Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Reference 1096 September 18, 2025 13,530 views
اصل سوالنفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

کیا فرماتے علمائے کرام کہ عاشورا، شب برات، شب قدر وغیرہ کی نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں؟ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ عاشورا، شب برات وغیرہ کی نفل نمازوں کی جماعت اگر کبھی کبھی بلا تداعی ہو تو جائز ہے ۔ اور تداعی وجماعت کثیرہ یعنی چار لوگوں کے ساتھ ہو تو مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے ۔ درمختار میں ہے: ” یکرہ ذلك لو علی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد” اھ یکرہ ذلك کے تحت ردالمحتار میں ہے : ” الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیر مستحبۃ ثم ان کاں ذلك احیانا کما فعل عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کان مباحا غیر مکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعۃ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث” اھ اسی میں ہے : “والنفل بالجماعۃ غیر مستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیر رمضان .وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیھیۃ فتامل” اھ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 2، ص: 500، کتاب الصلاۃ، باب : الوتر والنوافل، مطلب فی کراھۃ اقتداء فی النفل علی سبیل التداعی) حالات حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عاشورا وغیرہ کی نمازوں میں تداعئی جماعت مباح ہے ۔ کیوں کہ دیکھا جاتا ہے کہ ان موقعوں پر بھی لوگ بدعات وخرافات اور ناجائز امور میں لگے ہوتے ہیں اگر ان کو مذکورہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے لیے بلایاجاتا ہے تو آکر نماز پڑھ لیتے ہیں اور بدعات وخرافات سے بھی بچ جاتے ہیں، ورنہ کہتے ہیں کہ ہم کو نماز پڑھنا ہی نہیں آتاہے اس بناپر مذکورہ نوافل باجماعت پڑھنا جائز ہے ۔ والله تعالٰی اعلم  عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٨جمادی الاخری١٤٤٣ھ

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.