01
The questionSawaal
اصل سوالنماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال : (1)نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ (٢) جس نے اپنی بیوی ہندہ کا مہر ادا نہیں کیا اور نہ بخشوایا مگر اس سے مجامعت کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بعض لوگ ہمارے یہاں ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز بتاتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) نماز پڑھانا خالص عبادت ہے اور کسی عبادت پر اجرت لینا جائز نہیں. لیکن جس شخص کو امام مقرر کر دیا جائے تو اس کو امامت کے سلسلے میں پابندی وقت کی تنخواہ لینا قطعاً جائز ہے. (٢) ہمارے ملک ہندوستان میں عموما مہر مطلق کا رواج ہے جس کا نچوڑ یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت یا شوہر کے طلاق دینے پر اس مہر کے اصول کرنے کا حق ہے. لہذا اگر کوئی شخص بغیر مہر ادا کئے یا بغیر معاف کرائے اپنی بیوی سے مجامعت یعنی ہمبستری کرتا ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے. جن لوگوں نے نماز پڑھنا نا جائز قرار دیا ہے وہ شریعت طاہرہ کے احکام سے جاھل ہیں ان کے ناجائز کہنے کا کوئی اعتبار نہیں . واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجــــــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 269
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.