نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نکاح میں چھوہارے لٹانا کیا ہے سنت ہے ،یا مستحب ہے، یا فضول ہے۔ جواب ضرور دیں۔
ســائل: جـاوید اقبـال کشـی نگر
الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب
صورت مسئولہ میں نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا مستحب ہے۔ احکام شریعت میں امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
(احکام شریعت ص۲۳۲)
اسی طرح حضرت العلام ا لشاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “مدارج النبوۃ ” میں رقمطراز ہیں۔ کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک تباق کھجوروں کا لیا اور جماعت صحابہ پر بکھیر کر لٹا یا ،اسی بناء پر فقہاء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ شکر و بادام وغیرہ کا بکھیر کر لٹانا عقد نکاح کی ضیافت میں مستحب ہے ۔
(مدارج النبوت،ج،٢ص،١٠٩)
اور ملفوظات اعلی حضرت ، حصہ سوم میں ہے “حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے، اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
اور یہ حدیث (دارقطنی،للبہیقی،طحاوی،سے مروی ہے۔(السنن الکبری للبہیقی،کتاب الصداق،باب ما جاء النشار.الخ،الحدیث ١٤٦٨٢/١٤٦٨٣/,ج،٧،ص،٤٦٩)
الانتباہ_ دور حاضر میں جہاں مال ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہو، وہاں لٹانے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ اگر کوئی مسجد میں نکاح کرے یا ایسی جگہ نکاح کرے جہاں مال ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو لٹا سکتے ہیں کوئی حرج نہیں۔
واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب
کتبــــــہ : حضرت علامہ مولانا محمد منظــــور عالم قــادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی استاد دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)