Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1082 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12K Views

نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟

سوال : زید بھارت اور نیپال کے بارڈر پر رہتا ہے اور زید جانبین سے تجارت کرتا ہے اور جب نیپالی روپیہ کو انڈین کراتا ہے تو حکومت نے نیپال ١٥ پیسہ بڑا سود لیتی ہے ۔آیا زید اس کو سود دے یا نہ دے ؟ اور اگر کوئی نیپالی انڈیا میں نیپالی روپیہ بھنائے تو کیا نیپالی سے سود لےیا نہ لے ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر سوال کا منشا یہ ہے کہ بھارت اور نیپال نے نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم پر بیچنا جائز ہے یا نہیں تو نوٹ چونکہ ثمن اصطلاحی ہے یعنی نوٹ کا کسی مقدار کے ساتھ مقدر ہونا لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے ۔ بائع اور مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں اس لیے بلاشبہ ایسا کرنا جائز ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “کفل الفقیہ الفاھم” میں تحریر فرماتے ہیں : بیعہ بازید من رقم وبانقص منہ کیفھا تراضیا۔ یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر جانبین راضی ہوجائیں اس کا بیچنا جائز ہے۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم ۔ کتبـــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h2>نوٹ کو اس کی مالیت سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : زید بھارت اور نیپال کے بارڈر پر رہتا ہے اور زید جانبین سے تجارت کرتا ہے اور جب نیپالی روپیہ کو انڈین کراتا ہے تو حکومت نے نیپال ١٥ پیسہ بڑا سود لیتی ہے ۔آیا زید اس کو سود دے یا نہ دے ؟ اور اگر کوئی نیپالی انڈیا میں نیپالی روپیہ بھنائے تو کیا نیپالی سے سود لےیا نہ لے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اگر سوال کا منشا یہ ہے کہ بھارت اور نیپال نے نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم پر بیچنا جائز ہے یا نہیں تو نوٹ چونکہ ثمن اصطلاحی ہے یعنی نوٹ کا کسی مقدار کے ساتھ مقدر ہونا لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے ۔ بائع اور مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں اس لیے بلاشبہ ایسا کرنا جائز ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان <span style="color: #ff0000;"><strong>"کفل الفقیہ الفاھم"</strong></span> میں تحریر فرماتے ہیں <span style="color: #ff0000;"><strong>: بیعہ بازید من رقم وبانقص منہ کیفھا تراضیا۔</strong></span> یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر جانبین راضی ہوجائیں اس کا بیچنا جائز ہے۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...