Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #472 Verified Hanafi Fiqh 4.5K Views

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ | بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسںٔلہ ذیل کے بارے۔میں اگر ٹوپی نہیں پہنی تو نماز کے دوران تو کیا حکم نافز ہوگا جواب عنایت فرماۓ

سائل ــ: افضل انصاری بریلی شریف

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فتاوی رضویہ شریف میں ھے. فقہاء کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز اور بوجہ کسل ہو تومکروہ، اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہوتو کفر، اور ایسی وضع جس پر انگلیاں اُٹھیں شرعًا مکروہ، مجمع البحار وغیرہ میں ہے: الخروج عن عادۃ البلد شھرۃ ومکروہ” اہل شہر کے معمول سے نکلنا شہرت اور مکروہ ہے ــ

(جلد 7 صفحہ 389 )

   بہار شریعت میں ھے سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور خشوع خضوع کے لیے سر برہنہ پڑھی، تو مستحب ہے ــ

( جلد 1حصہ 3 صفحہ633 )

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

مفتی محمدرضا مرکزی

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

خادم التدریس والافتا

الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ | بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟</h2> <p style="direction: rtl;">السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسںٔلہ ذیل کے بارے۔میں اگر ٹوپی نہیں پہنی تو نماز کے دوران تو کیا حکم نافز ہوگا جواب عنایت فرماۓ</p> <p style="direction: rtl;">سائل ــ: افضل انصاری بریلی شریف</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">فتاوی رضویہ شریف میں ھے. فقہاء کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز اور بوجہ کسل ہو تومکروہ، اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہوتو کفر، اور ایسی وضع جس پر انگلیاں اُٹھیں شرعًا مکروہ، مجمع البحار وغیرہ میں ہے: الخروج عن عادۃ البلد شھرۃ ومکروہ" اہل شہر کے معمول سے نکلنا شہرت اور مکروہ ہے ــ</p> <p style="direction: rtl;"><em>(جلد 7 صفحہ 389 )</em></p> <p style="direction: rtl;">   بہار شریعت میں ھے سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور خشوع خضوع کے لیے سر برہنہ پڑھی، تو مستحب ہے ــ</p> <p style="direction: rtl;"><em>( جلد 1حصہ 3 صفحہ633 )</em></p> <p style="direction: rtl;">وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>مفتی محمدرضا مرکزی</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></p> <p style="direction: rtl;">خادم التدریس والافتا</p> <p style="direction: rtl;">الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: