Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1982 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.6K Views

نماز عشاء کا وقت کب تک ہوتا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نماز عشاء کا وقت کب تک ہوتا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نماز عشاء کا وقت کب تک ہوتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عشاءکی نماز کا ٹائم کب تک ہوتاہے اور اذان فجر سے پہلے عشاء پڑھ لی تو کیا نماز ہوجائے گی؟ سائلہ : بنت احسان کشمیر اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ نمازِ عشاء کا وقت فجر کا ٹائم شروع ہونے سے پہلے تک ہے، اور نمازِ فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے آپ نے نمازِ عشاء پڑھ لی ہو تو ادا ہی ہوگی قضاء نہیں ہوگی، لیکن نمازِ عشاء میں آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے  ۔ (فتاویٰ رضویہ میں ہے، کہ عشاء کا وقت طلوعِ فجر صادق تک ہے اور وقتِ مستحب آدھی رات سے پہلے پہلے۔ یہ تمام اوقات درجات شمس ودرجات عرض البلاد کے اختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں، ان کے لئے ایک وقتِ معین بتانا ممکن نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد5صفحہ153- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (بہار شریعت میں وقت عشاء کے متعلق ہے، کہ غروب سپیدی(سفیدی) مذکور سے طلوع فجر تک ہے، اس جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی سفیدی کے بعد جو سفیدی شرقاً غرباً طویل باقی رہتی ہے، اس کا کچھ اعتبار نہیں ، وہ جانب شرق میں صبح کاذب کی مثل ہے (بہار شریعت حصہ3 صفحہ451- مکتبۃ المدینہ) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبـــــہ:ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ

Kutubahu & Verified by:

<h2>نماز عشاء کا وقت کب تک ہوتا ہے ؟</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عشاءکی نماز کا ٹائم کب تک ہوتاہے اور اذان فجر سے پہلے عشاء پڑھ لی تو کیا نماز ہوجائے گی؟ سائلہ : بنت احسان کشمیر <span style="color: #ff0000;"><strong>اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ</strong> </span> نمازِ عشاء کا وقت فجر کا ٹائم شروع ہونے سے پہلے تک ہے، اور نمازِ فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے آپ نے نمازِ عشاء پڑھ لی ہو تو ادا ہی ہوگی قضاء نہیں ہوگی، لیکن نمازِ عشاء میں آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے  ۔ (فتاویٰ رضویہ میں ہے، کہ عشاء کا وقت طلوعِ فجر صادق تک ہے اور وقتِ مستحب آدھی رات سے پہلے پہلے۔ یہ تمام اوقات درجات شمس ودرجات عرض البلاد کے اختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں، ان کے لئے ایک وقتِ معین بتانا ممکن نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد5صفحہ153- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (بہار شریعت میں وقت عشاء کے متعلق ہے، کہ غروب سپیدی(سفیدی) مذکور سے طلوع فجر تک ہے، اس جنوباً شمالاً پھیلی ہوئی سفیدی کے بعد جو سفیدی شرقاً غرباً طویل باقی رہتی ہے، اس کا کچھ اعتبار نہیں ، وہ جانب شرق میں صبح کاذب کی مثل ہے (بہار شریعت حصہ3 صفحہ451- مکتبۃ المدینہ) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ <strong>کتبـــــہ:ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ</strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...