Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

ناپاکی حالت میں نماز پڑھنا یا پڑھانا کیسا ہے؟ از محمــــــــد نورجمال رضــوی

ناپاکی حالت میں نماز پڑھنا یا پڑھانا کیسا ہے؟ از محمــــــــد نورجمال رضــوی
Reference 469 September 18, 2025 13,871 views
اصل سوالناپاکی حالت میں نماز پڑھنا یا پڑھانا کیسا ہے؟ از محمــــــــد نورجمال رضــوی

ناپاکی حالت میں نماز پڑھنا یا پڑھانا کیسا ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال : یہ ہے کہ زید نے ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھ لیا اور زید کو نماز سے فارغ ہو نے کے بعد میں معلوم چلا کہ میں ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھ لیا تو اس وقت زید کے لیے کیا حکم ہے ۔

اور پھر اگر ناپاکی کی حالت میں زید نے امام بنا تو اس صورت میں بھی زید کے لیے کیا حکم ہے ۔

سائل امیر حمزہ دربھنگہ بہار

_____________

وعلیکم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھابـــــــــ

صورت مسئولہ میں زید اگر سہوا حالتِ ناپاکی میں نماز پڑھا یہ پڑھائی تو نماز نہیں ہوئی اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہے اور یاد آتے ہی فوراً الله تعالی کے دربار میں توبہ واستغفار کرکے اس کی تلافی کرلیں اور مقتدیوں کو اکھٹا کرکے بتائے کہ فلاں وقت کی نماز صحیح نہیں ہوئی اس لیے سب پر قضا لازم ہے۔

فتاوی مرکز تربیت افتاء میـں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتےہیں: کہ امام مذکور سخت گنہگار مستحق عذاب نار اور شریعت پر جری ہے اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور حتی الامکان مقتدیوں کو اکٹھا کرکے بتاۓ کہ فلاں فلاں دن کی فلاں فلاں وقت کی نماز نہیں ہوئیں سب پر ان کی قضا لازم ہے ۔

یہ اس صورت میں ہے جب کہ حالت جنابت میں نماز کے جائز ہونے کا عقیدہ نہ رکھے اور اگر جائز ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو یا استخفاف نماز کے طور پر یہ حرکت کی ہے تب تو کھلا کفر ہے ۔ اس پر تجدید ایمان و تجدید بیعت لازم ہے اور بیوی والا ہوتو تجدید نکاح بھی کرے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے”واختلف المشائخ رحمھم اللہ تعالیٰ فی کفر قال شمس الائمہ الحلوانی الا ظھرلہ اذا صلی الی غیر القبلۃ علی وجہ الا ستھزاء والاستخفاف یصیر کافرا ولو ابتلی انسان بذلک لضرورۃ بأن کان یصلی مع قوم فاحدث واستحیاء ان یطھرو واکتم ذلک وصلی ھکذا اوکان بقرب من العلم فقال وصلی وھو غیر طاھر قال بعض مشائخنا ر حمھم اللہ تعالیٰ لا یصیر کافرا لانہ غیر مستھزیٔ اھ”

((حوالہ فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد ۲، صفحہ ۳۳۹، مکتبہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی))

والله تعالی اعلم باالصواب

اسیر حضور تاج الشریعـہ

محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری۔

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مؤرخہ:(۲۶) ذوالحجہ، ۲٤٤١؁ھ بروز؛ جمعہ

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.