Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1812
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.2K Views
وطن اصلی کے علاوہ جگہ میں اگر امام پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھائے یا قصر کرے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
وطن اصلی کے علاوہ جگہ میں اگر امام پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھائے یا قصر کرے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
وطن اصلی کے علاوہ جگہ میں اگر امام پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھائے یا قصر کرے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ ایک امام صاحب ایک جگہ امامت کرتے تھے اور کچھ دن کے بعد امامت سے کسی وجہ سےمعزول کردیئے گئے تو انہوں نے وہیں پر ایک گھر لے لیا اور وہاں رہنے لگے اب 150 کیلومیٹر کی دوری پر امامت کرنے کیلئے جانا چاہتے ہیں اس شرط پر کہ ہفتہ دن رہوں گا دو دن کیلئے فیملی کے پاس گھر آونگا تو اس طریقے سے وہ مسافر رہے گا یا مقیم یا کوئی دوسری صورت اگر نکل سکتی ہے وہاں پر امامت کر سکتا اور ہفتہ دس میں آ نا جانابھی کرسکتا ہو تو اس سے بھی آگاہ فرمائیں المستفتی عبداللہ مہاراشٹر الجوابـــــــــــــــــــ جب کہ امام صاحب کی امامت کی جگہ اور ان کے مکان کے درمیان ایک سو پچاس کلو میٹر کی مسافت ہے (جو سفر شرعی کی مسافت یعنی بانوے کلو میٹر سے زائد ہے) اور امامت کی جگہ پر امام صاحب کی نیت پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی رہتی ہے تو امامت کی جگہ پر وہ مسافر ہی رہیں گے اور ان پر ظہر عصر اور عشاء کی فرض نماز دو رکعت ہی پڑھنا یا پڑھانا واجب ہوگا۔ اور جہاں امام صاحب نے گھر بنوالیا ہے اگر دائمی سکونت کی نیت سے بناکر بچوں کو رکھ لیا ہے تو وہاں آتے ہی ان کا سفر ختم ہوجائے گا اور وہ مسافر نہیں رہ جائیں گے اگرچہ ایک دن بھی ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو ، لیکن اگر دائمی سکونت کی نیت سے گھر نہیں بنایا ہے تو امامت کی جگہ سے وہاں آنے پر اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہوگی تو مسافر رہیں گے اور قصر کرنا واجب ہوگا اور اگر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کریں گے تو مسافر نہیں رہیں گے، بلکہ مقیم ہوجائیں گے۔ در مختار میں ہے: “(الْوَطَنُ الْأَصْلِيُّ) هُوَ مَوْطِنُ وِلَادَتِهِ أَوْ تَأَهُّلِهِ أَوْ تُوَطِّنْهُ۔”(کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر) رد المحتار میں ہے: (قَوْلُهُ أَوْ تَوَطُّنِهِ) أَيْ عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَعَدَمِ الِارْتِحَالِ وَإِنْ لَمْ يَتَأَهَّلْ، فَلَوْ كَانَ لَهُ أَبَوَانِ بِبَلَدٍ غَيْرِ مَوْلِدِهِ وَهُوَ بَالِغٌ، وَلَمْ يَتَأَهَّلْ بِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ وَطَنًا لَهُ إلَّا إذَا عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَتَرَكَ الْوَطَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ قَبْلَهُ شَرْحُ الْمُنْيَةِ۔” (کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر) بہار شریعت میں ہے: “وطن اصلی : وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے ہیں یا وہاں سکونت کر لی اور یہ ارادہ ہے کہ یہاں سے نہ جائے گا۔ وطن اقامت : وہ جگہ ہے کہ مسافر نے پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا وہاں ارادہ کیا ہو۔” (بہار شریعت ح ۴ ص٧۵۵ ، ٧۵٦) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٣/ذی الحجہ ١۴۴٣ھ//١٣/جولائی ٢٠٢٢ءدینی مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں
Kutubahu & Verified by:
<h3>وطن اصلی کے علاوہ جگہ میں اگر امام پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھائے یا قصر کرے؟</h3> السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ ایک امام صاحب ایک جگہ امامت کرتے تھے اور کچھ دن کے بعد امامت سے کسی وجہ سےمعزول کردیئے گئے تو انہوں نے وہیں پر ایک گھر لے لیا اور وہاں رہنے لگے اب 150 کیلومیٹر کی دوری پر امامت کرنے کیلئے جانا چاہتے ہیں اس شرط پر کہ ہفتہ دن رہوں گا دو دن کیلئے فیملی کے پاس گھر آونگا تو اس طریقے سے وہ مسافر رہے گا یا مقیم یا کوئی دوسری صورت اگر نکل سکتی ہے وہاں پر امامت کر سکتا اور ہفتہ دس میں آ نا جانابھی کرسکتا ہو تو اس سے بھی آگاہ فرمائیں المستفتی عبداللہ مہاراشٹر <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> جب کہ امام صاحب کی امامت کی جگہ اور ان کے مکان کے درمیان ایک سو پچاس کلو میٹر کی مسافت ہے (جو سفر شرعی کی مسافت یعنی بانوے کلو میٹر سے زائد ہے) اور امامت کی جگہ پر امام صاحب کی نیت پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی رہتی ہے تو امامت کی جگہ پر وہ مسافر ہی رہیں گے اور ان پر ظہر عصر اور عشاء کی فرض نماز دو رکعت ہی پڑھنا یا پڑھانا واجب ہوگا۔ اور جہاں امام صاحب نے گھر بنوالیا ہے اگر دائمی سکونت کی نیت سے بناکر بچوں کو رکھ لیا ہے تو وہاں آتے ہی ان کا سفر ختم ہوجائے گا اور وہ مسافر نہیں رہ جائیں گے اگرچہ ایک دن بھی ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو ، لیکن اگر دائمی سکونت کی نیت سے گھر نہیں بنایا ہے تو امامت کی جگہ سے وہاں آنے پر اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہوگی تو مسافر رہیں گے اور قصر کرنا واجب ہوگا اور اگر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کریں گے تو مسافر نہیں رہیں گے، بلکہ مقیم ہوجائیں گے۔ در مختار میں ہے: "(الْوَطَنُ الْأَصْلِيُّ) هُوَ مَوْطِنُ وِلَادَتِهِ أَوْ تَأَهُّلِهِ أَوْ تُوَطِّنْهُ۔"(کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر) رد المحتار میں ہے: (قَوْلُهُ أَوْ تَوَطُّنِهِ) أَيْ عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَعَدَمِ الِارْتِحَالِ وَإِنْ لَمْ يَتَأَهَّلْ، فَلَوْ كَانَ لَهُ أَبَوَانِ بِبَلَدٍ غَيْرِ مَوْلِدِهِ وَهُوَ بَالِغٌ، وَلَمْ يَتَأَهَّلْ بِهِ فَلَيْسَ ذَلِكَ وَطَنًا لَهُ إلَّا إذَا عَزَمَ عَلَى الْقَرَارِ فِيهِ وَتَرَكَ الْوَطَنَ الَّذِي كَانَ لَهُ قَبْلَهُ شَرْحُ الْمُنْيَةِ۔" (کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر) بہار شریعت میں ہے: "وطن اصلی : وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یا اس کے گھر کے لوگ وہاں رہتے ہیں یا وہاں سکونت کر لی اور یہ ارادہ ہے کہ یہاں سے نہ جائے گا۔ وطن اقامت : وہ جگہ ہے کہ مسافر نے پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا وہاں ارادہ کیا ہو۔" (بہار شریعت ح ۴ ص٧۵۵ ، ٧۵٦) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٣/ذی الحجہ ١۴۴٣ھ//١٣/جولائی ٢٠٢٢ء</strong></span> <h4><a href="https://www.sadaeislam.in/">دینی مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں</a></h4>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...