Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1665 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.2K Views

نہانے کی حاجت ہو اور نماز کے وقت میں نہانے کی گنجائش نہ ہو تو کیا کرے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نہانے کی حاجت ہو اور نماز کے وقت میں نہانے کی گنجائش نہ ہو تو کیا کرے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نہانے کی حاجت ہو اور نماز کے وقت میں نہانے کی گنجائش نہ ہو تو کیا کرے؟

سوال یہ ہے کہ: (١): ایک شخص حالت جنابت میں اٹھا اور اتنا وقت نہیں کہ غسل کر کے سنن و فرض یا صرف فرض پڑھ لے تو کیا حکم ہے ؟ (۲ ) یا مرد و عورت نے جماع کیا اور اور اس وقت بیدار ہوئے کہ ایک غسل کر کے نماز پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ گھر میں مغسل ایک ہی ہے تو اب ان میں سے کون غسل کرے گا ؟ اور پھر دوسرے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ان کا جواب مطلوب ہے جزاک اللہ خیرا۔ الجواب: اگر کوئی شخص حالتِ جنابت میں نمازِ کے اخیر وقت میں بیدار ہوا اور وقت اتنا بھی نہیں ہے کہ غسل کرکے فرض پڑھ سکے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ قولِ امامِ زفر رحمہ اللہ کے موافق تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور پھر بعد میں غسل کرکے اس نماز کی قضا پڑھے۔ یوں ہی اگر کوئی حالتِ جنابت میں نہیں مگر ایسے تنگ وقت میں بیدار ہوا کہ وضو کرکے فرض پڑھنے کا وقت نہیں بچا ہے تب بھی یہی حکم ہے کہ تیمم کرکے پڑھ لے پھر بعد میں غسل کرلے دوبارہ پڑھے۔ پھر اگر فجر کے اخیر وقت میں حالت جنابت میں بیدار ہوا ہے تو تیمم کرکے نماز اسی وقت پڑھے گا جب اتنا وقت باقی ہو کہ تیمم کرکے فرض نماز مکمل ادا کرسکے، یعنی سلام پھیرنے سے پہلے وقتِ فجر ختم نہ ہو اور اگر اتنا وقت نہیں کہ غسل کرکے فرض نماز مکمل کرسکے ۔تو تیمم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، بلکہ غسل ہی کرکے قضا پڑھے۔ لیکن اگر ظہر یا عصر یا مغرب یا عشا کی نماز کے اخیر وقت میں کوئی حالتِ جنابت میں بیدار ہو تو اگر اتنا وقت تو نہیں کہ غسل کرکے فرض نماز مکمل پڑھ لے مگر اتنا وقت ہے کہ تیمم کرکے تکبیر تحریمہ مثلا اللہ اکبر کہہ لے تو تیمم کرے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز پڑھے اور پھر غسل کرکے دوہرائے۔اور اگر اتنا وقت بھی نہیں تو غسل کرکے قضا پڑھے؛ کیوں کہ فجر کا وقت اگر نماز فجر مکمل ہونے سے پہلے ختم ہوجائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اور ظہر عصر مغرب عشا کی نماز میں اگر وقت میں تکبیر تحریمہ کہہ لے تو وقت نکل جانے کے بعد بھی یہ نمازیں فاسد نہیں ہوتی ہیں۔ امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ہر نمازِ موقت کہ بعدِ فوت جس کی قضا ہے جیسے نماز پنجگانہ وجمعہ و وتر، جب طہارتِ آب سے وقت جاتا ہوتیمم سے وقت کے اندر پڑھ لے کہ قضا نہ ہوجائے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے۔ اقول: اس میں یہ تفصیل ہونی چاہئے کہ مثلاً صبح اتنے تنگ وقت اٹھا کہ وضو کرے یا نہانے کی حاجت ہے اور غسل کرے تو سلامِ نماز سے پہلے سورج چمک آئے ، یا امامِ جمعہ پانی سے طہارت کرے تو سلامِ جمعہ سے پہلے وقتِ عصر آجائے ، یا مقتدی جماعتِ جمعہ میں قبلِ سلام شریک نہ ہوپائے اور دوسری جگہ بھی امام مقرر جمعہ کے پیچھے نماز نہ مل سکے، یا محدث وضو، خواہ جنب غسل کرے تو ظہر یا عصر یا مغرب یا عشا کا اتنا وقت نہ پائے کہ نیت باندھ لے ، یا فرض عشا پڑھ کر سویا ، اُٹھا تو نہانے کی حاجت ہے۔ یا وضو ہی کرنا ہے اور صبح میں اتنی مہلت نہیں کہ پانی سے طہارت کے بعد وتر کی نیت باندھ لے تو ان سب صورتوں میں یہ نمازیں تیمم سے پڑھ لے پھر غسل یا وضو کرکے دوبارہ بعد وقت پڑھے۔ بالجملہ فجر وجمعہ میں سلام سے پہلے وقت نکل جانا یا مقتدی کا امامِ مقرر للجمعہ کے پیچھے جماعت نہ پانا معتبر ہونا چاہئے باقی نمازوں میں تکبیرِ تحریمہ وقت کے اندر نہ ملنے کا اعتبار چاہئے کہ فجر وجمعہ وعیدین سلام سے پہلے خروج وقت سے باطل ہوجاتی ہیں بخلاف باقی صلوات کہ ان میں وقت کے اندر تحریمہ بندھ جانا کافی ہے۔” (فتاوی رضویہ ج١ ص٦٢٣) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢) اگر وقت اتنا ہے کہ ان میں ایک ہی غسل کرکے پڑھ سکتا ہے۔ تودونوں میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ پہلے غسل کرے۔ کیوں کہ فقہ کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص قربتوں میں اپنے اوپر کسی دوسرےکو اولیت نہ دے۔بہار شریعت میں ہے: “لا إِیْثَارَ فِی الْقُرْبِ۔ یعنی: قربات و عبادات میں ایثار نہیں ہے۔ سیدنا شیخ عز الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ چونکہ قربات و عبادات میں ایثار نہیں ہے اس لئے اگر کسی کے پاس صرف اتنا کپڑا ہے کہ جس سے اپنا مفروضہ ستر چھپا سکے اسے یہ کپڑا دوسرے کو ستر چھپانے کے لیے دینا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر نماز کا وقت آگیا اور اس کے پاس صرف اتنا پانی ہے کہ اپنا وضو کرے اور وہ پانی کسی دوسرے کو وضو کے لئے دیدے تو یہ جائز نہیں” (بہار شریعت ح١٩ ص١٠٩۵) اگرچہ بعض مسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دو آدمیوں میں کوئی فضل والا ہو تو اس کو اولیت چاہیے،لیکن یہ بھی زیادہ سے زیادہ استحباب اور افضلیت کی حد تک ہے نہ یہ کہ ایسا ہی کرنا متعین ہے۔فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَلَوْ كَانَ الْمَاءُ بَيْنَ الْأَبِ وَالِابْنِ فَالْأَبُ أَوْلَى بِهِ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ۔” (فتاوی عالم گیری ج١کتاب الصلاة، الباب الرابع فی التیمم، الفصل الثالث ) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “دو شخص باپ بیٹے ہیں اور کسی نے اتنا پانی دیا کہ اس سے کا وُضو ہو سکتا ہے تو وہ پانی باپ کے صرف میں آنا چاہیے۔” (بہار شریعت ح ٢ ص٣۵۵ ، ٣۵٦) ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ // ۵/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>نہانے کی حاجت ہو اور نماز کے وقت میں نہانے کی گنجائش نہ ہو تو کیا کرے؟</h2> سوال یہ ہے کہ: (١): ایک شخص حالت جنابت میں اٹھا اور اتنا وقت نہیں کہ غسل کر کے سنن و فرض یا صرف فرض پڑھ لے تو کیا حکم ہے ؟ (۲ ) یا مرد و عورت نے جماع کیا اور اور اس وقت بیدار ہوئے کہ ایک غسل کر کے نماز پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ گھر میں مغسل ایک ہی ہے تو اب ان میں سے کون غسل کرے گا ؟ اور پھر دوسرے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ان کا جواب مطلوب ہے جزاک اللہ خیرا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب:</strong></span> اگر کوئی شخص حالتِ جنابت میں نمازِ کے اخیر وقت میں بیدار ہوا اور وقت اتنا بھی نہیں ہے کہ غسل کرکے فرض پڑھ سکے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ قولِ امامِ زفر رحمہ اللہ کے موافق تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور پھر بعد میں غسل کرکے اس نماز کی قضا پڑھے۔ یوں ہی اگر کوئی حالتِ جنابت میں نہیں مگر ایسے تنگ وقت میں بیدار ہوا کہ وضو کرکے فرض پڑھنے کا وقت نہیں بچا ہے تب بھی یہی حکم ہے کہ تیمم کرکے پڑھ لے پھر بعد میں غسل کرلے دوبارہ پڑھے۔ پھر اگر فجر کے اخیر وقت میں حالت جنابت میں بیدار ہوا ہے تو تیمم کرکے نماز اسی وقت پڑھے گا جب اتنا وقت باقی ہو کہ تیمم کرکے فرض نماز مکمل ادا کرسکے، یعنی سلام پھیرنے سے پہلے وقتِ فجر ختم نہ ہو اور اگر اتنا وقت نہیں کہ غسل کرکے فرض نماز مکمل کرسکے ۔تو تیمم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، بلکہ غسل ہی کرکے قضا پڑھے۔ لیکن اگر ظہر یا عصر یا مغرب یا عشا کی نماز کے اخیر وقت میں کوئی حالتِ جنابت میں بیدار ہو تو اگر اتنا وقت تو نہیں کہ غسل کرکے فرض نماز مکمل پڑھ لے مگر اتنا وقت ہے کہ تیمم کرکے تکبیر تحریمہ مثلا اللہ اکبر کہہ لے تو تیمم کرے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز پڑھے اور پھر غسل کرکے دوہرائے۔اور اگر اتنا وقت بھی نہیں تو غسل کرکے قضا پڑھے؛ کیوں کہ فجر کا وقت اگر نماز فجر مکمل ہونے سے پہلے ختم ہوجائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اور ظہر عصر مغرب عشا کی نماز میں اگر وقت میں تکبیر تحریمہ کہہ لے تو وقت نکل جانے کے بعد بھی یہ نمازیں فاسد نہیں ہوتی ہیں۔ امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "ہر نمازِ موقت کہ بعدِ فوت جس کی قضا ہے جیسے نماز پنجگانہ وجمعہ و وتر، جب طہارتِ آب سے وقت جاتا ہوتیمم سے وقت کے اندر پڑھ لے کہ قضا نہ ہوجائے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے۔ اقول: اس میں یہ تفصیل ہونی چاہئے کہ مثلاً صبح اتنے تنگ وقت اٹھا کہ وضو کرے یا نہانے کی حاجت ہے اور غسل کرے تو سلامِ نماز سے پہلے سورج چمک آئے ، یا امامِ جمعہ پانی سے طہارت کرے تو سلامِ جمعہ سے پہلے وقتِ عصر آجائے ، یا مقتدی جماعتِ جمعہ میں قبلِ سلام شریک نہ ہوپائے اور دوسری جگہ بھی امام مقرر جمعہ کے پیچھے نماز نہ مل سکے، یا محدث وضو، خواہ جنب غسل کرے تو ظہر یا عصر یا مغرب یا عشا کا اتنا وقت نہ پائے کہ نیت باندھ لے ، یا فرض عشا پڑھ کر سویا ، اُٹھا تو نہانے کی حاجت ہے۔ یا وضو ہی کرنا ہے اور صبح میں اتنی مہلت نہیں کہ پانی سے طہارت کے بعد وتر کی نیت باندھ لے تو ان سب صورتوں میں یہ نمازیں تیمم سے پڑھ لے پھر غسل یا وضو کرکے دوبارہ بعد وقت پڑھے۔ بالجملہ فجر وجمعہ میں سلام سے پہلے وقت نکل جانا یا مقتدی کا امامِ مقرر للجمعہ کے پیچھے جماعت نہ پانا معتبر ہونا چاہئے باقی نمازوں میں تکبیرِ تحریمہ وقت کے اندر نہ ملنے کا اعتبار چاہئے کہ فجر وجمعہ وعیدین سلام سے پہلے خروج وقت سے باطل ہوجاتی ہیں بخلاف باقی صلوات کہ ان میں وقت کے اندر تحریمہ بندھ جانا کافی ہے۔" (فتاوی رضویہ ج١ ص٦٢٣) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢) اگر وقت اتنا ہے کہ ان میں ایک ہی غسل کرکے پڑھ سکتا ہے۔ تودونوں میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ پہلے غسل کرے۔ کیوں کہ فقہ کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص قربتوں میں اپنے اوپر کسی دوسرےکو اولیت نہ دے۔بہار شریعت میں ہے: "لا إِیْثَارَ فِی الْقُرْبِ۔ یعنی: قربات و عبادات میں ایثار نہیں ہے۔ سیدنا شیخ عز الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ چونکہ قربات و عبادات میں ایثار نہیں ہے اس لئے اگر کسی کے پاس صرف اتنا کپڑا ہے کہ جس سے اپنا مفروضہ ستر چھپا سکے اسے یہ کپڑا دوسرے کو ستر چھپانے کے لیے دینا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر نماز کا وقت آگیا اور اس کے پاس صرف اتنا پانی ہے کہ اپنا وضو کرے اور وہ پانی کسی دوسرے کو وضو کے لئے دیدے تو یہ جائز نہیں" (بہار شریعت ح١٩ ص١٠٩۵) اگرچہ بعض مسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دو آدمیوں میں کوئی فضل والا ہو تو اس کو اولیت چاہیے،لیکن یہ بھی زیادہ سے زیادہ استحباب اور افضلیت کی حد تک ہے نہ یہ کہ ایسا ہی کرنا متعین ہے۔فتاوی عالم گیری میں ہے: "وَلَوْ كَانَ الْمَاءُ بَيْنَ الْأَبِ وَالِابْنِ فَالْأَبُ أَوْلَى بِهِ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ۔" (فتاوی عالم گیری ج١کتاب الصلاة، الباب الرابع فی التیمم، الفصل الثالث ) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "دو شخص باپ بیٹے ہیں اور کسی نے اتنا پانی دیا کہ اس سے کا وُضو ہو سکتا ہے تو وہ پانی باپ کے صرف میں آنا چاہیے۔" (بہار شریعت ح ٢ ص٣۵۵ ، ٣۵٦) ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ // ۵/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...