Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1719 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.6K Views

نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں ۔ اگر نل سے گندا پانی آئے اور غفلت میں اسے ٹاکی میں بھر دیا جائے جس میں بو بھی ہو اور رنگ بھی بدلا ہوا ہو مگر ٹاکی میں موجود پانی کی وجہ سے رنگ کی تبدیلی کا اثر نمایا نہ ہو تو کیا ایسے پانی سے وضو غسل جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ایسا پانی ناپاک ہوگا جو گندا ہو اس حد تک اور بو بھی لاتا ہو اور اس بارے میں اکثر لوگ کہتے ہوں یہ گٹر کا پانی ہے ۔ ہماری مسجد میں اکثر غفلت کی بنیاد پر ایسا کردیا جاتا ہے اور ٹاکی ایسی جگہ اور ایسے طریقہ پر بنائی گئی ہے کی اسے کھول کر دھونا بہت مشکل ہوتا ہے تو ایسی حالت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں۔ مہربانی ہوگی کیونکہ لوگ اب بھی اسی پانی سے وضو کر رہے ہیں۔ المستفتی: محمد یاسین رضوی ۔ الجوابـــــــــــــــــــ جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ اس پانی کی بدبو نجاست ہی کی وجہ سے ہے اس پانی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور اس سے وضو غسل منع نہ ہوگا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “طول مکث سے بدبو لانا پانی کو نجس نہیں کرسکتا اگرچہ کٹورا بھر ہو ، تنویر و غیرہ متون میں ہے: ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث۔ در مختار میں ہے: فلوعلم نتنہ بنجاسۃ لم یجز ولو شک فالاصل الطھارۃ۔” (فتاوی رضویہ ج٢ ص٢٦) نیز تحریر فرماتے ہیں: “حوض کے پانی میں بدبو آتی ہو اس سے وضو جائز ہے جب تک نجاست معلوم نہ ہو۔” (حاشیہ فتاوی رضویہ ج اول ص۴١۵) ہاں! اگر یقین یا ظن غالب ہو کہ پانی کی یہ بدبو نجاست کے اثر کی وجہ سے ہی ہے تو اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں: (١) یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس پانی کی بدبو کسی نجاست کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی پاک چیز کی وجہ سے ہے۔ اس صورت میں پانی پاک ہے۔اور اس سے وضو وغیرہ صحیح ہے۔ (٢) یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس پانی کی بدبو نجاست کے اثر سے ہے۔ اس صورت میں پانی ناپاک ہے اور اس سے وضو غسل وغیرہ درست نہیں۔ (٣) اس بارے میں شک ہے کہ اس پانی کی بدبو کسی نجس چیز کے اثر سے ہے یا غیر نجس چیز کے اثر سے ہے۔ اس صورت میں بھی پانی پاک ہے۔ اور اگر کوئی اس سے وضو غسل کرے تو اعتراض بیجا ہے اور اگر کوئی بچے تو بہتر۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢١/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٣/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>نل سے آئے ہوئے بد بو دار پانی سے وضو کرنا</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں ۔ اگر نل سے گندا پانی آئے اور غفلت میں اسے ٹاکی میں بھر دیا جائے جس میں بو بھی ہو اور رنگ بھی بدلا ہوا ہو مگر ٹاکی میں موجود پانی کی وجہ سے رنگ کی تبدیلی کا اثر نمایا نہ ہو تو کیا ایسے پانی سے وضو غسل جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا ایسا پانی ناپاک ہوگا جو گندا ہو اس حد تک اور بو بھی لاتا ہو اور اس بارے میں اکثر لوگ کہتے ہوں یہ گٹر کا پانی ہے ۔ ہماری مسجد میں اکثر غفلت کی بنیاد پر ایسا کردیا جاتا ہے اور ٹاکی ایسی جگہ اور ایسے طریقہ پر بنائی گئی ہے کی اسے کھول کر دھونا بہت مشکل ہوتا ہے تو ایسی حالت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں۔ مہربانی ہوگی کیونکہ لوگ اب بھی اسی پانی سے وضو کر رہے ہیں۔ المستفتی: محمد یاسین رضوی ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> جب تک یہ تحقیق نہ ہو کہ اس پانی کی بدبو نجاست ہی کی وجہ سے ہے اس پانی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور اس سے وضو غسل منع نہ ہوگا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "طول مکث سے بدبو لانا پانی کو نجس نہیں کرسکتا اگرچہ کٹورا بھر ہو ، تنویر و غیرہ متون میں ہے: ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث۔ در مختار میں ہے: فلوعلم نتنہ بنجاسۃ لم یجز ولو شک فالاصل الطھارۃ۔" (فتاوی رضویہ ج٢ ص٢٦) نیز تحریر فرماتے ہیں: "حوض کے پانی میں بدبو آتی ہو اس سے وضو جائز ہے جب تک نجاست معلوم نہ ہو۔" (حاشیہ فتاوی رضویہ ج اول ص۴١۵) ہاں! اگر یقین یا ظن غالب ہو کہ پانی کی یہ بدبو نجاست کے اثر کی وجہ سے ہی ہے تو اس سے وضو غسل جائز نہ ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں: (١) یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس پانی کی بدبو کسی نجاست کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی پاک چیز کی وجہ سے ہے۔ اس صورت میں پانی پاک ہے۔اور اس سے وضو وغیرہ صحیح ہے۔ (٢) یہ یقین یا ظن غالب ہے کہ اس پانی کی بدبو نجاست کے اثر سے ہے۔ اس صورت میں پانی ناپاک ہے اور اس سے وضو غسل وغیرہ درست نہیں۔ (٣) اس بارے میں شک ہے کہ اس پانی کی بدبو کسی نجس چیز کے اثر سے ہے یا غیر نجس چیز کے اثر سے ہے۔ اس صورت میں بھی پانی پاک ہے۔ اور اگر کوئی اس سے وضو غسل کرے تو اعتراض بیجا ہے اور اگر کوئی بچے تو بہتر۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <strong><span style="color: #339966;">کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</span> ٢١/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٣/اپریل ٢٠٢٢ء</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...