Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا

نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
Reference 999 September 18, 2025 12,453 views
اصل سوالنکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا

نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مہر کے لیے مالِ متقوم (یعنی وہ چیز جس کا قیمت والا مال ہونا شرع اور عرف میں مسلم ہو) کا ہونا ضروری ہے، اور اس کی کم از کم مقدار دس درہم ہے . نکاح میں شوہر کے حفظِ قرآن نماز اور درود شریف یا اس طرح کی کوئی چیز کو مہر بنانا درست نہیں ہے، اگر ان مذکورہ چیزوں کو بطورِ مہر مقرر کرکے نکاح کیا گیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اور شوہر کے ذمے مہرِ مثل ادا کرنا لازم ہوگا۔ یعنی لڑکی کے خاندان میں اس طرح کی لڑکی کا جو مہر متعارف ہے، وہ ادا کرنا ہوگا۔ فتاوی شامی میں ہے: “(قوله: وفي تعليم القرآن) أي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال.” (كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:201) واللہ ورسولہ اعلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی مالیگاؤں

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.