Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1655
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.1K Views
وتر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں آتی اور خاموشی سے کھڑے رہنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
وتر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں آتی اور خاموشی سے کھڑے رہنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
وتر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں آتی اور خاموشی سے کھڑے رہنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
سائل : حافظ محمد پرویز نوری مالیگاؤں الجواب بعون الملك الوهاب جس شخص کو دعائے قنوت یاد نہ ہو تو وہ مندرجہ ذیل تین طریقوں میں سے جس پر چاہے عمل کر سکتا ہے. تین مرتبہ “یا رب” کہہ کر رکوع کر لے، یا تین مرتبہ “اللھم اغفر لی” پڑھ لے، یا پھر “ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار” پڑھ لے، آخری صورت سب سے افضل ہے. جیسا کہ امام زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم مصری الحنفی علیہ الرحمہ (المتوفی 970ھ) فرماتے ہیں: “ﻭﻣﻦ ﻻ يحسن اﻟﻘﻨﻮﺕ ﺑﺎﻟﻌﺮﺑﻴﺔ ﺃﻭ ﻻ ﻳﺤﻔﻈﻪ ﻓﻔﻴﻪ ثلاﺛﺔ ﺃﻗﻮاﻝ ﻣﺨﺘﺎﺭﺓ ﻗﻴﻞ ﻳﻘﻮﻝ ﻳﺎ ﺭﺏ ثلاث ﻣﺮاﺕ ﺛﻢ ﻳﺮﻛﻊ ﻭﻗﻴﻞ ﻳﻘﻮﻝ اﻟﻠﻬﻢ اﻏﻔﺮ ﻟﻲ ﺛﻼﺙ ﻣﺮاﺕ ﻭﻗﻴﻞ اﻟﻠﻬﻢ ﺭﺑﻨﺎ ﺁﺗﻨﺎ ﻓﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺣﺴﻨﺔ ﻭﻓﻲ اﻵﺧﺮﺓ ﺣﺴﻨﺔ ﻭﻗﻨﺎ ﻋﺬاﺏ اﻟﻨﺎﺭ ﻭاﻟﻈﺎﻫﺮ ﺃﻥ اﻻختلاف ﻓﻲ اﻷﻓﻀﻠﻴﺔ ﻻ ﻓﻲ اﻟﺠﻮاﺯ ﻭﺃﻥ اﻷﺧﻴﺮ ﺃﻓﻀﻞ ﻟﺸﻤﻮﻟﻪ. (البحر الرائق، باب الوتروالنوافل، ج ٢، ص ٧٤-٧٥،) جب شخص مذکور نے دعائے قنوت پڑھی نہ مذکورہ بالا تینوں صورتوں پر عمل کیا حالانکہ ان کا پڑھنا واجب تھا، تو واجب ترک کرنے کی وجہ سے شخص مذکور پر اس نمازِ وتر کا لوٹانا واجب ہے. جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “قصداً واجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے. یوہیں اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے.” (بہار شریعت، ج 1، ص 708، مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h3>وتر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں آتی اور خاموشی سے کھڑے رہنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟</h3> سائل : حافظ محمد پرویز نوری مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب </strong></span> جس شخص کو دعائے قنوت یاد نہ ہو تو وہ مندرجہ ذیل تین طریقوں میں سے جس پر چاہے عمل کر سکتا ہے. تین مرتبہ "یا رب" کہہ کر رکوع کر لے، یا تین مرتبہ "اللھم اغفر لی" پڑھ لے، یا پھر "ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار" پڑھ لے، آخری صورت سب سے افضل ہے. جیسا کہ امام زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم مصری الحنفی علیہ الرحمہ (المتوفی 970ھ) فرماتے ہیں: "ﻭﻣﻦ ﻻ يحسن اﻟﻘﻨﻮﺕ ﺑﺎﻟﻌﺮﺑﻴﺔ ﺃﻭ ﻻ ﻳﺤﻔﻈﻪ ﻓﻔﻴﻪ ثلاﺛﺔ ﺃﻗﻮاﻝ ﻣﺨﺘﺎﺭﺓ ﻗﻴﻞ ﻳﻘﻮﻝ ﻳﺎ ﺭﺏ ثلاث ﻣﺮاﺕ ﺛﻢ ﻳﺮﻛﻊ ﻭﻗﻴﻞ ﻳﻘﻮﻝ اﻟﻠﻬﻢ اﻏﻔﺮ ﻟﻲ ﺛﻼﺙ ﻣﺮاﺕ ﻭﻗﻴﻞ اﻟﻠﻬﻢ ﺭﺑﻨﺎ ﺁﺗﻨﺎ ﻓﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺣﺴﻨﺔ ﻭﻓﻲ اﻵﺧﺮﺓ ﺣﺴﻨﺔ ﻭﻗﻨﺎ ﻋﺬاﺏ اﻟﻨﺎﺭ ﻭاﻟﻈﺎﻫﺮ ﺃﻥ اﻻختلاف ﻓﻲ اﻷﻓﻀﻠﻴﺔ ﻻ ﻓﻲ اﻟﺠﻮاﺯ ﻭﺃﻥ اﻷﺧﻴﺮ ﺃﻓﻀﻞ ﻟﺸﻤﻮﻟﻪ. (البحر الرائق، باب الوتروالنوافل، ج ٢، ص ٧٤-٧٥،) جب شخص مذکور نے دعائے قنوت پڑھی نہ مذکورہ بالا تینوں صورتوں پر عمل کیا حالانکہ ان کا پڑھنا واجب تھا، تو واجب ترک کرنے کی وجہ سے شخص مذکور پر اس نمازِ وتر کا لوٹانا واجب ہے. جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "قصداً واجب ترک کیا تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے. یوہیں اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے." (بہار شریعت، ج 1، ص 708، مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...