Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1270 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.6K Views

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟ / وضو کے مسائل

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟ / وضو کے مسائل

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟

اکثر دیکھا گیا ہے مسجد کے اندر نماز کے انتظار میں لوگ بیٹھے ہیں اور انہیں نیند کی جھپکی آگئی یا اونگھنے لگے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا وضو ٹوٹ گیا اور وہ ازخود کسی کے ٹوکنے سے وضو کرنے لگتے ہیں یہ غلط ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا ہے۔ (بہار شریعت, ح۲ ، ص ۲۷) ترمذی اور ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد شریف میں نماز عشاء کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سونے لگتے تھے یہاں تک کہ ان کے سر نیند کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے پھر وہ دوبارہ بغیر وضو کیے نماز پڑھ لیتے تھے۔ (مشکوۃ، باب مایوجب الوضو ، ص٤١)

نیند سے وضو تب ٹوٹتا ہے جب کہ یہ دو شرطیں پائی جائیں:

(١) دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ (٢) سونے کی حالت غافل ہوکر سونے سے مانع نہ ہو۔۔ (فتاویٰ رضویہ ج۱، ص۷۱) چت یا پٹ یا کروٹ سے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اکڑوں بیٹھا ہو اور ٹیک لگا کر سوگیا تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا، پاؤں پھیلا کر بیٹھے بیٹھے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا خواہ ٹیک لگائے ہوئے ہو ۔ کھڑے کھڑے یا چلتے ہوئے یا بحالت نماز قیام میں یار کوع میں یا دو زانوں سیدھے بیٹھ کر یا سجدے میں جو طریقہ مردوں کے لیے سنت ہے اس پر سو گیا تو وضو نہیں جائے گا ۔ ہاں اگر نماز میں نیند کی وجہ سے گر پڑا اگر فور آنکھ کھل گئی تو ٹھیک ورنہ وضو جاتا رہا۔ بیٹھے ہوئے اونگھنے اور جھپکی لینے سے وضو نہیں جاتا۔ ماخوذ از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد رضوی بریلی شریف 

Kutubahu & Verified by:

<h2>نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟</h2> اکثر دیکھا گیا ہے مسجد کے اندر نماز کے انتظار میں لوگ بیٹھے ہیں اور انہیں نیند کی جھپکی آگئی یا اونگھنے لگے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا وضو ٹوٹ گیا اور وہ ازخود کسی کے ٹوکنے سے وضو کرنے لگتے ہیں یہ غلط ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا ہے۔ (بہار شریعت, ح۲ ، ص ۲۷) ترمذی اور ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد شریف میں نماز عشاء کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سونے لگتے تھے یہاں تک کہ ان کے سر نیند کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے پھر وہ دوبارہ بغیر وضو کیے نماز پڑھ لیتے تھے۔ (مشکوۃ، باب مایوجب الوضو ، ص٤١) <h3>نیند سے وضو تب ٹوٹتا ہے جب کہ یہ دو شرطیں پائی جائیں:</h3> <strong>(١)</strong> دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ <strong>(٢)</strong> سونے کی حالت غافل ہوکر سونے سے مانع نہ ہو۔۔ (فتاویٰ رضویہ ج۱، ص۷۱) چت یا پٹ یا کروٹ سے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اکڑوں بیٹھا ہو اور ٹیک لگا کر سوگیا تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا، پاؤں پھیلا کر بیٹھے بیٹھے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا خواہ ٹیک لگائے ہوئے ہو ۔ کھڑے کھڑے یا چلتے ہوئے یا بحالت نماز قیام میں یار کوع میں یا دو زانوں سیدھے بیٹھ کر یا سجدے میں جو طریقہ مردوں کے لیے سنت ہے اس پر سو گیا تو وضو نہیں جائے گا ۔ ہاں اگر نماز میں نیند کی وجہ سے گر پڑا اگر فور آنکھ کھل گئی تو ٹھیک ورنہ وضو جاتا رہا۔ بیٹھے ہوئے اونگھنے اور جھپکی لینے سے وضو نہیں جاتا۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد رضوی بریلی شریف </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...