Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1412
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.8K Views
ورثاء میں بیوہ اور ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ورثاء میں بیوہ اور ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
وراثت سے متعلق مسئلہ
ایک آدمی کی وفات ھو گئ اس کی اولاد نہیں ہے ورثاء میں بیوہ ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟ جس بےاولاد کی وفات ھوئی وہ تین بھائی تھے ایک بھائ اسکی زندگی میں فوت ھو گیا تھا ایک بھای ابھی حیات ھے تو وراثت کی تقسیم کیسے ھو گی؟ المستفتی : عبید الرحمن قادری کرناٹک الجواب بعون الملک الوھاب بر تقدیر صحت سوال ، وبعد تقدیم مایقدم علی الارث متوفی کی کل جائداد کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک چوتھائی حصہ [١/٤] متوفی کی بیوی کو دیں کیوں کہ فرمان خداوند قدوس ہے : وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ (سورہٴ نساء:١٢) اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو. اور باقی بچے ہوئے تین حصے [3/4] متوفی کے بھائی کو دیں کیوں کہ میت کی اولاد اور باپ دادا کے نہ ہونے کی صورت میں بھائی بطور عصبہ بنفسہ ترکہ سے بچا ہوا مال کا مستحق ہوگا مثلاً اگر متوفی کے ترکہ میں کل ایک سو روپیے(١٠٠) ہیں تو ایک چوتھائی یعنی پچیس روپیے(٢٥) بیوی کو دیں گے اور باقی ماندہ پچہتر روپیےبھائی کےلئے ہیں . واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٣جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ /٢٧جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>وراثت سے متعلق مسئلہ</h2> ایک آدمی کی وفات ھو گئ اس کی اولاد نہیں ہے ورثاء میں بیوہ ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟ جس بےاولاد کی وفات ھوئی وہ تین بھائی تھے ایک بھائ اسکی زندگی میں فوت ھو گیا تھا ایک بھای ابھی حیات ھے تو وراثت کی تقسیم کیسے ھو گی؟ المستفتی : عبید الرحمن قادری کرناٹک <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب </strong></span> بر تقدیر صحت سوال ، وبعد تقدیم مایقدم علی الارث متوفی کی کل جائداد کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک چوتھائی حصہ [١/٤] متوفی کی بیوی کو دیں کیوں کہ فرمان خداوند قدوس ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ</strong> </span>(سورہٴ نساء:١٢) اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو. اور باقی بچے ہوئے تین حصے [3/4] متوفی کے بھائی کو دیں کیوں کہ میت کی اولاد اور باپ دادا کے نہ ہونے کی صورت میں بھائی بطور عصبہ بنفسہ ترکہ سے بچا ہوا مال کا مستحق ہوگا مثلاً اگر متوفی کے ترکہ میں کل ایک سو روپیے(١٠٠) ہیں تو ایک چوتھائی یعنی پچیس روپیے(٢٥) بیوی کو دیں گے اور باقی ماندہ پچہتر روپیےبھائی کےلئے ہیں . واللہ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٣جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ /٢٧جنوری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...