Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #875
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.7K Views
نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟
سوال : کسی کا ایک پاؤں نقلی یعنی مصنوعی ہے اور نماز کے وقت اس کو نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے جماعت میں اس کا کندھا دوسرے نمازی سے نہیں مل پاتا ہے تو اس کی نماز قبول ہوگی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــ اس میں کوئی حرج نہیں وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے. جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے چاہے پیر لگا کر پڑھے اور اگر پیر کبھی نکال دیا اور کھڑا نہیں ہو سکتا ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو کوشش کرے کہ پیر لگا ہوا پڑھے تاکہ قیام ہو سکے اور قیام کی فضیلت اور ثواب مل سکے. کندھے سے کندھا اگر نہیں مل پا رہا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا مکلف نہیں ۔ حدیث نبوی میں صف جوڑنے، صف سیدھی رکھنے اور ایک دوسرے سے سٹ کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور یہ حکم وجوبی ہے ۔ لہذا ان تینوں احکام کی ضرور پابندی کرے ۔ اور سب نمازی اس پر قادر بھی ہیں مگر کندھے سے کندھا ملانا سب کے بس میں نہیں کہ لوگ مختلف قدوقامت کے ہوتے ہیں ۔ پاؤں کے نہ ہونے کا عذر نہ ہو تو بھی مختلف قدوقامت والے کندھے کو کندھے سے نہیں سٹا سکتے ہیں ۔ اس لئے اختیار انہیں تینوں امور کے اہتمام کا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>نماز میں کندھے سے کندھا نہ ملے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟</h2> سوال : کسی کا ایک پاؤں نقلی یعنی مصنوعی ہے اور نماز کے وقت اس کو نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے جماعت میں اس کا کندھا دوسرے نمازی سے نہیں مل پاتا ہے تو اس کی نماز قبول ہوگی یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> اس میں کوئی حرج نہیں وہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے. جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے چاہے پیر لگا کر پڑھے اور اگر پیر کبھی نکال دیا اور کھڑا نہیں ہو سکتا ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو کوشش کرے کہ پیر لگا ہوا پڑھے تاکہ قیام ہو سکے اور قیام کی فضیلت اور ثواب مل سکے. کندھے سے کندھا اگر نہیں مل پا رہا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا مکلف نہیں ۔ حدیث نبوی میں صف جوڑنے، صف سیدھی رکھنے اور ایک دوسرے سے سٹ کر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور یہ حکم وجوبی ہے ۔ لہذا ان تینوں احکام کی ضرور پابندی کرے ۔ اور سب نمازی اس پر قادر بھی ہیں مگر کندھے سے کندھا ملانا سب کے بس میں نہیں کہ لوگ مختلف قدوقامت کے ہوتے ہیں ۔ پاؤں کے نہ ہونے کا عذر نہ ہو تو بھی مختلف قدوقامت والے کندھے کو کندھے سے نہیں سٹا سکتے ہیں ۔ اس لئے اختیار انہیں تینوں امور کے اہتمام کا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...