Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1486 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.2K Views

نمازیوں کی کثرت کے سبب مسجد کے دروں میں بھی صف بندی کی اجازت ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نمازیوں کی کثرت کے سبب مسجد کے دروں میں بھی صف بندی کی اجازت ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نمازیوں کی کثرت کے سبب مسجد کے دروں میں بھی صف بندی کی اجازت ہے

کیا فرماتے ہیں علماے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں ایک عظیم الشان غوثیہ جامع مسجد ہے جو تین فلور پر مشتمل ہے۔ مگر درمیان میں کچھ چوڑے اور موٹے موٹے ستون حائل ہیں جن کی وجہ سے قطع صف لازم آتا ہے۔ لہذا اس قطع صف کا اعتبار جمعہ وعیدین میں بھی ہوگا یا نہیں؟ یوں ہی مسجد کے دروازے سائڈ درمیان میں کچھ جگہیں کھلی اور کشادہ ہیں مگر دونوں سائڈ کچھ جگہیں ہیں، تو کیا ان جگہوں پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اس سے قطع صف ہوگا کہ نہیں؟ سائل : عبداللہ ہندی الجوابـــــــــــــــــــ نمازیوں کی کثرت کے سبب ستونوں کے درمیان صف قائم کرنا مکروہ نہیں ہے۔اب یہ کثرت خواہ جمعہ یا عیدین کی نماز میں ہو یا کسی اور نماز میں ہو۔امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے، والضرورات تبیح المحظورات” (فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴٢) اب چوں کہ نمازیوں کی کثرت جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں اکثر ہوتی ہے اس لیے بعض مسائل میں جمعہ اور عیدین کا ذکر آیا ہے۔ در مختار میں ہے: “وَهَذَا كُلُّهُ (عِنْدَ عَدَمِ الْعُذْرِ) كَجُمُعَةٍ وَعِيدٍ، فَلَوْ قَامُوا عَلَى الرُّفُوفِ وَالْإِمَامُ عَلَى الْأَرْضِ أَوْ فِي الْمِحْرَابِ لِضِيقِ الْمَكَانِ لَمْ يُكْرَهْ”۔ (در مختار،ج٢) فتاوی رضویہ میں ہے: “اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطاہے۔علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔صحیح بخاری میں ہے:”باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ”۔ *امام علامہ محمود عینی کہ اجلہ ائمہ حنفیہ سے ہیں اُس کی شرح میں فرماتے ہیں: “قید بغیر جماعۃ لان ذٰلک یقطع الصفوف و تسویۃ الصفوف فی الجماعۃ مطلوبۃ بعینہ”۔ اسی طرح فتح الباری امام ابن حجر عسقلانی ، پھر ارشاد الساری امام احمد قسطلانی وغیرہما میں ہے۔ نیز فتح الباری میں محبِ طبری سے ہے: “محل الکراھة عند عدم الضیق”۔ عمدۃ القاری میں ابن حبیب سے ہے:”لیس النھی عن تقطیع الصفوف اذا ضاق المسجد وانما نھی عنہ اذا کان المسجد واسعا”۔ اُسی میں ہے:”قال مالک فی المدونۃ :لا باس بالصلاۃ بینھما لضیق المسجد اھ ثم ذکر قول ابن حبیب۔ اقول: ولا یخفی انہ مستقیم عل قواعد مذھبنا۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص۴٣) ان تمام بیانات سے روشن ہوا کہ مدارِ کار مسجد کی تنگی اور نمازیوں کی کثرت پر ہے اگر جمعہ اور عیدین میں بھی مسجد کی کشادگی کے سبب نمازیوں پر تنگی نہ ہو تو ان نمازوں میں بھی ستونوں کے مابین صف بندی مکروہ ہوگی اور اگر عام نمازوں میں بھی تنگی مسجد یا بارش کے عذر کے سبب ستونوں کے مابین صف بندی ہو تو کراہت نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٦/رجب المرجب ١۴۴٣ھ/٢٨/فروری ٢٠٢٢ء ۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>نمازیوں کی کثرت کے سبب مسجد کے دروں میں بھی صف بندی کی اجازت ہے</h3> کیا فرماتے ہیں علماے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں ایک عظیم الشان غوثیہ جامع مسجد ہے جو تین فلور پر مشتمل ہے۔ مگر درمیان میں کچھ چوڑے اور موٹے موٹے ستون حائل ہیں جن کی وجہ سے قطع صف لازم آتا ہے۔ لہذا اس قطع صف کا اعتبار جمعہ وعیدین میں بھی ہوگا یا نہیں؟ یوں ہی مسجد کے دروازے سائڈ درمیان میں کچھ جگہیں کھلی اور کشادہ ہیں مگر دونوں سائڈ کچھ جگہیں ہیں، تو کیا ان جگہوں پر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اس سے قطع صف ہوگا کہ نہیں؟ سائل : عبداللہ ہندی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> نمازیوں کی کثرت کے سبب ستونوں کے درمیان صف قائم کرنا مکروہ نہیں ہے۔اب یہ کثرت خواہ جمعہ یا عیدین کی نماز میں ہو یا کسی اور نماز میں ہو۔امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے، والضرورات تبیح المحظورات" (فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴٢) اب چوں کہ نمازیوں کی کثرت جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں اکثر ہوتی ہے اس لیے بعض مسائل میں جمعہ اور عیدین کا ذکر آیا ہے۔ در مختار میں ہے: "وَهَذَا كُلُّهُ (عِنْدَ عَدَمِ الْعُذْرِ) كَجُمُعَةٍ وَعِيدٍ، فَلَوْ قَامُوا عَلَى الرُّفُوفِ وَالْإِمَامُ عَلَى الْأَرْضِ أَوْ فِي الْمِحْرَابِ لِضِيقِ الْمَكَانِ لَمْ يُكْرَهْ"۔ (در مختار،ج٢) فتاوی رضویہ میں ہے: "اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا محض خطاہے۔علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع صف ہے۔صحیح بخاری میں ہے:"باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ"۔ *امام علامہ محمود عینی کہ اجلہ ائمہ حنفیہ سے ہیں اُس کی شرح میں فرماتے ہیں: "قید بغیر جماعۃ لان ذٰلک یقطع الصفوف و تسویۃ الصفوف فی الجماعۃ مطلوبۃ بعینہ"۔ اسی طرح فتح الباری امام ابن حجر عسقلانی ، پھر ارشاد الساری امام احمد قسطلانی وغیرہما میں ہے۔ نیز فتح الباری میں محبِ طبری سے ہے: "محل الکراھة عند عدم الضیق"۔ عمدۃ القاری میں ابن حبیب سے ہے:"لیس النھی عن تقطیع الصفوف اذا ضاق المسجد وانما نھی عنہ اذا کان المسجد واسعا"۔ اُسی میں ہے:"قال مالک فی المدونۃ :لا باس بالصلاۃ بینھما لضیق المسجد اھ ثم ذکر قول ابن حبیب۔ اقول: ولا یخفی انہ مستقیم عل قواعد مذھبنا۔" (فتاوی رضویہ ج٣ ص۴٣) ان تمام بیانات سے روشن ہوا کہ مدارِ کار مسجد کی تنگی اور نمازیوں کی کثرت پر ہے اگر جمعہ اور عیدین میں بھی مسجد کی کشادگی کے سبب نمازیوں پر تنگی نہ ہو تو ان نمازوں میں بھی ستونوں کے مابین صف بندی مکروہ ہوگی اور اگر عام نمازوں میں بھی تنگی مسجد یا بارش کے عذر کے سبب ستونوں کے مابین صف بندی ہو تو کراہت نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٦/رجب المرجب ١۴۴٣ھ/٢٨/فروری ٢٠٢٢ء ۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...