Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #875 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.7K Views

نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

سوال : کسی کا ایک پاؤں نقلی یعنی مصنوعی ہے اور نماز کے وقت اس کو نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے جماعت میں اس کا کندھا دوسرے نمازی سے نہیں مل پاتا ہے تو اس کی نماز قبول ہوگی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــ اس میں کوئی حرج نہیں وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے. جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے چاہے پیر لگا کر پڑھے اور اگر پیر کبھی نکال دیا اور کھڑا نہیں ہو سکتا ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو کوشش کرے کہ پیر لگا ہوا پڑھے تاکہ قیام ہو سکے اور قیام کی فضیلت اور ثواب مل سکے. کندھے سے کندھا اگر نہیں مل پا رہا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا مکلف نہیں ۔ حدیث نبوی میں صف جوڑنے، صف سیدھی رکھنے اور ایک دوسرے سے سٹ کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور یہ حکم وجوبی ہے ۔ لہذا ان تینوں احکام کی ضرور پابندی کرے ۔ اور سب نمازی اس پر قادر بھی ہیں مگر کندھے سے کندھا ملانا سب کے بس میں نہیں کہ لوگ مختلف قدوقامت کے ہوتے ہیں ۔ پاؤں کے نہ ہونے کا عذر نہ ہو تو بھی مختلف قدوقامت والے کندھے کو کندھے سے نہیں سٹا سکتے ہیں ۔ اس لئے اختیار انہیں تینوں امور کے اہتمام کا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟</h2> سوال : کسی کا ایک پاؤں نقلی یعنی مصنوعی ہے اور نماز کے وقت اس کو نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے جماعت میں اس کا کندھا دوسرے نمازی سے نہیں مل پاتا ہے تو اس کی نماز قبول ہوگی یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> اس میں کوئی حرج نہیں وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے. جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے چاہے پیر لگا کر پڑھے اور اگر پیر کبھی نکال دیا اور کھڑا نہیں ہو سکتا ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو کوشش کرے کہ پیر لگا ہوا پڑھے تاکہ قیام ہو سکے اور قیام کی فضیلت اور ثواب مل سکے. کندھے سے کندھا اگر نہیں مل پا رہا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا مکلف نہیں ۔ حدیث نبوی میں صف جوڑنے، صف سیدھی رکھنے اور ایک دوسرے سے سٹ کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور یہ حکم وجوبی ہے ۔ لہذا ان تینوں احکام کی ضرور پابندی کرے ۔ اور سب نمازی اس پر قادر بھی ہیں مگر کندھے سے کندھا ملانا سب کے بس میں نہیں کہ لوگ مختلف قدوقامت کے ہوتے ہیں ۔ پاؤں کے نہ ہونے کا عذر نہ ہو تو بھی مختلف قدوقامت والے کندھے کو کندھے سے نہیں سٹا سکتے ہیں ۔ اس لئے اختیار انہیں تینوں امور کے اہتمام کا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...