Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #26 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11K Views

ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز

سوال ایک دینی ادارے نے ایک کتاب پر تحقیق و تخریج اور تسہیل و تصحیح جیسے کئی کام کرنے کے بعد اسے عوام الناس کے فائدے کے لیے شائع کردیا، جس پر مصنف (دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے ۳۲؍ سال ہوچکے ہیں) کے ایک بیٹے نے اس کام کی تعریف تو کی کہ بہت اچھا کام کیا ہے لیکن ادارے سے یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے والد کی کتاب ہے ۔

اس کے حقوق میرے پاس ہیں اور آپ نے اسے بغیر اجازت شائع کیا ہے ۔ اس لیے ہمیں اس میں سے دس فیصد کے حساب سے کتاب کے اڑھائی ہزار نسخے یا پھر ان کی قیمت دی جائے جوکہ میں والد صاحب کے ورثا میں تقسیم کروں گا، سب بہن بھائی بغیر اجازت کتاب چھاپنے پر بہت ناراض ہیں اور یہ مطالبہ سب ورثا کی طرف سے ہے، کیوں کہ یہ وراثت کا معاملہ ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان ورثا کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے؟ نیز انہیں رقم یا کتاب کے نسخے دینا ضروری ہے؟ ۔ یاد رہے یہ ادارہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والا نفع کسی کی جیب میں جاتا ہے بلکہ یہ ادارہ دین کی اشاعت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بینوا تو توجروا ۔

المستفتی:آصف خاں، کراچی،پاکستان ۔

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب کا حقِ طباعت آج کل مال کے درجے میں آچکا ہے اس لیے اگر کتاب کے ناشر یا وارث نے حق طباعت اپنے لیے مخصوص یا محفوظ کرلیا ہو مثلاً کتاب میں ’’جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ‘‘ لکھا ہو، یا اس طرح کا کوئی جملہ درج ہو یا وہاں کا عرف شاہد ہو، یا زبانی پہلے سے بتا دیا ہو تو اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کا ادارہ کو ایسی کتاب کی طباعت روا نہ ہوگی  ۔ اور اگر کتاب طبع کرالی تو ناشر یا وارث اپنے مخصوص حقِ طباعت کا معاوضہ لے سکتا ہے ۔ صورت مسئولہ میں جب مصنف کے بیٹے یہ کہتے ہیں کہ ’’اس کتاب کے حقوق میرے پاس ہیں‘‘ اور اس وجہ سے وہ کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں تو تراضی طرفین سے کچھ مناسب معاوضہ متعین کرکے دے دیا جائے۔ انھیں بھی چاہیے کہ ۱۰؍ فیصد کے لیے ضد نہ کریں۔ اس نوع کے مسائل کی تفصیل و تحقیق کے لیے راقم الحروف کی کتاب ’’پگڑی کے مسائل‘‘ کا مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبـــــــــہ: مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور  مزید مطالعہ کریں ۔۔۔

راکھی بندھوانا / raakhi bandhwana kaisa hai

قبرستان میں کھیل کود کرنا

 

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="text-align: right;">ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز</h2> <p style="text-align: right;"><em><strong>سوال </strong></em>ایک دینی ادارے نے ایک کتاب پر تحقیق و تخریج اور تسہیل و تصحیح جیسے کئی کام کرنے کے بعد اسے عوام الناس کے فائدے کے لیے شائع کردیا، جس پر مصنف (دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے ۳۲؍ سال ہوچکے ہیں) کے ایک بیٹے نے اس کام کی تعریف تو کی کہ بہت اچھا کام کیا ہے لیکن ادارے سے یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے والد کی کتاب ہے ۔</p> <p style="text-align: right;">اس کے حقوق میرے پاس ہیں اور آپ نے اسے بغیر اجازت شائع کیا ہے ۔ اس لیے ہمیں اس میں سے دس فیصد کے حساب سے کتاب کے اڑھائی ہزار نسخے یا پھر ان کی قیمت دی جائے جوکہ میں والد صاحب کے ورثا میں تقسیم کروں گا، سب بہن بھائی بغیر اجازت کتاب چھاپنے پر بہت ناراض ہیں اور یہ مطالبہ سب ورثا کی طرف سے ہے، کیوں کہ یہ وراثت کا معاملہ ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان ورثا کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے؟ نیز انہیں رقم یا کتاب کے نسخے دینا ضروری ہے؟ ۔ یاد رہے یہ ادارہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والا نفع کسی کی جیب میں جاتا ہے بلکہ یہ ادارہ دین کی اشاعت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بینوا تو توجروا ۔</p> <p style="text-align: right;">المستفتی:آصف خاں، کراچی،پاکستان ۔</p> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> کتاب کا حقِ طباعت آج کل مال کے درجے میں آچکا ہے اس لیے اگر کتاب کے ناشر یا وارث نے حق طباعت اپنے لیے مخصوص یا محفوظ کرلیا ہو مثلاً کتاب میں ’’جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ‘‘ لکھا ہو، یا اس طرح کا کوئی جملہ درج ہو یا وہاں کا عرف شاہد ہو، یا زبانی پہلے سے بتا دیا ہو تو اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کا ادارہ کو ایسی کتاب کی طباعت روا نہ ہوگی  ۔ اور اگر کتاب طبع کرالی تو ناشر یا وارث اپنے مخصوص حقِ طباعت کا معاوضہ لے سکتا ہے ۔ صورت مسئولہ میں جب مصنف کے بیٹے یہ کہتے ہیں کہ ’’اس کتاب کے حقوق میرے پاس ہیں‘‘ اور اس وجہ سے وہ کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں تو تراضی طرفین سے کچھ مناسب معاوضہ متعین کرکے دے دیا جائے۔ انھیں بھی چاہیے کہ ۱۰؍ فیصد کے لیے ضد نہ کریں۔ اس نوع کے مسائل کی تفصیل و تحقیق کے لیے راقم الحروف کی کتاب ’’پگڑی کے مسائل‘‘ کا مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــہ: مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span> مزید مطالعہ کریں ۔۔۔ <h4><a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be%db%8c-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%be%d9%88%d8%a7%d9%86%d8%a7/" rel="bookmark">راکھی بندھوانا / raakhi bandhwana kaisa hai</a></h4> <h4><a href="https://urdu.masailworld.com/%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%da%be%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%88%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/" rel="bookmark">قبرستان میں کھیل کود کرنا</a></h4>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...