Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

نماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

نماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟
Reference 1542 September 18, 2025 6,424 views
اصل سوالنماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

نماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟ ( سائل احمد رضا عطاری ) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب اول تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید کو ترتیب سے پڑھنا واجبات تلاوت سے ہے واجبات نماز سے نہیں ہے ۔ ردالمحتارمیں ہے ۔ لان ترتیب السورفی القراۃ من واجبات التلاوۃ. ” اس لئے اگر کسی نے قصداً ترتیب الٹ کرتلاوت کی گنگارہوا تو بہ کرے مگر نماز ہوجائے گی..اور مکروہ تحریمی بھی نہیں ہوئی، اور اگر کسی نے بھول کر خلاف تر تیب پڑھ دیا تب بھی سجدۂ سہو واجب نہ ہوا: (1)ردالمحتار جلد-2-صفحہ-238 ) (2)فتاویٰ علیمیہ-جز-1-صفحہ-257) (امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، امام نے سورتیں بے ترتیبی سےسہواً پڑھیں تو کچھ حرج نہیں، قصداً پڑھیں تو گناہ گار ہوا نماز میں کچھ خلل نہیں” (3)الفتاویٰ الرضویہ-جلد-3-صفحہ-88) (پروفیسر مفتی منیب الرحمان صاحب تحریر فرماتے ہیں,,تلاوت کرنے والے کے لئے قرآن مجید ترتیب مصحف کے مطابق پڑھنا واجب ہے، اورنماز میں بھی قرآن کی سورتوں کوترتیب کے مطابق پڑھناچاہیے لیکن یہ مسئلہ واجبات تلاوت سے ہے واجبات نماز سے نہیں ہے، لہٰذا اگرکسی نے بھول کر نماز کی رکعات میں سورتیں خلاف ترتیب پڑھ لیں تو بھی نماز صحیح ادا ہوجائےگی..سجدۂ سہو لازم نہیں آئے گا تا ہم جان بوجھ کرخلاف ترتیب پڑھنے سےگریز کرناچاہیے” (4)تفہیم المسائل=جلد-اول- صفحہ-85) ( احکام شریعت میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں,,زبان سے سہواً جس سورۃ کا ایک کلمہ نکل گیا اسی کا پڑھنا لازم ہوگیا مقدم ہو خواہ موخر خواہ مکر رہاں قصداً تبدیل ترتیب گناہ ہے اگرچہ نماز ہوجائےگی” (5)احکام شریعت صفحہ 176نظامیہ کتاب گھر لاہور). (امیراہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطارقادری صاحب نمازکے احکام میں تحریر فر ماتے ہیں، کوئ ایساواجب ترک ہوا جو واجبات نماز سے نہیں، بلکہ اس کا وجوب امرخارج سے ہو تو سجدۂ سہو واجب نہیں..مثلاًخلاف ترتیب قرآن پاک پڑھناترک واجب اور گناہ ہے مگر اس کاتعلق واجبات نماز سے نہیں، بلکہ واجبات تلاوت سے ہے لہٰذا سجدۂ سہوواجب نہیں البتہ اس سےتوبہ کرے” (6)نمازکےاحکام-صفحہ-276- مکتبۃ المدینہ کراچی (مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتےہیں, قرآن مجید اُلٹا پڑھنا کہ دوسری رکعت میں پہلی والی سے اوپر کی سورت پڑھے، یہ مکروہ تحریمی ہے، مثلاً پہلی میں قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ۰۰۱ پڑھی اور دوسری میں اَلَمْ تَرَ كَیفَ= اس کے لیے سخت وعید آئی ہے عبدﷲ بن مسعود رضیﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : “جو قرآن اُلٹ کر پڑھتا ہے، کیا خوف نہیں کرتا کہ ﷲ اس کا دل اُلٹ دے.اوربھول کرہوتونہ گناہ نہ سجدۂ سہو۔ (7)الدرالمختار-کتاب الصلوۃ,,فصل فی القراءۃ-جلد2-صفحہ-33 (8)بہارشریعت حصہ3-صفحہ-549) (بچوں کی آسانی کے لیے پارہ عم خلاف ترتیب قرآن مجید پڑھنا جائز ہے . (9)ردالمحتار-کتاب الصلوۃ فصل فی القراءۃ-جلد-2-صفحہ33) (10بہارشریعت حصہ3=صفحہ550=مکتبۃ المدینہ کراچی) (بھول کر دوسری رکعت میں اوپر کی سورت شروع کر دی یا ایک چھوٹی سورت کا فاصلہ ہوگیا، پھر یا د آیا تو جو شروع کر چکا ہے اسی کو پورا کرے اگرچہ ابھی ایک ہی حرف پڑھا ہو، مثلاً پہلی میں قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ۰۰۱ پڑھی اور دوسری میں اَلَمْ تَرَ كَيْفَ یا تَبَّتْ شروع کر دی، اب یاد آنے پر اسی کو ختم کرے، چھوڑ کراِذَا جَآءَ پڑھنے کی اجازت نہیں) (11)درمختار ) ( بہارشریعت حصہ3-صفحہ-550 (12 فیضان فرض علوم-صفحہ-202-مکتبۃ امام اہلسنت-لاہور) (13)فتاویٰ فیض الرسول- جلد-1-صفحہ-389-شبیربرادرز (14 فتاویٰ فقیہ-ملت جلد-1-صفحہ165-شبیربرادرز واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ : ابورضا قاری محمد عمران عطاری مدنی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.