Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1341
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.1K Views
ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر عورتوں کے ناخن پر ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو یا غسل ہوگا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کرتا اس لئے وضو اور غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر لگی رہ گئی اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا. رہی مہندی تو ناخن پر اس کی کوئی تہہ نہیں جمتی بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے یہ مانع وضو اور غسل نہیں. اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو اور غسل ہوجائے گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھوڑا کر وہاں پانی بہا دے. اسی طرح حاشیہ فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 14 پر ہے. درِ مختار میں ہے ” لا یمنع الطھارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ” (فوق رد المحتار ج١، ص 154 ،کتاب الطھارۃ) واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی مصباحی
Kutubahu & Verified by:
<h2>ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر عورتوں کے ناخن پر ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو یا غسل ہوگا یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کرتا اس لئے وضو اور غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر لگی رہ گئی اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا. رہی مہندی تو ناخن پر اس کی کوئی تہہ نہیں جمتی بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے یہ مانع وضو اور غسل نہیں. اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو اور غسل ہوجائے گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھوڑا کر وہاں پانی بہا دے. اسی طرح حاشیہ فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 14 پر ہے. درِ مختار میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' لا یمنع الطھارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ''</strong></span> (فوق رد المحتار ج١، ص 154 ،کتاب الطھارۃ) واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی مصباحی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...