارۃ) واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی مصباحی

Kutubahu & Verified by:

<h2>ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر عورتوں کے ناخن پر ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو یا غسل ہوگا یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کرتا اس لئے وضو اور غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر لگی رہ گئی اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا. رہی مہندی تو ناخن پر اس کی کوئی تہہ نہیں جمتی بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے یہ مانع وضو اور غسل نہیں. اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو اور غسل ہوجائے گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھوڑا کر وہاں پانی بہا دے. اسی طرح حاشیہ فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 14 پر ہے. درِ مختار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' لا یمنع الطھارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ''</strong></span> (فوق رد المحتار ج١، ص 154 ،کتاب الطھارۃ) واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی مصباحی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...