Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #689
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
5.5K Views
نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں
نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں؟ بارات جانے اور آنے میں دو دن کا سفر درکار ہے اور آنے کے تین دن کے بعد کرنا چاہتے ہیں آپ رہنمائی فرمائیں؟ سائل : قاری سرفراز پیپل گاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب نکاح اور رخصتی کے بعد جب شب زفاف گذرجائے تو ولیمہ کردیا جائے، اور اگر کسی وجہ سے دوسرے دن ولیمہ نہ کیا جاسکے تو تیسرے دن بھی کرسکتے ہیں : البتہ شب زفاف کے بعد ولیمہ میں زیادہ تاخیر نہ کی جائے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سے ولیمہ ثابت ہے. آپ نے جتنے نکاح کیے ان کے بعد ولیمہ کیا اور صحابۂ کرام کو بھی ان کے نکاح کے بعد ولیمہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا تو آپ ﷺنے رشاد فرمایا: أولِم وَ لَو بِشَاۃٍ (بخاری:3781، مسلم:1427) ’’ ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ اسی لیے ولیمہ کو مسنون یا مستحب کہا گیا ہے۔ ولیمہ کا لغوی معنیٰ ہے ’اجتماع‘، یعنی میاں بیوی کا جمع ہونا۔ اس لحاظ سے ولیمہ کا صحیح وقت بیوی کی رخصتی اور شبِ زفاف، یعنی میاں بیوی کی ملاقات کے بعد کا ہے۔ بہتر ہے کہ شبِ زفاف کے اگلے دن ولیمہ کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے اگلے دن ولیمہ کیا تھا ۔ (بخاری:5466) ولیمہ ایک سے زائد بار یا ایک سے زائد دن کیا جاسکتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے بعد تین دن تک برابر آپ نے ولیمہ کیا تھا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h2>نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں</h2> نکاح کے کتنے دن بعد تک ولیمہ کرسکتے ہیں؟ بارات جانے اور آنے میں دو دن کا سفر درکار ہے اور آنے کے تین دن کے بعد کرنا چاہتے ہیں آپ رہنمائی فرمائیں؟ سائل : قاری سرفراز پیپل گاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> نکاح اور رخصتی کے بعد جب شب زفاف گذرجائے تو ولیمہ کردیا جائے، اور اگر کسی وجہ سے دوسرے دن ولیمہ نہ کیا جاسکے تو تیسرے دن بھی کرسکتے ہیں : البتہ شب زفاف کے بعد ولیمہ میں زیادہ تاخیر نہ کی جائے ۔ اللہ کے رسول ﷺ سے ولیمہ ثابت ہے. آپ نے جتنے نکاح کیے ان کے بعد ولیمہ کیا اور صحابۂ کرام کو بھی ان کے نکاح کے بعد ولیمہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا تو آپ ﷺنے رشاد فرمایا: <span style="color: #ff0000;"><strong>أولِم وَ لَو بِشَاۃٍ</strong> </span>(بخاری:3781، مسلم:1427) ’’ ولیمہ کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘ اسی لیے ولیمہ کو مسنون یا مستحب کہا گیا ہے۔ ولیمہ کا لغوی معنیٰ ہے ’اجتماع‘، یعنی میاں بیوی کا جمع ہونا۔ اس لحاظ سے ولیمہ کا صحیح وقت بیوی کی رخصتی اور شبِ زفاف، یعنی میاں بیوی کی ملاقات کے بعد کا ہے۔ بہتر ہے کہ شبِ زفاف کے اگلے دن ولیمہ کیا جائے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے اگلے دن ولیمہ کیا تھا ۔ (بخاری:5466) ولیمہ ایک سے زائد بار یا ایک سے زائد دن کیا جاسکتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے بعد تین دن تک برابر آپ نے ولیمہ کیا تھا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...