والدین کی ممانعت کے باوجود جیل بھرو آندولن میں گرفتاری دینے کا حکم
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
والدین کی ممانعت کے باوجود کسی مذہبی مطالبہ کے لیے “جیل بھرو آندولن” میں گرفتاری دینے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی جامعہ علیمیہ
السلام علیکـم ورحمةالله وبرکاتہ:
حضرت امید ہے کہ آپ بخیروعافیت ہوں گے.
بارگاہِ عالیہ میں ایک سوال عرض ہـے کہ:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین کہ تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے جو جیل بھرو اندولن چلےگا اس میں اگر کوئی فرد شرکت کرنا چاہے تو والدین کی اجازت لینا کیسا ہے؟
اور اگروالدین اجازت نہ دیں تو بغیر اجازت والدین شرکت کرنا درست یا نہیـــــــں؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون ومشکور ہوں. بینوا توجروا.
المستفتی: عبدالجبار علیمی ثقاقی.
مقام وپوسٹ پوکھرنی ضلع بستــی یو پی.
والدین کی ممانعت کے باوجود جیل بھرو آندولن میں گرفتاری دینے کا حکم
الجواب:
خدائے ارحم الراحمین نے والدین کی فرماں برداری اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو لازم کیا ہے ۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
{وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيماً o وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيراً o}
ترجمہ:
اور تمھارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔اگر تیرے سامنے ان میں کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہونچ جائیں تو انھیں “اف” نہ کہنا اور انھیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ اور نرم دلی سے ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھادو اور عرض کرو کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیساکہ بچپن میں انھوں نے مجھے پالا۔
سورہ اسراء /٢٣، ٢۴)
اور ترمذی شریف میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:” ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟ قالوا بلى يا رسول الله! قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال وجلس وكان متكئا، فقال وشهادة الزور أو قول الزور، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها ، حتى قلنا: ليته سكت”
ترجمہ: اے لوگو! کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہ سے باخبر نہ کردوں؟ صحابہ نے عرض کیا، یارسول اللہ! کیوں نہیں! تو حضور نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی ۔ اتنا کہہ کر حضور(جوشِ غضب وبیان میں) بیٹھ گیے اور پہلے آپ ٹیک لگائے تھے اور(تیسری چیز حضور نے بتائی)جھوٹی گواہی یا جھوٹی بات( راوی کو شک ہے)۔ راوی کا بیان ہے کہ حضور اسی بات کو دہراتے ریے یہاں تک کہ ہم نے (اپنے دل میں) کہا کہ کاش حضور خاموش ہوجائیں!
ترمذی ج٢ ابواب البر والصلة)
چوں کہ ماں باپ کی فرماں برداری لازم ہے،اسی لیے اگر والدین اپنے لڑکے کو یہ حکم دیں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو طلاق دینا واجب ہوجاتاہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
“بلکہ بعض صورتوں میں(طلاق) واجب ہوتی ہے، جیسے اس کو اس کے ماں باپ طلاق دینے کا حکم دیں اور نہ دینے میں ان کی ایذا وناراضی ہو واجب ہے کہ طلاق دے دے اگر چہ عورت کا کچھ قصور نہ ہو “لان العقوق حرام والا جتناب عن الحرام واجب۔حدیث میں فرمایا:وان امراک ان تخرج من اھلک ومالک فاخرج”
(فتاوی رضویہ ج۵ص٦٠٣)
لیکن یہاں شریعت کا یہ قانون بھی ملحوظ رہے کہ اللہ تعالی کی نافرمانی میں کسی کا حکم نہیں مانا جائے گا ( لا طاعة لاحد فی معصیة اللہ تعالی) اسی وجہ سے اگر لڑکے پر حج فرض ہو اور ماں باپ حج کے لیے جانے سے روکیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔
امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
“حجِ فرض میں والدین کی اجازت درکار نہیں بلکہ والدین کو ممانعت کا اختیار نہیں، زید پر لازم ہے کہ حج کو چلا جائے اگر چہ والدین مانع ہوں”
(فتاوی رضویہ ج۴ ص٦٦٢)
یوں ہی فرضِ عین کی حد تک علمِ دین حاصل کرنے کے لیے سفر کرنے سے اگر والدین روکیں اور والدین کے پاس رہ کر اس کے لیے وہ علم حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو ان کے منع کرنے کے باوجود سفر کرسکتا ہے۔
اسی فتاوی رضویہ میں ہے:
“طلبِ علم دین اپنی حاجت کے قدرفرض عین اور اس سے زائد فرض کفایہ ہے اس کے باپ کا اس سے روکنا خلاف حکم خداہے اور خلاف حکم خدامیں کسی کی اطاعت نہیں۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالٰی فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
“لو خرج فی طلب العلم بغیر اذن والدیہ فلابأس بہ ولم یکن ھذا عقوقا”
ہاں اگرباپ محتاج ہے اور اگر یہ باہرجائے تو وہ ضائع رہ جائے کوئی ذریعہ قوت نہ اس کے پاس ہو نہ یہ بھیج سکے تو اس کا روکنا بجاہے”
(فتاوی رضویہ ج٢٣ ص ١٧٠ نسخہ دعوت اسلامی ایپ)
لیکن والدین کی ممانعت کے باوجود “جیل بھرو آندولن” میں شرکت کی گنجائش نہیں ہے؛ کیوں کہ اولاً اس بے حس و بے غیرت گورنمنٹ پر اس عمل سے کتنا فرق پڑے گا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریبا چھ مہینے سے ملک کے بیشتر کسان حکومت سے بعض زراعتی قوانین کی منسوخی کا پوری طاقت وقوت اور جملہ جمہوری وسائل کو بروئے کار لاکر جاری رکھے ہوئے ہیں اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
ثانیاً: اس ” جیل بھرو آندولن” کا درجہ جہاد جیسے فرضِ کفایہ کے برابر نہیں ہے۔ اور جہاد کے لیے والدین کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ہاں! اگر جہاد فرضِ عین ہوجائے تو والدین کی اجازت در کار نہیں ہے۔
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
“جہاد ابتداءً فرض کفایہ ہے کہ ایک جماعت نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہیں اور سب نے چھوڑ دیا توسب گنہگار ہیں”
(بہار شریعت ح ٩ ص ۴٣٠)
اور تحریر فرماتے ہیں:
“بچوں اور عورتوں پر اور غلام پر فرض نہیں ۔ یوں ہی بالغ کے ماں باپ اجازت نہ دیں تو نہ جائے۔ یوں ہی اندھے اور اپاہج اور لنگڑے اور جس کے ہاتھ کٹے ہوں ان پر فرض نہیں”(ایضا)
نیز تحریر فرماتے ہیں:
“اگر کفار ہجوم کر آئیں تو اس وقت فرض عین ہے یہاں تک کہ عورت اور غلام پر بھی فرض ہے اور اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ عورت اپنے شوہر سے اور غلام اپنے مولٰی سے اجازت لے بلکہ اجازت نہ دینے کی صورت میں بھی جائیں اور شوہر و مولٰی پر منع کرنے کا گناہ ہوا۔ یوں ہی ماں باپ سے بھی اجازت لینے کی اور مدیون کو دائن سے اجازت کی حاجت نہیں”
(بہار شریعت ح٩ ص ۴٣٠)
کون سا سفر والدین کی اجازت کے بغیر کیا جاسکتاہے اور کون سفر نہیں کیا جاسکتاہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اعلی حضرت علیہ الرحمہ فتاوی عالم گیری کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں:
“فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
قال محمد رحمہ ﷲ تعالٰی فی السیر الکبیر اذا اراد الرجل ان یسافر الی غیرالجہاد لتجارۃ اوحج اوعمرۃ وکرہ ذٰلک ابواہ فان کان یخاف الضیعۃ علیھا بان کانا معسرین و نفقتھما علیہ ومالہ لایفی بالزاد و الراحلۃ ونفقتھما فانہ لایخرج بغیر اذنھما سواء کان سفرا یخاف علی الولد الہلاک فیہ کرکوب السفینۃ فی البحر اودخول البادیۃ ماشیافی البرد الشدید اولا
وان کان لایخاف الضیعۃ علیھما بان کانا موسرین ولم تکن نفقتھما علیہ، ان کان سفرا لایخاف علی الولد الھلاک فیہ کان لہ ان یخرج بغیر اذنہ ان کان یخاف علی الولد لایخرج الا باذنھا کذا فی الذخیرۃ وکذاالجواب فیما اذا خرج للنفقۃ الٰی بلدۃ اخری ان کان لایخاف علیہ الھلاک بسبب ھذا الخروج کان بمنزلۃ السفر للتجارۃ وان کان یخاف علیہ الھلاک کان بمنزلۃ الجھاد کذا فی المحیط”
(فتاوی رضویہ ج٢٣ ص١٧٢ایپ)
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی یوپی۔
١۴/شوال المکرم ١۴۴٢ھ//٢٧/مئی ٢٠٢١ء