Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #179
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.9K Views
نشے کی حالت میں کفریہ الفاظ کہنے کا حکم
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نشے کی حالت میں کفریہ الفاظ کہنے کا حکم
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
حضرت مفتی صاحب قبلہ دامت برکاتکم السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
عنوان : نشے کی حالت میں کفریہ الفاظ زبان سے نکل جاے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ زید نے نشے کی حالت میں کفریہ الفاظ بکے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔ سائل : ایک بندہ خدا بستی یوپی انڈیا الجواب : اگرنشہ اتنا ہو کہ عقل زائل ہوگئی ہو تو اس حالت میں کلمہ کفر بکنے سے حکم کفر نہیں دیا گیا ہے ۔ : فتاوی ہندیہ میں ہے:الْمُرْتَدُّ عُرْفًا هُوَ الرَّاجِعُ عَنْ دِينِ الْإِسْلَامِ كَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ ۔ وَرُكْنُ الرِّدَّةِ إجْرَاءُ كَلِمَةِ الْكُفْرِ عَلَى اللِّسَانِ بَعْدَ وُجُودِ الْإِيمَانِ وَشَرَائِطُ صِحَّتِهَا الْعَقْلُ فَلَا تَصِحُّ رِدَّةُ الْمَجْنُونِ وَلَا الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ، أَمَّا مَنْ جُنُونُهُ يَنْقَطِعُ، فَإِنْ ارْتَدَّ حَالَ الْجُنُونِ لَمْ تَصِحَّ، وَإِنْ ارْتَدَّ حَالَ إفَاقَتِهِ صَحَّتْ وَكَذَا لَا تَصِحُّ رِدَّةُ السَّكْرَانِ الذَّاهِبِ الْعَقْل”( فتاوی ہندیہ کتاب السیرفصل فی احکام المرتدین) بہار شریعت میں ہے :”مسئلہ : مرتد ہونے کی چند شرطیں ہیں (1) عقل۔ ناسمجھ بچہ اور پاگل سے ایسی بات نکلی تو حکم کفر نہیں ۔ (2) ہوش۔ اگر نشہ میں بکا تو کافر نہ ہوا۔ ” (بہارشریعت حصہ نہم) واللہ تعالی وسبحانہ اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری ۔خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ ٢١//شعبان المعظم١۴۴٢ھ
Kutubahu & Verified by:
حضرت مفتی صاحب قبلہ دامت برکاتکم السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ <h2>عنوان : نشے کی حالت میں کفریہ الفاظ زبان سے نکل جاے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا ۔</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ زید نے نشے کی حالت میں کفریہ الفاظ بکے تو اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔ سائل : ایک بندہ خدا بستی یوپی انڈیا الجواب : اگرنشہ اتنا ہو کہ عقل زائل ہوگئی ہو تو اس حالت میں کلمہ کفر بکنے سے حکم کفر نہیں دیا گیا ہے ۔ : فتاوی ہندیہ میں ہے:الْمُرْتَدُّ عُرْفًا هُوَ الرَّاجِعُ عَنْ دِينِ الْإِسْلَامِ كَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ ۔ وَرُكْنُ الرِّدَّةِ إجْرَاءُ كَلِمَةِ الْكُفْرِ عَلَى اللِّسَانِ بَعْدَ وُجُودِ الْإِيمَانِ وَشَرَائِطُ صِحَّتِهَا الْعَقْلُ فَلَا تَصِحُّ رِدَّةُ الْمَجْنُونِ وَلَا الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ، أَمَّا مَنْ جُنُونُهُ يَنْقَطِعُ، فَإِنْ ارْتَدَّ حَالَ الْجُنُونِ لَمْ تَصِحَّ، وَإِنْ ارْتَدَّ حَالَ إفَاقَتِهِ صَحَّتْ وَكَذَا لَا تَصِحُّ رِدَّةُ السَّكْرَانِ الذَّاهِبِ الْعَقْل"( فتاوی ہندیہ کتاب السیرفصل فی احکام المرتدین) بہار شریعت میں ہے :"مسئلہ : مرتد ہونے کی چند شرطیں ہیں (1) عقل۔ ناسمجھ بچہ اور پاگل سے ایسی بات نکلی تو حکم کفر نہیں ۔ (2) ہوش۔ اگر نشہ میں بکا تو کافر نہ ہوا۔ " (بہارشریعت حصہ نہم) واللہ تعالی وسبحانہ اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری ۔خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ ٢١//شعبان المعظم١۴۴٢ھ
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...