01
The questionSawaal
اصل سوالنجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
نجس کپڑا پہن کر غسل کرنا کیسا ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــ نجس کپڑا پہن کر غسل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پانی پڑنے کے بعد نجاست پھیل جائے گی بلکہ ہاتھ میں لگ جائے گی پھر بے احتیاطی سے سارا بدن بلکہ برتن بھی نجس ہو جائے گا. لہذا پاک کپڑا ہی پہن کر غسل کرنا چاہیے. اگر کوئی دوسرا پاک کپڑا موجود نہ ہو تو پہلے اس کی نجاست دور کرلے. اگر تر نجاست والے کپڑے کو پہن کر پانی کے باہر غسل کیا اور خوب پانی ڈالا تو اب وہ کپڑا پاک ہو گیا. کیونکہ زیادہ پانی ڈالنا تین بار دھونے اور نچوڑنے کے قائم مقام ہو جائے گا. اور اگر تالاب یا ندی میں خوب غسل کرے تو بھی پاک ہوجائے گا کیونکہ پانی کے بار بار گزرنے اور دباؤ پڑنے سے بھی نجاست دور ہو جائے گی. شامی جلد اول صفحہ 222 میں ہے” الجریان بمنزلۃ التکرار والعصر ھو الصحيح. سراج. ١ھ. اور اگر نجاست خشک ہے تو اسے رگڑنا ضروری ہے کیونکہ بغیر رگڑے ایسی نجاست کا زوال مشکل ہے محض مرور ماء یا بار بار دباؤ کافی نہیں. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد خورشید احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.